کیا جناح نے قرارداد پاکستان مجبوری میں اپنائی تھی؟


قراردادِ لاہور یا قرارداد پاکستان کو پیش ہوئے 81 سال کا عرصہ بیت چلا ہے مگر اس حوالے سے ہنوز بہت سے گوشے ابھی عام نہیں ہوئے اور اب بھی یہ بحث جاری ہے کہ کیا واقعی یہ قرارداد قیام پاکستان کی بنیاد ہے یا نہیں؟ تاریخ پاکستان کا مطالعہ کرنے والے تاریخ دانوں کا کہنا ہے کہ اس قرارداد کے الفاظ مبہم تھے اور اس میں شمال مغربی اور شمال مشرقی مسلم اکثریتی علاقوں کے نام بطور پاکستان کا حصہ شامل نہیں تھے۔ قرارداد لاہور میں یہ لکھا گیا تھا کہ ’ضروری علاقائی رد وبدل کے بعد جن خطوں میں عددی اکثریت ہے، ان کو باہم ملا کر خود مختار ریاستیں بنا دی جائیں۔
دوسری جانب جسونت سنگھ نے اپنی کتاب میں لکھا ہے کہ جواہر لال نہرو اور سردار ولبھ بھائی پٹیل دونوں نے ہی اقتدار جلدی میں حاصل کرنے کےلیے تقسیم کو قبول کر لیا تھا۔ جب کہ تقسیم ہند کے بارے میں قائد اعظم محمد علی جناح نے ایک بار کہا تھا کہ میں نے اکیلے پاکستان حاصل نہیں کیا۔ پاکستان کے قیام کی جدوجہد میں میرا ایک روپے میں دو آنے کا حصہ تھا۔ اس تگ و دو میں برصغیر کی مسلم قوم کا حصہ روپے میں چھ آنے کے برابر تھا اور قیام پاکستان میں اس برصغیر کی ہندو قوم کا حصہ روپے میں آٹھ آنے کے برابر تھا۔ ایک تاثر یہ بھی ہے یہ قرارداد ہی مطالبہ پاکستان کی جانب پہلا قدم تھی جب کہ حقیقت یہ ہے کہ قائداعظم اس منصوبے کو، جو اس سے پہلے چوہدری رحمت علی دے چکے تھے، ناقابل عمل سمجھتے تھے لیکن کانگریس سے سودے بازے کے لیے انہوں نے اس کو اپنا لیا جسے بعدازاں انہیں بادل نخواستہ قبول کرنا پڑا۔ کئی پاکستانی مؤرخین کے علاوہ بھارت کے ممتاز سیاستدان اور بی جے پی کے بانی رکن جسونت سنگھ کا بھی یہی موقف ہے۔ وہ بھارت کی خزانہ، دفاع اور خارجہ جیسی اہم وزارتوں پر فائز رہے۔ 2009 میں چھپنے والی اپنی کتاب ’جناح، انڈیا، پارٹیشن اینڈ انڈپینڈنس‘ میں انہوں نے جناح کی بجائے نہرو کو تقسیم کا ذمہ دار قرار دیا ہے۔
نواب سر محمد یامین خان جو مسلم لیگ کے سینیئر رہنما اور قائد اعظم کے قریبی رفقا میں شمار ہوتے تھے ان کی کتاب ’نامۂ اعمال‘ میں یکم مارچ 1939 کی تاریخ کا حوالہ دیتے ہوئے لکھا گیا ہے کہ ’ڈاکٹر ضیاء الدین نے مجھے، مسٹر جناح، سر ظفراللہ خان، سید محمد حسین کو الہ آباد بلایا۔ دوپہر کے کھانے پر سید محمد حسین نے چوہدری رحمت علی کی اسکیم سنانا شروع کر دی جس کے مطابق پنجاب، کشمیر، صوبہ سرحد، سندھ، بلوچستان کو ملا کر بقیہ ہندوستان سے علیحدہ کر دیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ ان علاقوں سے پاکستان اس طرح بنتا ہے کہ پ سے پنجاب، الف سے افغانیہ یعنی صوبہ سرحد، ک سے کشمیر، س سے سندھ اور تان بلوچستان کا اخیر ہے۔ نواب یامین کے مطابق چونکہ سید محمد حسین زور زور سے بول رہے تھے اس لیے سر ظفر اللہ خان نے آہستہ سے مجھ سے کہا کہ ’اس شخص کا حلق بڑا ہے مگر دماغ چھوٹا ہے۔‘ مسٹر ظفر اللہ خان ان کی مخالفت کر رہے تھے اور انکا موقف تھا کہ یہ منصوبہ ناقابل عمل ہے۔ نواب یامین کے مطابق مسٹر جناح دونوں کے دلائل غور سے سنتے رہے اور پھر مجھ سے بولے کہ ’کیوں نہ ہم اس کو اپنا لیں اور اس کو مسلم لیگ کا نعرہ بنا لیں۔ انکا کہنا تھا کہ ابھی تک ہماری کوئی خاص مانگ نہیں ہے۔ اگر ہم اس مطالبے کو اٹھائیں گے تو ہماری کانگریس سے مصالحت ہو سکے گی ورنہ وہ نہیں مانیں گے۔‘
بیگم شائستہ اکرام اللہ اپنی کتاب ’فرام پردہ ٹو پارلیمنٹ‘ میں بھی لکھتی ہیں کہ ’اکثر مسلمانوں کے نزدیک پاکستان ایک تصور تھا حقیقت نہ تھی۔ بڑے بڑے مسلمان لیڈروں کا بھی یہ خیال تھا کہ کسی قسم کا باہمی سمجھوتہ ہو جائے گا اور وہ متحدہ ہندوستان کے اندر اپنی جداگانہ حیثیت برقرار رکھ سکیں گے۔ قائد اعظم کا بھی یہی خیال تھا۔ مجھے یاد ہے کہ جب پہلی بار اکتوبر 1941 میں ان سے ملی تو انہوں نے کہا کہ کینیڈا کا آئین ہمارے لیے مسائل کا بہترین حل ہے۔ قرار داد پاکستان کے سات سال بعد تک ایک طرف برطانوی حکومت اور دوسری طرف کانگریس سے وہ باہمی سمجھوتے کی بات کرتے رہے اور اس دوران میں ایک سے زائد بار تقریباً سمجھوتہ ہو بھی گیا تھا جو اس بات کا ثبوت ہے کہ وہ دو ٹوک بٹوارہ نہیں چاہتے تھے۔ باہمی سمجھوتے میں ناکامی ہوئی تو اس کی ذمہ داری قائد اعظم پر نہیں کانگریسی لیڈروں کی تنگ دلی اور تعصب پر تھی۔‘
قائد اعظم کے اسی مؤقف کی تائید ’مسلم پنجاب کا سیاسی ارتقا‘ از زاہد چوہدری و حسن جعفری کے صفحہ 325 پر بھی ہوتی ہے جس میں 14 اگست 1947 کو کراچی کے ایڈمنسٹریٹر سید ہاشم رضا کے حوالے سے لکھا ہے کہ جب قائد اعظم آزادی کی تقریب میں تشریف لائے تو ’نیویارک ٹائمز‘ کے نمائندہ نے انہیں کہا کہ ’میں آپ کو مبارکباد پیش کرتا ہوں آخر کار آپ نے پاکستان لے ہی لیا۔‘ قائد اعظم نے یہ سن کر کہا: ’میں نے اکیلے پاکستان حاصل نہیں کیا۔ پاکستان کے قیام کی جدوجہد میں میرا ایک روپے میں دو آنے کا حصہ تھا۔ اس تگ و دو میں برصغیر کی مسلم قوم کا حصہ روپے میں چھ آنے کے برابر تھا اور قیام پاکستان میں اس برصغیر کی ہندو قوم کا حصہ روپے میں آٹھ آنے کے برابر تھا۔‘
قائد اعظم نے اپنے موقف کی مزید وضاحت پیش کرتے ہوئے کہا: ’جس زمانے میں مصر میں سعد زغلول پاشا کی حکومت تھی ۔ مصر کے عیسائیوں نے اپنے حقوق کےلیے تحریک شروع کر دی۔ ان کا آبادی میں تناسب 13 فیصد تھا۔
لیکن وہ 20 فیصد کے تناسب سے حقوق مانگتے تھے۔ یہ قضیہ روز بروز سنگین ہو رہا تھا۔ سعد زغلول پاشا نے اپنی پارٹی کا اجلاس بلایا اور اس تصفیے کے حل کا اختیار حاصل کیا۔ انہوں نے عیسائیوں کو کہا کہ ہم آپ کو 20 کی بجائے 25 فیصد تناسب کے حقوق دیتے ہیں۔ عیسائی خوش ہوگئے۔ عیسائی 25 فیصد حاصل کرکے بھی 75 فیصد مسلمانوں کا کچھ نہیں بگاڑ سکتے تھے۔‘
قائد اعظم نے فرمایا، ’بعینہ یہی مسئلہ برصغیر کا بھی تھا۔ مسلمان بلحاظِ تناسب ہندو قوم سے کہیں زیادہ اقلیت میں تھے اگر ہندو قیادت بھی سعد زغلول پاشا جیسی فراخ دلی کا ثبوت پیش کرتی تو برصغیر کے مسلمانوں کو الگ وطن حاصل کرکے اپنے آپ کو محفوظ رکھنے کی ضرورت کیوں پیش آتی۔‘
قرار دادِ لاہور پر ایک اعتراض یہ بھی کیا جاتا ہے کہ اس کے الفاظ مبہم تھے اور اس میں شمال مغربی اور شمال مشرقی مسلم اکثریتی علاقوں کے نام نہیں لکھے گئے تھے بلکہ یہ لکھا گیا تھا کہ ’ضروری علاقائی رد وبدل کے بعد جن خطوں میں عددی اکثریت ہے ان کو باہم ملا کر خود مختار ریاستیں بنا دی جائیں۔‘
چنانچہ بعض مورخین یہ اعتراض کرتے ہیں کہ اگر اس قرارداد میں علاقائی ردو بدل کا ذکر نہ ہوتا تو 1947 میں پنجاب اور بنگال کی تقسیم نہ ہوتی، لاکھوں بے گناہ لوگوں کا قتل عام نہ ہوتا اور کروڑوں لوگوں کو جبری انخلا بھی نہ ہوتا۔
عاشق بٹالوی اپنی کتاب ’ہماری قومی جدوجہد‘ میں لکھتے ہیں: ’میں نے قراردادِ لاہور میں ترمیم پیش کرتے ہوئے کہا تھا کہ ’اگر آپ پنجاب اور بنگال کو مجوزہ مملکتوں میں شامل کرنا چاہتے ہیں تو جہاں آپ نے ہندوستان کے شمال مغربی اور مشرقی منطقوں کا ذکر کیا ہے وہاں صاف لفظوں میں ان صوبوں کے نام لیجیے تاکہ ہمارے غاصب اور مخالف دونوں ہمارے مطالبے کی حقیقت ابھی سمجھ جائیں ورنہ علاقائی ردو بدل کے بعد پنجاب اور بنگال کا نصف حصہ کٹ جائے گا۔‘ بٹالوی کے مطابق میری ترمیم کا جواب نوابزادہ لیاقت علی خان نے یہ دیا کہ ’ہم علاقائی ردو بدل کے تحت دہلی اور علی گڑھ جو ہماری تہذیب کے مرکز ہیں مجوزہ مملکت میں شامل کرنا چاہتے ہیں اس لیے آپ مطمئن رہیے علاقائی ردو بدل کا یہ مطلب نہیں کہ پنجاب کا کوئی حصہ ہاتھ سے دینا پڑے گا۔”
تین جون 1947 کو جب لارڈ ماؤنٹ بیٹن نے منتقلی اقتدار کا فارمولا دیا تو قائداعظم نے اسے تسلیم کرنے سے انکار کر دیا تھا۔ ایلن کیمبل جانسن جو کہ لارڈ ماؤنٹ بیٹن کے پریس اتاشی تھے وہ اپنی یادداشتوں کی کتاب ’مشن ود ماؤنٹ بیٹن‘ میں لکھتے ہیں کہ قائداعظم نے ماؤنٹ بیٹن کے دباؤ کو خاطر میں نہ لاتے ہوئے تین جون کے پلان کو مسترد کر دیا اور کہا کہ وہ اپنی پارٹی کی منظوری کے بغیر کوئی یقین دہانی نہیں کروا سکتے۔ اس پر لارڈ ماؤنٹ بیٹن نے دھمکی دی کہ نہرو، کرپلانی اور پٹیل صاف صاف کہہ چکے ہیں کہ اگر قائداعظم نے اسے منظور نہیں کیا تو وہ بھی اسے رد کر دیں گے۔ جس پر قائداعظم نے کہا کہ وہ پوری مسلم لیگ کی کونسل کی منظوری کے بغیر اپنے طور پر فیصلے کا اختیار نہیں رکھتے۔ جس پر ماؤنٹ بیٹن نے کہا کہ ’آپ کا رویہ یہی رہا تو انتشار پھیل جائے گا اور آپ ہمیشہ ہمیشہ کےلیے پاکستان سے ہاتھ دھو لیں گے۔‘ اس پر جناح نے اپنے کندھوں کو جنبش دیتے ہوئے کہا کہ ’تو پھر؟ تو پھر؟
دراصل قائداعظم آخر تک ایک کنفیڈریشن کے حامی تھے جس میں مسلمانوں کو زیادہ سے زیادہ سیاسی حقوق مل سکیں مگر برطانیہ، نہرو اور پٹیل تینوں کچھ اور فیصلہ کیے ہوئے تھے۔ جسونت سنگھ نے جب یہ تاریخی حقیقت آشکار کی تو انہیں بی جے پی سے نکال دیا گیا۔ جسونت نے قائداعظم کو ایک عظیم سکیولر لیڈر قرار دیتے ہوئے لکھا تھا کہ جواہر لال نہرو اور سردار ولبھ بھائی پٹیل دونوں نے ہی اقتدار جلدی میں حاصل کرنے کےلیے تقسیم کو قبول کرلیا تھا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button