کیا جنرل اسد درانی کے کیس میں عدلیہ پر دباؤ ڈالا جارہا تھا؟

اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس محسن اختر کیانی کی جانب سے آئی ایس آئی کے سابق سربراہ اسد درانی کی ایگزٹ کنٹرول لسٹ سے نام نکالنے کی درخواست پر فیصلہ دینے سے چند گھنٹے اپنا ذہن بدلتے ہوئے یہ مقدمہ چیف جسٹس اطہر من اللہ کو بھیجنے کا فیصلہ سوشل میڈیا پر زیر بحث ہے اور یہ سوال کیا جا رہا ہے کہ کیا جسٹس کیانی پر مرضی کے فیصلے کے لیے کہیں سے دباؤ ڈالا جارہا تھا۔
یاد رہے کہ 12 فروری کے روز سابق ڈی جی آئی ایس آئی لیفٹینینٹ جنرل (ر) اسد درانی کا نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ سے نکالنے کی درخواست پر سماعت کے دوران جسٹس محسن کیانی نے وکلا کو آگاہ کیا کہ وہ اس مقدمے کی مزید سماعت سے معذرت چاہتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ ‘میں اس کیس کا سارا بیگ گراؤنڈ جانتا ہوں اور فیصلہ لکھنے کے مرحلے میں تھا لیکن یہ افسوسناک ہے کہ اب میں اس کیس کی مزید سماعت نہیں کر سکتا۔’ جسٹس محسن اختر کیانی نے سماعت کے دوران عدالت میں موجود وکلا اور فریقین کو آگاہ کیا کہ ‘کچھ ایسی وجوہات ہیں جو بتائی نہیں جا سکتیں، میں یہ کیس چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ کو بھیج رہا ہوں، وہ نیا بینچ تشکیل دینے کا فیصلہ کریں گے۔’
اس سے پہلے جنرل ریٹائرڈ اسد درانی نے اسلام آباد ہائی کورٹ میں ای سی ایل سے نام نکالنے کی درخواست دائر کی تھی جبکہ وزارت دفاع نے مخالفت کرتے ہوئے سابق ڈی جی آئی ایس آئی پر ریاست مخالف سرگرمیوں میں ملوث ہونے کا الزام عائد کیا تھا۔ خیال رہے کہ پاکستانی فوج کے خفیہ ادارے آئی ایس آئی کے سابق سربراہ نے انڈیا کے خفیہ ادارے ریسرچ اینڈ اینالسز ونگ یعنی را کے سابق سربراہ کے ساتھ ایک مشترکہ کتاب لکھی تھی جس کو دونوں ملکوں میں پذیرائی حاصل ہوئی تھی۔ تاہم وزارت دفاع نے اس کتاب کا نوٹس لیتے ہوئے جنرل اسد درانی کے خلاف کارروائی شروع کر دی تھی اور ان کا نام ای سی ایل میں ڈال دیا تھا۔ جب اسد درانی نے اپنا نام ای سی ایل سے نکالنے کے لئے اسلام آباد ہائی کورٹ میں درخواست دائر کی تو حکومت نے یہ الزام عائد کیا کہ آئی ایس آئی کے سابق سربراہ کے خلاف ملک دشمن ایجنسیوں سے تعلقات رکھنے کے الزام پر اعلی سطحی تحقیقات جاری ہیں جن کے مکمل ہونے کے بعد ان کی گرفتاری کا بھی امکان ہے، اسی لئے ان کا نام ای سی ایل میں ڈالا گیا ہے تا کہ وہ ملک سے باہر نہ جا سکیں۔
27 جنوری کے روز وزارت دفاع نے اسد درانی کا نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ سے نکالنے کے بارے دائر درخواست پر اسلام آباد ہائی کورٹ میں جواب جمع کرواتے ہوئے کہا تھا کہ آئی ایس آئی کے سابق سربراہ کے ’انڈین خفیہ ادارے را کے ساتھ سنہ 2008 سے تعلقات ہیں۔‘ وزارت دفاع کے جواب میں یہ الزام بھی لگایا گیا ہے کہ اسد درانی ’ملک دشمن سرگرمیوں میں ملوث ہیں‘۔ وزارت دفاع کا کہنا ہے کہ اسی بنیاد پر ان کا نام ای سی ایل سے نہیں نکالا جاسکتا، جس کی وجہ سے وہ ملک سے باہر قدم نہیں رکھ سکتے۔ تاہم اسد درانی ان الزامات کو سختی سے مسترد کر چکے ہیں۔
واضح رہے کہ اسد درانی نے انڈین خفیہ ادارے را کے سابق سربراہ اے ایس دلت کے ساتھ ایک کتاب لکھی تھی جس میں پاکستانی حکام کے بقول ایسا مواد بھی شامل تھا جو کہ پاکستان کی قومی سلامتی سے متعلق ہے۔ اس کتاب میں انہوں نے فوج کے موجودہ سربراہ لیفٹیننٹ جنرل قمر جاوید باجوہ پر بھی بالواسطہ طور پر تنقید کی ہے۔ وزارت دفاع کا موقف ہے کہ اسد درانی نے انڈین را کے سابق سربراہ کے ساتھ مل کر کتابیں لکھ کر آفیشل سیکرٹ ایکٹ 1923 کی بھی خلاف ورزی کی ہے اور اس جرم پر کارروائی آرمی ایکٹ کے تحت کی جاتی ہے۔ حکومت نے اسلام آباد ہائی کورٹ کو آرمی ایکٹ سنہ 1952 کا بھی حوالہ دیا اور کہا کہ درحواست گزار تو فوج میں رہے ہیں لیکن اگر کوئی سویلین بھی ایسی سرگرمیوں میں ملوث ہو جس سے ملکی مفاد کو خطرہ ہو تو اس ایکٹ کے تحت اس کا بھی کورٹ مارشل ہوسکتا ہے۔ وزارت دفاع کے جواب میں ای سی ایل کے قانون کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ اگر کوئی شخص دہشت گردی کے واقعات میں ملوث ہو یا جس سے قومی سلامتی کو خطرہ ہو تو وفاقی حکومت کے پاس یہ اختیار ہے کہ وہ اس شخص کا نام نوٹس دیے بغیر ای سی ایل میں شامل کر دے اور اسے ملک چھوڑنے کی اجازت نھیں دی جاسکتی.
وزارت دفاع کا کہنا تھا کہ لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ اسد درانی کے خلاف تحقیقات آخری مراحل میں ہیں اور ایسے مرحلے پر ان کا نام ای سی ایل سے نھیں نکالا جاسکتا۔ وزارت دفاع کا کہنا ہے کہ اس مرحلے پر درخواست گزار کا ملک سے باہر جانے کا مقصد کانفرنسز، فورمز اور ٹاک شوز میں حصہ لینا ہے جس سے ملکی سلامتی کے لیے پیچیدگیاں پیدا ہو سکتی ہیں۔‘
تاہم عدالت میں جمع کروانے گے جواب میں آئی ایس آئی کے سابق سربراہ اسد درانی نے ان تمام الزامات کو سختی سے رد کیا ہے۔ ان کا موقف تھا کہ وہ پہلے ریٹائرڈ فوجی افسر نہیں ہیں جس نے کہ کتاب لکھی ہے اور ماضی میں بھی ایسی کتابیں لکھنے والے ریٹائرڈ فوجی حضرات نے کسی سے کوئی کلیئرنس حاصل نہیں کی تھی۔ اس سے پہلے بی بی سی سے ایک انٹرویو میں اسد درانی نے کہا تھا کہ ‘جب تک کسی کتاب میں تنازع نہ ہو تو پھر فائدہ کیا ہے؟ وہ تو پھر ایک سرکاری قسم کی تحریر ہو گی جو آپ آئی ایس پی آر سے لے لیں یا سرکار سے لے لیں۔ تنازع تو آپ کو پیدا کرنا ہوتا ہے تاکہ بحث ہو سکے.
ریاست کے راز افشا کرنے کے الزامات کے جواب میں انھوں نے کہا تھا کہ ‘اس حوالے سے شور تو بہت مچایا گیا ہے لیکن کسی نے آج تک انہیں یہ نہیں بتایا کہ اس کتاب میں ریاست سے منسلک کون سے راز تھے۔ انکا کہنا تھا کہ آفیشل سیکرٹ ایکٹ کے تحت لوگوں پر مقدمہ چلانا سب سے آسان کام ہے۔ جتنی باتیں راز تھیں وہ بھی آہستہ آہستہ کسی نے اِدھر سے بتا دیں، کسی نے اُدھر سے، تو رازداری کی تو اب کوئی بات باقی نھیں ہے۔ مجھے ایسا لگتا ہے کہ کتاب لکھ کر میں نے کسی کی کمزوری کو ظاہر کر دیا ہے یا کسی کی دُم پر پاؤں رکھ دیا ہے۔ انھوں نے کہا کہ فوج میں کئی لوگوں نے اپنی کتابیں لکھیں اور کسی نے ان سے نھیں پوچھا کہ انھوں نے کیا لکھا ہے اور کیوں۔’ ’مجھے ریٹائرمنٹ کے وقت اس وقت کے آرمی چیف جنرل وحید کاکڑ نے کہا تھا کہ تمھیں خود دیکھنا ہے کہ اپنی بات کہاں تک لکھنی ہے اور کہاں تک نھیں۔ اپنا سینسر خود ہی کرو اور اصول بھی یہی ہے۔’
یاد رہے کہ 80 سالہ اسد درانی پاکستانی فوج کے ایک ریٹائرڈ لیفٹیننٹ جنرل ہیں۔ انھیں سنہ 1988 میں بطور ڈائریکٹر جنرل ملٹری انٹیلیجنس تعینات کیا گیا تھا۔ جبکہ سنہ 1990 میں انھیں بطور ڈی جی آئی ایس آئی مقرر کیا گیا تھا۔
سنہ 1993 میں ریٹائر ہونے کے بعد انھوں نے پاکستان کے سفیر کے طور پر جرمنی اور سعودی عرب میں بھی اپنے فرائض انجام دیے ہیں۔ اسد درانی اکثر تنازعات کی زد میں رہتے ہیں، چاہے وہ ان کی چھپنے والی دو کتابوں میں موجود معلومات سے متعلق ہو یا پھر اسامہ بن لادن سے منسلک ان کے بیانات جنھیں وہ اپنا ‘تجزیہ’ کہتے ہیں۔
سپائی کرانیکلز کے مصنف جنرل اسد درانی کو 90 کی دہائی میں ہی فوج سے بے دخل کیا گیا تھا۔ یاد رہے کہ اسد درانی نے یہ الزام سپریم کورٹ میں تسلیم کیا تھا کہ انہوں نے 1990 کے الیکشن د6ے پہلے آرمی چیف جنرل مرزا اسلم بیگ کے کہنے پر بے نظیر ھٹو کے مخالف سیاستدانوں میں کروڑوں روپے تقسیم کیے تھے تاکہ نواز شریف کی زیر قیادت اسلامی جمہوری اتحاد کو کامیاب کروایا جا سکے۔ اس معاملے کو اصغر خان کیس کے نام سے بھی یاد کیا جاتا ہے جنہوں نے سپریم کورٹ میں ایک پٹیشن دائر کی تھی تاکہ کہ یہ رقم تقسیم کرنے والوں کے خلاف قانونی کاروائی ہو سکے۔
اصغر خان کیس میں ان کا نام آنے کے بعد اسد درانی کو آئی ایس آئی سے جی ایچ کیو بلوا لیا گیا تھا اور پھر جب دوبارہ یہ الزام سامنے آیا کہ وہ اب بھی سیاسی امور میں مداخلت کر رہے ہیں تو انھیں قبل از وقت ریٹائر کر دیا گیا تھا۔
اسد درانی اپنی کتاب ‘اونر امنگسٹ سپائیز’ کے چھپنے کے بعد بھی خبروں میں رہے۔ یہ کتاب ان کی پہلی چھپنے والی کتاب ‘سپائی کرونیکلز’ کے سلسلے کی دوسری کتاب ہے جس میں انہوں نے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کی سیاسی کردار پر بھی تنقید کی ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button