کیا جنرل اسلم بیگ خود پر لگے داغ دھو پائیں گے؟

سینئر صحافی اعزاز سید نے پاکستان کے نویں آرمی چیف جنرل اسلم بیگ کی سوانح حیات بعنوان ’’اقتدار کی مجبوریاں‘‘ پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ 17 اگست 1988 سے 16 اگست 1991 تک ملک کے اہم ترین عہدے پر فائز رہنے والے اسلم بیگ اگر مکمل حقائق عوام کو نہیں بتائیں گے اور مرضی کے سچ بولیں گے تو انکی ادھوری سوانح عمری ان کی شخصیت پر لگے ہوئے الزامات کے داغ دھونے کی بجائے انہیں مذید گہرا ضرور کر جائے گی۔
اپنی تازہ تحریر میں اعزاز سید کہتے ہیں کہ اقتدار میں رہنے والوں کا ایک بڑا المیہ یہ ہوتا ہے کہ پہلے انہیں اقتدار حاصل کرنے اور پھر اس کے استحکام و دوام کے لئے اچھے برے کام کرنا پڑتے ہیں۔ اس سب کے بعد یہ فطری خواہش بھی ہوتی ہے کہ انہیں اچھے نام سے ہی یاد رکھا جائے۔ اسی خواہش کی تکمیل کے لئے سوانح عمریاں لکھی یا لکھوائی جاتی ہیں۔ اقتدار والوں کی سوانح عمریاں عمومی طور پر دو طرح کی ہوتی ہیں۔ پہلی وہ جن میں خود کو فرشتہ بنا کر پیش کیا جاتا ہے اپنی غلطیوں کو دوسروں کے سر تھونپا جاتا ہے یا اسے حالات کا جبر قرار دیا جاتا ہے۔ دوسری قسم ایسی کتابوں کی ہوتی ہے جن میں کردار بیباکی سے اپنے ماضی کا تذکرہ اور غلطیوں کا اعتراف کرتے ہیں۔ یوں قوم کے سامنے تاریخ کے کچھ حقائق آتے ہیں اور وہ اپنی سمت کا تعین کرتی ہے۔ لیکن مجبوریوں سے آزاد ایسی کتابیں پاکستان میں بہت کم ہیں۔
اعزاز سید کہتے ہیں کہ پاکستان کے نویں آرمی چیف جنرل اسلم بیگ کی ’’اقتدار کی مجبوریاں‘‘ نامی سوانح حیات میں انہیں ایک ایسا آزاد منش اور بےنیاز آدمی بنا کر پیش کیا گیا ہے کہ جس سے کوئی غلطی سرزد ہوئی ہی نہیں اور اگر کچھ غلط ہوا بھی تو یہ کسی دوسرے کی سازش تھی۔ کتاب میں کچھ اچھی باتیں بھی ہیں جیسے ان کی طرف سے جنرل ضیاء کی وفات کے بعد ملک میں مارشل لا کے نفاذ سے گریز کرنا وغیرہ مگر کچھ ایسے موضوعات بھی ہیں جن پر یا تو سرے سے معلومات دی ہی نہیں گئیں یا پھر ادھوری بات کی گئی ہے جو تاریخ کے ساتھ سراسر زیادتی ہے۔
سب سے پہلے کتاب میں جنرل اسلم بیگ کی بطور آرمی چیف تعیناتی کے دوران پیپلز پارٹی کو کمزور کرنے اور اسے انتخابات میں شکست دلوانے کے لئے قائم کیے گئے اسلامی جمہوری اتحاد کا تذکرہ سرے سے موجود ہی نہیں۔ تاہم اس حوالے سے شہرہ آفاق اصغر خان کیس کا تذکرہ ایک سازش کے تناظر میں ضرور کیا گیا ہے۔ جنرل اسلم بیگ فرماتے ہیں کہ 1994میں بےنظیر بھٹو کی حکومت دوبارہ بنی تو ان کے خلاف سازشی کارروائی کا آغاز ہوا۔ اس وقت کے ڈائریکٹر ایف آئی اے رحمٰن ملک کو ذمہ داری سونپی گئی جنہوں نے 6 جنوری 1994 کو جرمنی جاکر سابق ڈی جی آئی ایس آئی اسد درانی سے اپنے مطلب کا بیان لیا۔ یاد رہے کہ اس بیان میں اسد درانی نے بتایا تھا کہ انہوں نے آئی جے آئی نامی سیاسی اتحاد کے لیڈروں میں فنڈز جنرل اسلم بیگ کے کہنے پر بانٹے تھے تا کہ الیکشن میں بے نظیر بھٹو کی شکست کو یقینی بنایا جا سکے۔
اعزاز سید کہتے ہیں کہ جنرل بیگ کے مطابق پیپلز پارٹی نے اسد درانی کو جرمنی کا سفیر تعینات کرکے ان کی وفاداری خرید لی تھی۔ درانی نے بےنظیر کے نام اپنے دستخطوں سے ایک خط لکھا جسے بعد میں ان کے خلاف استعمال کیا گیا۔ اسلم بیگ اسی تناظر میں کچھ دوسری تفصیلات بیان کرتے ہوئے آگے جاکر یہ انکشاف بھی کرتے ہیں کہ اس وقت کے آرمی چیف جنرل عبدالوحید کاکڑ نے ان کے خلاف فوج کے پلیٹ فارم سے تو کارروائی نہ کی تاہم وہ سول عدالت میں ان کی ’’خاطر مدارت‘‘ کے خواہش مند تھے۔ یعنی پیپلز پارٹی ان کے خلاف سازش کررہی تھی، ان کے جونیئر اسد درانی خرید لئے گئے تھے اور اس دور کے آرمی چیف بھی انہیں سول عدالت میں سبق سکھانا چاہتے تھے۔ اعزاز سید سوال کرتے ہیں کہ کیا تاریخ کا کوئی ادنیٰ طالب علم بھی جنرل بیگ کی یہ باتیں مانے گا؟ وہ بتاتے ہیں کہ جنرل اسلم بیگ کی سوانح حیات دراصل کرنل اشفاق حسین کی لکھی ہوئی یے اور بنیادی طور پر انٹرویو سٹائل میں یے۔ کتاب پڑھتے ہوئے مجھے خیال آیا کہ میں اشفاق صاحب سے رابطہ کرکے پوچھوں کہ انہوں نے میاں نواز شریف کی سربراہی میں آئی جے آئی کی تشکیل کے بارے میں تفصیلات کتاب میں شامل کیوں نہیں کیں؟ یہ وہ معاملہ ہے جس پر سپریم کورٹ اسلم بیگ کو باقاعدہ مجرم قرار دے چکی ہے۔ کھلی عدالت میں سابق بینکار یونس حبیب ڈالیا نے بھی جنرل اسلم بیگ کی موجودگی میں اعتراف کیا تھا کہ کس طرح انہوں نے جناب بیگ کی ہدایات پر ’’قومی مفاد میں‘‘ پیسوں کا انتظام کیا پھر وہ رقم مختلف سیاستدانوں میں بانٹی گئی۔
اعزاز سید کہتے ہیں کہ جب اشفاق حسین سے رابطہ ہوا تو انہوں نے کھلے دل سے بتایا کہ آئی جے آئی والی بات ان کے ذہن میں نہیں آئی اس لئے پوچھی بھی نہیں لہٰذا یہ معاملہ کتاب میں شامل نہیں۔ کتاب میں جنرل بیگ نے اپنے خلاف کیس کو سازش قرار دیا پتہ نہیں یہ ان کی طرف سےسپریم کورٹ کے فیصلے کی توہین ہے یا نہیں البتہ یہ ایک حقیقت ہے کہ اعلیٰ ترین عدالت کا ان کے خلاف فیصلہ ابھی تک عملدرآمد کا منتظر ہے۔ اعزاز بتاتے ہیں کہ کتاب میں ایک دوسرا موضوع بھی ہے جسے پڑھ کر تشنگی نہ صرف برقرار رہتی ہے بلکہ کتاب کے ادھورے پن کا احساس بھی دلاتی ہے۔ 17اگست 1988کو بہاولپور میں جنرل ضیاء الحق کے طیارے کو پیش آنے والے حادثے کا معاملہ بھی یہی ہے۔ اس وقت اسلم بیگ وائس چیف تھے یعنی جنرل ضیاء کے بعد سب سے اہم افسر اور اس حادثے کے سب سے بڑے بینی فشری۔ اسلم بیگ نے طیارہ حادثہ کی تحقیقات کا ذکر صرف اتنا کیا ہے کہ بےنظیر اور نواز شریف کے ساتھ انہوں نے تحقیقات کی بات کی تھی بعد میں ایک کمیشن نے اس معاملے کو طیارے کا حادثہ قراردے دیا۔ جنرل بیگ نے بالواسطہ طور پر کہا ہے کہ طیارہ چونکہ پاکستان ائیر فورس کا تھا لہٰذا تحقیقات کی اصل ذمہ داری ان کی ہی بنتی تھی۔ حقیقت یہ ہے کہ اس حادثے کی تحقیقات پاک فوج اور اس کے خفیہ اداروں نے بھی کی تھی جن کی رپورٹس اور دیگر معلومات سے جنرل اسلم بیگ واقف ہیں تاہم ان کا تذکرہ نہیں کیا گیا۔ جنرل اسلم بیگ بطور آرمی چیف اس حادثے کے بارے میں کتاب میں درج واقعات سے کہیں زیادہ آگاہ رہے ہیں مگر نجانے کیا معاملہ ہے کہ وہ آج بھی اس حادثے پر مکمل حقائق بیان کرنے سے گریزاں ہیں جس سے کتاب ادھوری لگتی ہے۔
آخر میں جنرل صاحب سے معذرت کے ساتھ عرض ہے کہ اگر وہ مکمل حقائق عوام کو نہیں بتائیں گے تو ان کی ادھوری سوانح حیات ان کی شخصیت پر لگے داغ تو نہیں دھو پائے گی البتہ انہیں اور گہرا ضرور کر جائے گی۔ باقی آپ کی مرضی۔
