کیا جنرل باجوہ کا نیا بیانیہ سقوط کشمیر کے مترادف ہے؟


آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کی جانب سے اپنے گھر کو درست کرنے اور ازلی دشمن بھارت سے بالواسط طور پر معاملات بہتر کرنے کے اعلان کو ناقدین کی جانب سے سقوط کشمیر کا باضابطہ اعلان قرار دیا جا رہا ہے اور کشمیر کی آزادی کے لیے کوشاں تنظیمیں بھی اس پر اپنے تحفظات کا اظہار کرر ہی ہیں۔
آرمی چیف جنرل قمر جاوید کی جانب سے قومی مفاد میں بالواسطہ طور پر بھارت کے ساتھ دوستی کا عندیہ دیئے جانے کے بعد کپتان حکومت اور سیکورٹی اسٹیبلشمنٹ شدید تنقید کی زد میں ہیں۔ ناقدین فوجی اسٹیبلشمنٹ پر یہ کہہ کر تنقید کر رہے ہیں کہ گزشتہ برس وزیر اعظم عمران خان نے جنرل باجوہ کو مسئلہ کشمیر پر تناؤ کی آڑ میں ہی مذید تین برس کی ایکسٹینشن دی تھی مگر اب یہ کشمیر پر سودے بازی کی باتیں کر رہے ہیں۔ جنرل باجوہ کی جانب سے اب قومی مفاد کی بنیاد پر بھارت کی جانب دوستی کا ہاتھ بڑھانے اور مسئلہ کشمیر کا پرامن حل تلاش کرنے کی بات کی جا رہی ہے مگر جب ماضی میں سویلین حکمرانوں کی جانب سے ایسی تجاویز پیش کی جاتی تھیں تو اسے غدار قرار دیا جاتا تھا۔ ناقدین کہتے ہیں کہ عمران خان کو اقتدار میں لانے سے پہلے فوجی اسٹیبلشمنٹ بھارت کے ساتھ پاکستان کے معاملات بہتر کرنے کی بات کرنے والوں کو مودی کا یار قرار دیتی تھی اور اب خود مودی کو یار بنانے کی کوشش شروع کر دی ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ مقبوضہ کشمیر کی خود مختار حیثیت کو تبدیل کرنے والی مودی حکومت کو یہ جابرانہ فیصلہ تبدیل کرنے پر مجبور کرنے کی بجائے اب موجودہ سیاسی اور فوجی قیادت اب نام نہاد قومی مفاد کے نام پر بھارت کے ساتھ دوستی کا نیا بیانیہ لیکر چل پڑی ہے جو کہ قومی امنگوں کا خون کرنے کے مترادف ہے۔
ناقدین کا کہنا ہے کہ آرمی چیف جنرل قمر باجوا کے اس بیان سے ایک روز پہلے عمران خان نے بھی اسی طرح کا بیان داغا اور بھارت کے ساتھ تعلقات بہتر بنانے کی ضرورت پر زور دیا۔ یوں عمران خان نے اپنی اتحادی فوجی اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ گٹھ جوڑ کرکے سقوط کشمیر کی بنیاد رکھ دی ہے اور کل تک پاکستان کی شہ رگ قرار دیا جانے والا کشمیر اب بھارت کی جھولی میں ڈالنے کی تیاریاں ہو رہی ہیں۔
ناقدین کا کہنا ہے کہ ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ بھارت کی جانب سے کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنے کے بعد اس کا ناطقہ بند کر دیا جاتا لیکن اسکے برعکس ایک پیج پر ہونے کی دعوے دار سیاسی اور فوجی قیادت نے کشمیر کا سودا کر دیا ہے۔ یہ سوال بھی اٹھایا جا رہا ہے کہ کیا مسئلہ کشمیر کا بہانہ بنا کر جنرل قمر باجوہ کو ایکسٹینشن دینے کا اصل مقصد سقوط کشمیر تھا؟
یاد رہے کہ جنرل باجوہ نے حالیہ دنوں پاک بھارت تعلقات کے حوالے سے اسلام اباد میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ ہمیں ماضی کو دفن کر آگے بڑھنا چاہیے اور اپنے گھر کو درست کرنے پر توجہ دینی چاہیے۔ اس سے پہلے 2016 میں جب وزیراعظم نواز شریف نے فوجی قیادت سے یہی بات کہی تھی تو اسٹیبلشمنٹ نے اس پر سیخ پا ہو کر انہیں غدار قرار دے دیا تھا۔
جنرل باجوہ کے تازہ بیانیے پر نہ صرف پاکستان میں تنقید ہو رہی ہے بلکہ آزاد کشمیر میں کام کرنے والی کشمیری تنظیمیں بھی اس کو ہدف تنقید بنارہی ہیں۔ کشمیری قوم پرست حلقوں کا خیال ہے کہ یہ بیان اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ پاکستان متنازعہ علاقے میں اسٹیٹس کو چاہتا ہے۔ پاکستان کے زیر انتطام کشمیر میں کام کرنے والی جے کے ایل ایف کے صدر ڈاکٹر توقیر گیلانی کا کہنا ہے کہ پاکستان پہلے اقدامات کرے، بجائے اس کے آرمی چیف بھارت سے کہیں کہ وہ پہل کرے پاکستان کو خود پہل کرنا چاہیے اور اپنی فوجیں یہاں سے نکالنی چاہیے۔ پاکستان کو گلگت بلتستان اور کشمیر کو ایک خود مختار علاقہ بنانا چاہیے، جی بی میں اسٹیٹ سبجیکٹ رول بحال ختم کرنا چاہیے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ اس بیان سے لگتا ہے کہ پاکستان اسٹیٹس کو چاہتا ہے، ایسا لگتا ہے کہ موجودہ پاکستانی حکومت مقبوضہ کشمیر کی تقسیم کے فارمولے پر عمل پیرا ہے اور چاہتی ہے کہ جو حصہ کشمیر کا انڈیا کے پاس ہے، وہ بھارت رکھ لے اور جو حصہ پاکستان کے پاس ہے وہ پاکستان رکھ لے۔ لیکن انہوں نے واضح کیا کہ دونوں اطراف کے کشمیری اس فارمولے کو بالکل قبول نہیں کریں گے۔
اس حوالے سے بات کرتے ہوئے پاکستان انڈیا پیپلز فورم فارپیس اینڈ ڈیموکریسی کے رہنما راحت سعید کا کہنا تھا کہ اس بات میں اب کوئی شک نہیں رہا کہ پاکستان کی فوج مسئلہ کشمیر پر بھارت سے جنگ نہیں کرنا چاہتی کیونکہ روایتی جنگ میں پاک فوج کا نقصان ذیادہ ہوگا، لیکن یہ کہنا کہ اسٹیبلشمنٹ اب بھارت دشمنی ختم کرنا چاہتی ہے، یہ بھی غلط ہے کیونکہ اس کا پورا انحصار ہی بھارت دشمنی پر ہے، جب کہ دونوں ملکوں کے عوام امن چاہتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ آرمی چیف کا بیان بین الاقوامی برادری کو جتانے کے لیے ہے کہ دیکھیں پاکستان تو امن چاہتا ہے لیکن بھارت نہیں، لیکن مسئلہ یہ ہے کہ امن کے لیے اسٹیبلشمنٹ کوئی ٹھوس اقدامات اٹھانا نہیں چاہتی اور یہ بیان صرف بین الاقوامی برادری کے لیے ہی ہے۔
یاد رہے کہ پاکستان کے کئی سویلین رہنما بھارت کے ساتھ امن کی کوششیں کر چکے ہیں۔ 1988 میں جب بینظیر بھٹو کی حکومت اقتدار میں آئی تو اس نے بھارت سے تعلقات بہتر کرنے کی کوشش کی لیکن ان کے خلاف فوجی اسٹیبلشمنٹ کی جانب سے شدید پروپیگنڈا کیا گیا۔ نواز شریف کی پہلی اور بے نظیر بھٹو کی دوسری حکومتوں نے مذاکرات کے لیے کوئی خاطر خواہ کام نہیں کیا۔ تاہم نواز شریف کے دوسری مرتبہ اقتدار میں آنے پر وزیراعظم واجپائی بس ڈپلومیسی کے تحت لاہور آئے اور اعلان لاہور پر دستخط کیے۔ لیکن اس معاہدے کے فورا بعد ہی جنرل مشرف کی جانب سے وزیراعظم نواز شریف کو اندھیرے میں رکھ کرکارگل آپریشن کر دیا گیا جس کی وجہ سے دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات انتہائی کشیدہ ہو گئے۔ بعد ازاں 2008 میں جب زرداری حکومت برسراقتدار آئی اور بھارت کے ساتھ معاملات بہتر بنانے کی کوشش کا آغاز کیا گیا تو لشکر طیبہ کے ذریعے بمبئی میں دہشت گرد حملے کروا دیے گے۔ لیکن اب یہ پہلا موقع ہے کہ پاکستان کی فوجی اور سیاسی قیادت بھارت کے ساتھ معاملات بہتر بنانے کے لئے ایک ہی پیج پر نظر آتی ہیں جسے ناقدین سقوط کشمیر کی کوشش قرار دے رہے ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button