کیا جنرل فیض حمید بھی اپنے انجام کو پہنچنے والے ہیں؟

ملک کی سیاسی و معاشی تباہی اور امن و امان کے بحران میں لیفٹیننٹ جنرل (ر) فیض حمید کا بہت اہم کردار رہا ہے۔ جنرل فیض حمید پر فوج کو بغاوت پر اکسانے کا سنگین ترین الزام بھی عائد کیا جاتا رہا ہے، پراجیکٹ عمران کی لانچنگ سے لے کر 2018 کے الیکشن میں دھاندلی اور عمران خان کے دور اقتدار میں جنرل فیض حمید نے آئین شکنیوں کی نئی تاریخ رقم کی۔ تاہم پاکستان کی خفیہ ایجنسی انٹر سروسز انٹیلی جنس آئی ایس آئی کے سابق سربراہ ریٹائرڈ لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید ایک مرتبہ پھر خبروں میں ہیں۔
اس مرتبہ ان کا نام سپریم کورٹ میں گردش کر رہا ہے جہاں پہلے فیض آباد دھرنا کیس کی سماعت کے دوران ان کا کردار زیر بحث آیا اور بعد میں ایک کاروباری شخص کی طرف سے ان کے خلاف اختیارات کے ناجائز استعمال اور ان کے گھر اور دفتر میں چھاپے کے دوران قیمتی اشیا غائب کروانے کا الزام لگایا گیا۔
رواں ہفتے پاکستان کی عدالت عظمٰی کے چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ، جسٹس امین الدین اور جسٹس اطہر من اللہ پر مشتمل بینچ نے ایک نجی ہاؤسنگ سکیم کے مالک معز احمد خان کی جانب سے دائر ایک درخواست پر سماعت کی۔ اس درخواست میں کہا گیا تھا کہ 12 مئی 2017 کو پاکستان رینجرز اور انٹر سروسز انٹیلی جنس (آئی ایس آئی) کے اہلکاروں نے دہشت گردی کے ایک مبینہ کیس کے سلسلے میں مذکورہ ہاوسنگ سکیم کے دفتر اور معز خان کی رہائش گاہ پر چھاپہ مار کر سونے اور ہیروں کے زیورات اور رقم سمیت قیمتی سامان لوٹ لیا تھا۔
درخواست میں عدالت عظمٰی کو بتایا گیا کہ فیض حمید کے بھائی سردار نجف نے بعد ازاں اس معاملے میں ثالث کا کردار ادا کیا اور مسئلہ حل کرنے کی کوشش بھی کی اور درخواست گزار کے خلاف قائم کیے گیے مقدمے میں عدالت سے بری ہو جانے کے بعد ان کے ایک رشتہ دار، جو پاکستان فوج میں بریگیڈیئر ہیں، سے ملاقات کرنے کے لیے رابطہ کیا۔ سپریم کورٹ میں دائر کی گئی درخواست میں دعویٰ کیا گیا کہ ملاقات کے دوران جنرل (ر) فیض حمید نے درخواست گزار کو کہا کہ وہ چھاپے کے دوران چھینا گیا 400 تولہ سونا اور نقدی کے سوا کچھ چیزیں واپس کردیں گے۔
سپریم کورٹ کے تین رکنی بنچ نے درخواست کی سماعت کے بعد درخواست گزار کو ہدایت کی کہ وہ سابق ڈی جی آئی ایس آئی کے خلاف شکایت کے لیے وزارت دفاع اور دیگر متعلقہ فورمز سے رابطہ کریں۔
سپریم کورٹ میں ہونے والی سماعت کے بعد فیض حمید کے خاندان کی طرف سے اسلام آباد کے کچھ صحافیوں سے رابطہ کر کے اپنا موقف بھی پیش کیا گیا ہے اور مقامی میڈیا کے کچھ حصوں نے ان ذرائع سے منسوب کردہ بیانات کی بنیاد پر ان الزامات کی تردید کی ہے۔ تاہم یہ واحد واقعہ نہیں ہے جس میں فیض حمید پر الزامات عائد ہو رہے ہیں اور ان کا نام زیر بحث آیا ہے۔ پاکستانی میڈیا کے کچھ حلقوں میں ان کا نام فرحت شہزادی سے بھی جوڑا گیا ہے جن پر عمران خان اور سابق وزیر اعلٰی پنجاب عثمان بزادر کے ساتھ تعلق کی بنیاد پر بد عنوانی کے الزامات لگائے گئے ہیں۔
فیض حمید ماضی میں اس وقت بھی بین الااقوامی خبروں میں آئے تھے جب وہ کابل پر طالبان کے قبضے کے بعد وہاں ایک ہوٹل میں چائے پیتے دیکھے گئے تھے۔ وہ آئی ایس آئی کے پہلے سابق سربراہ نہیں ہیں جو خبروں میں آئے ہوں۔ اس سے پہلے جنرل ریٹائرڈ حمید گل اور شجاع پاشا پر بھی الزامات لگتے رہے ہیں۔
خیال رہے کہ جنرل فیض حمید سابق ڈی جی آئی ایس آئی تھے۔ کور کمانڈر پشاور اور کور کمانڈر بہاولپور بھی رہ چکے ہیں۔ملک کی سیاسی و معاشی تباہی اور امن و امان کے بحران میں لیفٹیننٹ جنرل (ر) فیض حمید کا بہت اہم کردار رہا ہے۔ فیض حمید کو فوجی اسٹیبلشمینٹ کے اس پرو عمران خان دھڑے کا رنگ لیڈر قرار دیا جاتا ہے جس نے آخری لمحے تک جنرل عاصم منیر کو آرمی چیف بننے سے روکنے کے لیے کوششیں کیں اور تمام تر منفی ہتھکنڈے استعمال کیے۔ فیض حمید پر یہ الزام بھی عائد کیا جاتا ہے کہ وہ بطور کور کمانڈر پشاور ہٹائے جانے کے باوجود اس وقت کی پی ڈی ایم حکومت کےخلاف سازشی کارروائیوں سے باز نہ آئے اور مسلسل عمران خان کو برسرا اقتدار لانے کے منصوبے میں انکی مدد کرتے رہے ۔فیض حمید مسلسل جنرل باجوہ کی جگہ نیا آرمی چیف بننے کی تیاریوں میں مصروف تھے لیکن ان کا یہ خواب عمران خان کی اقتدار سے رخصتی کے باعث شرمندہ تعبیر نہ ہو پایا۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ جنرل باجوہ کی جگہ نیا آرمی چیف بننے والے جنرل عاصم منیر کو عمران خان نے 2018 میں وزیراعظم بننے کے بعد بطور آئی ایس آئی چیف ہٹا کر فیض حمید کو طاقتور ترین خفیہ ایجنسی کی سربراہی سونپی تھی۔ بعد ازاں فیض حمید نے چار برس تک عمران حکومت چلانے اور بچانے میں مرکزی کردار ادا کیا۔
جنرل فیض حمید کا نام سب سے پہلے تب خبروں کی زینت بننا شروع ہوا تھا جب وہ آئی ایس آئی میں ڈائریکٹر جنرل کاؤنٹر انٹیلی جنس تعینات ہوئے تھے۔ اسی دوران 2017 میں تحریک لبیک نے نواز شریف حکومت کے خلاف فیض آباد چوک راولپنڈی میں دھرنا دیا جسے ختم کروانے کے لیے ہونے والے معاہدے پر بھی فیض حمید نے بطور ضامن دستخط کیے تھے۔ بعد ازاں 2018 کے انتخابات میں بھی آر ٹی ایس سسٹم بٹھانے اور عمران خان کو دھاندلی سے جتوانے کا الزام بھی فیض حمید پر عائد ہوا تھا۔ جب نواز شریف کو بطور وزیراعظم سپریم کورٹ نے نا اہل کردیا تو انکی اپیل مسترد کروانے کے لیے بھی فیض نے ججوں پر دباؤ ڈالا۔ اس دوران جب اسلام آباد ہائی کورٹ کے جج جسٹس شوکت عزیز صدیقی نے فیض کے اپنے گھر آنے اور نواز شریف کی اپیل مسترد کروانے کے لئے دباؤ ڈالنے کا انکشاف کیا تو فیض نے جسٹس ثاقب نثار کے ذریعے انکی بطور جج چھٹی کروا دی تھی۔ تاہم تازہ پیشرفت کے مطابق جہاں فیض آباد دھرنا کیس میں ان کیخلاف شکنجہ کستا دکھائی دیتا ہے بلکہ ان کی دوسری سیاہ کاریاں سامنے آنے کا سلسلہ بھی جاری ہے۔
