کیا جہانگیرترین واقعی سیاست ترک کردیں گے؟

حالیہ شوگر سکینڈل تحقیقاتی رپورٹ میں مرکزی کردار کے طور پر اپنا نام آنے کے بعد وزیراعظم عمران خان کے سابقہ دست راست جہانگیر خان ترین نے صورتحال سے سخت مایوسی کا اظہار کرتے ہوئے سیاست سے تائب ہوکر کاروبار اور فیملی پر توجہ دینے کا عندیہ دیا یے۔ سوال یہ یے کہ سیاسی میدان میں اتنا آگے جاکر اور حالیہ سالوں میں اس میدان میں اربوں روپے کی انویسٹمنٹ کرنے کے بعد کیا وہ واقعی سیاست سے تائب ہو جائیں گے؟
کل تک جہانگیر ترین فخر سے کہتے تھے کہ عمران خان ان کا مشورہ بہت غور سے سنتے ہیں اور اس پر عمل کرتے ہیں۔ تاہم ناقدین کے خیال میں جہانگیر ترین کے مشورے سننا اب عمران خان کی مجبوری نہیں رہا کیونکہ اب خان صاحب وزیر اعظم ہیں۔ اب انہیں جہانگیر ترین کی بلٹ پروف گاڑیوں یا انکے نجی طیارے میں سفر کرنے کی ضرورت ہی نہیں رہی۔ جہانگیر ترین کے قریبی حلقوں کا کہنا ہے کہ انہیں گلہ ہے کہ عمران خان نے انہیں ٹشو پیپر کی طرح استعمال کرکے ٹوکری میں پھینک دیا ہے۔ ترین سمجھتے ہیں کہ عمران خان نے انہیں اپنی ٹیم سے نکال کر نہ صرف انکی عزت خراب کی ہے بلکہ ان کا بچا کھچا سیاسی کیریئر بھی ختم کردیا ہے لہٰذا اب وہ کسی سیاسی سرگرمی میں حصہ لینے کی خواہش نہیں رکھتے اور ممکنہ طور پر سیاست سے مکمل طور پر ریٹائرمنٹ لینے کا اعلان کر سکتے ہیں۔ اپنے ایک حالیہ انٹرویو میں جہانگیر ترین کہہ چکے ہیں کہ میرا اب کوئی سیاسی مقصد نہیں ہے، اب میں بس اپنی فیملی اور کاروبار پر دھیان دوں گا۔
دوسری جانب وزیراعظم کے قریبی حلقے کہتے ہیں کہ کپتان بھی ترین سے سخت مایوس ہیں اور یہ شکوہ کرتے دکھائی دیتے ہیں کہ ترین نے چند پیسوں کی خاطر انکے اعتماد کو توڑا اور انکی حکومت کو بد نام کرنے کا باعث بنے۔ کپتان کے قریبی حلقوں کا کہنا ہے کہ جہانگیر ترین کی سیاست تو اسی روز ختم ہو گئی تھی جب انہیں سپریم کورٹ نے نا اہل کیس تھا۔ لیکن یہ عمران خان کی مہربانی تھی کہ وہ اب تک انکو ساتھ لے کر چل رہے تھے۔
جہاں تک جہانگیر ترین کے سیاسی کیریئر کا سوال ہو تو سچی بات تو یہ ہے کہ اس کے لئے انکا ممبر پارلیمنٹ ہونا نہ پہلے ضروری تھا اور نہ ہی آئندہ انہیں اسکی ضرورت پڑے گی۔ ترین کے قریبی حلقے کہتے ہیں کہ ان کا ملکی سیاست میں کردار ایک کنگ میکر کا رہا ہے اور یہ ترین ہی تھے جنہوں نے عمران خان کو کنگ بنایا۔ ان حلقوں کا کہنا ہے کہ یہ خالصتا جہانگیر ترین کی صوابدید ہے کہ وہ سیاست میں آئندہ بھی کنگ میکر کا کردار ادا کرتے رہنا چاہتے ہیں یا نہیں۔
اپنی زندگی کے ابتدائی بیس سال لودھراں میں دو کمروں کے مکان میں گزارنے والے جہانگیر ترین کامیاب سیاستدان ہی نہیں بلکہ آج پاکستان کے 10 ویں امیر ترین شخص بن چکے ہیں۔ سیاسی حلقوں میں جے کے ٹی یعنی جہانگیر خان ترین کے نام سے پکارے جانے والے 66 سالہ جہانگیر خان ترین کے سفر حیات پر نظر دوڑائیں تو ماننا پڑے گا کہ انہوں نے آج تک جس بھی چیز کو ہاتھ لگایا وہ سونا ہوگئی۔ پنجاب یونیورسٹی کے ایک لیکچرر سے لے کر ارب پتی زمیندار ، کاروباری شخصیت تک اور پھر جہیز میں ملنے والی سیاست سے لے کر ملک کی اہم جماعت کے سیکرٹری جنرل بننے تک جہانگیر ترین نے کامیابیوں کی ایسی داستانیں رقم کی ہیں کہ جن کی مثال پاکستان میں شاید کہیں اور نہ ملے۔
اس کے ساتھ ساتھ جے کے ٹی ملک کی متنازع ترین سیاسی شخصیات کی فہرست میں بھی شامل ہیں۔ ان کے ناقدین میں خاندان والوں سے لے کر ان کی اپنی جماعت کے رہنما تک شامل ہیں جو ان پر زمینوں اور عہدوں پر قابض ہونے کا الزام دھرتے ہیں۔ سیاسی مخالفین انہیں شوگر اور گندم مافیا سے لے کر وزیر اعظم عمران خان کا اے ٹی ایم اور چیف فنانسر کہتے ہیں۔ شوگر سکینڈل کی حالیہ تحقیقاتی رپورٹ میں نام آنے کے بعد جہانگیر ترین کی ساکھ بری طرح متاثر ہوئی ہے اور کپتان نے انہیں اپنی ٹیم سے نکال دیا۔ لیکن یہ بات ہے کہ جہانگیر ترین جنوبی پنجاب کی سیاست میں ایک اہم مقام رکھتے ہیں اور یہ مقام ان سے کوئی نہیں چھین سکتا۔
جہانگیر خان ترین 1953 میں پیدا ہوئے۔ ایف سی کالج لاہور سے گریجوایشن کی ،اسکے بعد اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کیلئے وہ امریکہ چلے گئے اور نارتھ کیرولینا یونیورسٹی سے 1974 میں بزنس ایڈمنسرٹیشن میں ماسٹرز کیا۔ پاکستان واپس آکر پنجاب یونیورسٹی کے شعبہ پبلک ایڈمنسٹریشن میں لیکچرر کے طور پر ملازمت اختیار کر لی لیکن والد کی مخالفت کے باعث وہ گرنڈیش بینک کی نوکری کرنے پر مجبور ہو گئے۔ لیکن پھر ان کی زندگی کا دھارا دوسرے رخ میں بہنا شروع ہوا۔
بینک کی نوکری سے تنگ آکر ترین ایک دن اچانک اپنے آبائی شہر لودھراں پہنچ گئے۔ اپنے والد ریٹائرڈ ڈی آئی جی اللہ یار ترین کی زمینوں پر سے گزرتے ہوئے انہیں احساس ہوا کہ کاشتکاری ان کے ڈی این اے میں ہے۔ والد کی 400 ایکڑ زمین پر فارن کوالیفائیڈ جہانگیر ترین نے کاشتکاری شروع کی اور یہاں سے ان کی کامیابیوں کا نہ ختم ہونے والا سفر شروع ہوگیا۔ دو سال بعد انہوں نے والد کی زمین سے ملحق سرکاری زمین جو محکمہ جنگلات نے فوج کو دے دی تھی، فوجی افسروں سے اونے پونے داموں خریدنا شروع کر دی۔ اگلے 20 سال جہانگیر ترین فوجی افسروں سے بنجر زمینیں خریدتے رہے۔ بعض اندازوں کے مطابق ان کے پاس جنوبی پنجاب سے سندھ تک 45 ہزار ایکڑ زمین ہے۔
زمینوں سے کمائی گئی رقم جہانگیر ترین نے مختلف صنعتوں اور کاروباروں میں لگائی۔ شوگر ملیں خریدیں، حصص میں پیسہ لگایا، بنکوں میں حصہ داری کی، الغرض ہر وہ نفع بخش کام کیا جو کوئی بھی سمجھ دار کاروباری کرتا ہے ترین نے بھی کیا۔ یوں وہ ملک کے بڑے زمیندار کے ساتھ ساتھ کامیاب کاروباری بھی بن گئے۔ ترین کا کاروباری تجربہ اس وقت شروع ہوا جب وہ 1981 میں اپنے مشروبات کے خاندانی کاروبار کے سی ای او بنے۔ اگلے آٹھ برسوں میں انہوں نے کاروبار کو ترقی کی نئی راہوں پر ڈال دیا۔ اس کے بعد ترین شوگر ملز کے کاروبار میں آئے اور 1992 میں اپنی پہلی شوگر مل "جے ڈی ڈبلیو” جمال دین والی کے نام سے رحیم یار خان میں بنائی۔ اس وقت جہانگیر ترین کی ملکیت میں چھ شوگر ملز ہیں۔
جہانگیرترین خاندان کی رشتہ داریاں جنوبی پنجاب اور سندھ کے اہم ترین سیاسی خانوادوں سے ہیں۔ وہ رحیم یار خان کے مخدوموں کے داماد اور ملتان کے گیلانیوں اور سندھ کے پگاڑا کے سسرالی ہیں لیکن جہانگیر ترین کاروبار کی طرح سیاست میں بھی صرف اچھے وقت کا انتظار کیا۔ جنرل مشرف کے فوجی اقتدار نے انھیں نفع بخش موقع دیا تو یہ مسلم لیگ ق میں شامل ہوئے۔ جولائی 2001 میں جہانگیر خان ترین کو چیئرمین پنجاب ٹاسک فورس برائے گندم پیداور بنایا گیا۔ عام انتخابات 2002 کے انتخاب میں پہلی مرتبہ این اے 195 رحیم یار خان سے قومی اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے۔ 2004 میں شوکت عزیز کی کابینہ میں انہیں بطور وزیر صنعت و پیداوار شامل کیا گیا۔ 2008 میں وہ اپنے ایک اور رشتہ دار پیر صاحب پگارا کی مدد اور فنکشنل لیگ کے ٹکٹ پر قومی اسمبلی کے رکن بن گئے۔2011 میں انھوں نے درجن بھر ہم خیال ارکان اسمبلی کو اکٹھا کیا اور ایک مضبوط سیاسی پریشر گروپ کے طور پر سامنے آئے۔ جہانگیر ترین نے فنکشنل لیگ چھوڑی اوراپنے ہم خیال ساتھیوں کی طاقت استعمال کرتے ہوئے تحریک انصاف میں شمولیت اختیار کرلی۔
عمران خان نے انہیں پارٹی پالیسی کی منصوبہ بندی، شعبہ صحت، تعلیم، توانائی اور نئے بلدیاتی نظام پر کام کی زمین داریاں سونپیں۔ اس کے بعد ان کو تحریک انصاف کا سیکرٹری جنرل بنایا گیا مگر پی ٹی آئی میں ان کی آمد اور پھر اہم ترین عہدے تک ترقی بھی آسان نہیں رہی۔ 2015 میں پی ٹی آئی میں پارٹی انتخابات کروانے والے پارٹی رہنما جسٹس وجیہہ الدین احمد نے الزام لگایا کہ جہانگیر ترین نے دولت کے بل پر پارٹی انتخابات میں دھاندلی کی کوشش کی ہے۔ عمران خان نے جسٹس وجیہہ کی بات سنی ان سنی کر دی جس پر جسٹس صاحب پی ٹی آئی سے علیحدہ ہو گئے۔ تحریک انصاف میں شمولیت کے بعد جہانگیر ترین نے اپنے آبائی شہر لودھراں کا رخ کیا اور عام انتخابات 2013میں این اے 154 سے الیکشن لڑا مگر ہار گئے۔ دو سال بعد سپریم کورٹ نے اس حلقے میں دوبارہ الیکشن کا حکم دیا اور یوں 23 دسمبر 2015 کوجہانگیر ترین یہ الیکشن 40,000 ووٹوں کی لیڈ سے جیت گئے۔
اگرچہ15جنوری 2017 کو سپریم کورٹ نے تاریخی فیصلے میں لکھا کہ اپنے اثاثے چھپانے کی وجہ سے جہانگیر خان ترین صادق اور امین نہیں رہے اور یوں انہیں تاحیات نا اہل قرار دے دیا گیا مگر دوسری جانب یہ بھی ناقابلِ تردید حقیقت ہے کہ عمران خان کے دور اقتدار کے ڈیڑھ سال تک انہیں کلیدی حیثیت حاصل رہی جسکی ایک وجہ انہیں سیاسی جوڑ توڑ کا ماہر سمجھا جانا بھی ہے۔ 2018 کے عام انتخابات میں مرکز اور پنجاب میں آزاد امیدواروں اور دیگر جماعتوں کو ساتھ ملا کر تحریک انصاف کی حکومتیں قائم کرنے کا کریڈٹ بھی فوجی اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ ساتھ جہانگیر ترین کو بھی جاتا ہے۔ تاہم چینی سکینڈل میں ملوث ہونے کی رپورٹ سامنے آنے کے بعد عمران خان اور جہانگیر ترین کے مابین اختلافات کسی سے ڈھکے چھپے نہیں کیونکہ ترین نے خود تسلیم کیا ہے کہ اب خان صاحب سے پہلے والا تعلق نہیں رہا۔
تجزیہ کار متفق ہیں کہ سپریم کورٹ سے نااہلی کے فیصلے کے بعد بھی پی ٹی آئی کے پلیٹ فارم سے ترین کے لئے سیاسی میدان کھلا تھا۔ تاہم شوگر سکینڈل کے بعد کپتان نے ان سے آنکھیں پھیر کر ترین کے سیاسی کیریئر کو شدید دھچکا پہنچایا ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ جہانگیر ترین اپنے کہنے کے مطابق واقعی سیاست سے کنارہ کشی اختیار کرلیتے ہیں یا پھر کوئی اور سیاسی پلیٹ فارم سنبھال کر یہ ثابت کرتے ہیں کہ ان کی سیاست ابھی زندہ ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button