کیا جہانگیر ترین کے لیے ابھی خطرہ ختم نہیں ہوا؟

وفاقی تحقیقاتی ادارے ایف آئی اے کی جانب سے عدالت میں جہانگیر ترین کو گرفتار نہ کرنے کے بیان کے بعد خیال کیا جا رہا ہے کہ عمران خان اور ترین کے مابین معاملات طے پا گئے ہیں، تاہم حکومتی ذرائع اس امکان کو رد نہیں کرتے کہ بجٹ پاس ہونے کے بعد شوگر سکینڈل انکوائری میں تیزی آ جائے اور ترین کے حوالے سے کوئی انہونی ہو جائے۔
پرائیویٹ جہاز کا ذکر ہو تو پاکستانی سیاست میں جہانگیر ترین کا نام فوری ذہن میں آتا ہے۔ پاکستانی عوام نے انھیں پچھلے پانچ سالوں میں ہالی وڈ کی فلم “دی ٹرانسپورٹرز” کے ہیرو کی طرح عمران خان کی ہمراہی میں ملک کے دور دراز کونوں میں پہنچتے اور بندے توڑتے ہوئے دیکھا ہے۔ نتائج کے حساب سے دیکھا جائے تو ترین اپنے مشن میں مکمل کامیاب ٹھہرے اور عمران خان کی حکومت بنوا دی۔ تاہم وقت کا پہیہ گھومنے اور کپتان کی جانب سے فارغ کیے جانے کے بعد آج کال پاکستانی عوام ترین کو اپنے جہاز کے بجائے ذیادہ تر ایک بس میں عدالت آتے اور جاتے دکھائی دیتے ہیں۔ بس میں ترین کے ساتھ سفر کرنے والی ان سواریوں کا تعلق ترین کے باغی گروپ سے ہے جو اپنے نئے کپتان کو شوگر سکینڈل میں جیل کی سلاخوں کے پیچھے جانے سے روکنے کی سرتوڑ کوششوں میں مصروف ہیں اور اب تو کافی حد تک کامیاب بھی نظر آتے ہیں۔
لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ عمران خان اور جہانگیر خان ترین کے تعلقات میں “اینٹی کلائمکس” کوں آیا۔ خاک ہو جانے والے تعلقات کی راکھ کو کریدا جائے تو نیچے سے سیاست کی چنگاری برآمد ہوتی  ہے۔ وہی سیاست جو بھائی کو بھائی کا دشمن بنا دیتی ہے اور ماں باپ کی آنکھوں میں تپتی سلائیاں پھروا دیتی ہے۔ جہانگیر ترین کا سیاسی سی وی بھاری بھرکم ہے اور ان کے وزن کے لوگ پورے ملک میں انگلیوں پر گنے جاسکتے ہیں۔ ترین وزیر کبیر بھی رہے۔ جہاں رہے وہاں اپنے نشان بھی چھوڑے۔ وہ افسر شاہی سے کام لینا جانتے ہیں۔ اوچھی گفتگو نہیں کرتے۔ تمام حکومتی امور پر گہری نظر رکھتے ہیں۔ عمران خان کی طرح جذباتی بھی نہیں ہیں اور طبیعت میں ٹھہراؤ بھی بدرجہ اتم موجود ہے۔ اس کے علاوہ وہ ایک ارب پتی کارپوریٹ سرمایہ کار بھی ہیں اور زمیندار بھی۔ لہازا لوگ انھیں ہلکا نہیں لیتے۔ ترین نے تحریک انصاف میں بھی اپنی مدبرانہ سج دھج برقرار رکھی اور اسی وجہ سے تقریباً تمام سیاسی جماعتوں میں بھی انھیں قدر کی نظر سے دیکھا جاتا ہے۔
یاد رہے کہ سپریم کورٹ نے 2017 میں تعین کو اپنے اثاثے چھپانے پر نااہل قرار دے دیا تھا اور 2018 میں بھی اس فیصلے کو برقرار رکھا گیا ۔ لیکن پھر 2018 کے الیکشن سے پہلے، الیکشن کے دوران اور بعد میں تحریک انصاف کی حکومت بنوانے میں اہم ترین کردار جہانگیر ترین کی “ٹرانسپورٹیشن” کا تھا۔ لیکن وہ محض ایک ٹرانسپورٹر ہی نہیں تھے، انکا عسکری حلقوں میں بھی رابطہ تھا اور کئی آزاد امیدوار انہی کی وجہ سے تحریک انصاف کی بس میں بیٹھنے پر راضی ہوئے جو آج بھی انکے ساتھ ہیں۔
جب عمران حکومت قائم ہو گئی تو ترین کا ڈیرہ اسلام آباد میں طاقت کا ایک مرکز بن گیا۔ جہانگیر ترین ایوان اقتدار کے نبض شناس تھے، انکا عمران خان کے ساتھ براہ راست رابطہ اور اعتماد کا تعلق تھا جس کی بنیاد پر وہ کپتان کا ہر ریسکیو مشن بخوبی سر انجام دیتے تھے۔ لیکن ظاہر ہے کہ اقتدار کے ایوانوں میں کئی مراکز ہوتے ہیں اور بہت سوں کو عمران اور ترین کی دوستی قبول نہیں آتی تھی۔ اس لیے ان کی کچھ ریکارڈنگز عمران تک پہنچا دی گئیں اور یوں دوستی کی اس مضبوط فصیل میں دراڑ پڑ گئی۔
عمران خان نے ترین سے دوری اختیار کر کی۔ لیکن ترین مخالف گروپ انھیں پس پردہ دھکیل کر بھی راضی نہیں تھا۔ اقتدار کی ہانڈی تک پہنچنے کا کھیل چونکہ اپنے مفادات کے گرد کھیلا جاتا ہے اور اس کے لیے جو جوا کھیلا جاتا ہے اس میں ایک کا دس یا سو وصول کرنے کا اہتمام بھی ہوتا ہے لہازا جہانگیر ترین کے ویک پوائینٹ یعنی ان کی شوگر ملوں کا معاملہ کھڑا کر دیا گیا۔
شوگر سکینڈل میں چینی کی برآمد اور کارٹیل کے حوالے سے ایک کمیشن بنا، ڈی جی ایف آئی اے واجد ضیاء کی رپورٹ بھی آگئی جس میں چینی کے بحران کی گھنٹی ترین کے گلے میں باندھ دی گئی۔ یار لوگوں کا الزام ہے کہ ترین چینی کے بحران سے پچاس ارب سے زائد کما چکے ہیں ۔ لیکن دلچسپ امر یہ ہے کہ چینی کی برآمد اور اس سے متعلقہ تمام فیصلے وفاقی کابینہ میں عمران خان کی زیر قیادت کیے گئے جن کی ذمے داری لینے سے ہر کوئی انکاری ہے۔ اس دوران چینی کمیشن کی رپورٹ آئی، کپتان اور ترین کی دوستی کا پندار کرچی کرچی ہوا تو ترین کچھ دیر کے لیے پاکستان سے لندن اللہ گے تاکہ ٹھنڈے طریقے سے معاملہ سنبھالا جاسکے۔
پھر پس پردہ جہانگیر ترین سے رابطے ہوئے اور وعدے بھی کیے گئے چنانچہ وہ پاکستان آن پہنچے جہاں ان کو کئی سرپرائز ملے۔ ایک انہونی یہ بھی ہوئی کہ خاندان بھر کے اکاؤنٹس محمد کردیے گئے اور انکے بچوں پر بھی ایف آئی آر درج ہوگئیں۔ پاکستانی سیاست کی شطرنج پر یہ ایک شہ مات والی چال تھی کہ عموماً سیاست دان اس حد تک پہنچنے سے گریز کرتے ہیں، تاہم یہ واضح ہوگیا کہ یار لوگ ترین کو صرف سیاست کے میدان سے باہر نہیں دیکھنا چاہ رہے، بلکہ انھیں جیل کی سلاخوں کے پیچھے دیکھنا چاہ رہے ہیں۔ خیر جب نوبت یہاں تک آن پہنچی تو پھر ترین کی جانب سے پاور شو کیا گیا، کچھ پتے دکھائے گئے، کچھ چھپائے گئے۔ ہھر ہم خیال گروپ بنا، راجہ ریاض اور دیگر کی وزیر اعظم سے ملاقات ہوئی، بیرسٹر علی ظفر کو ثالث بنایا گیا لیکن انکی بنائی رپورٹ سامنے نہ آ سکی۔ تاہم قومی اسمبلی کے بجٹ اجلاس سے دو روز پہلے ڈی جی ایف آئی اے واجد ضیا کا تبادلہ کر دیا گیا اور اگلے روز عدالت میں ایف آئی اے کی جانب سے یہ بیان دیا گیا کہ اب جہانگیر ترین کو گرفتار کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ اپوزیشن الزام عائد کر رہی ہے کہ عمران نے ترین کو این آر او دے دیا ہے۔ تاہم انکے خلاف کیسز ابھی چل رہے ہیں اور عمران خان کی منتقم مزاجی سے واقف لوگوں کا کہنا ہے کہ کہ ہو سکتا ہے وہ بجٹ پاس ہو جانے کے بعد ترین پر ایک کاری وار کریں اور انہیں گرفتار کروا دیں لیکن ایسی صورتحال میں ترین کے باغی ساتھی بگڑ گئے تو عمران کی حکومت کا بچنا محال ہو جائے گا۔
موجودہ صورتحال میں کہا جا سکتا ہے کہ دیو کی جان اب اس طوطے میں ہے جسکا نام ترین ہے۔ ترین ڈی کے باہر کھیلتے ہوئے اب اس کے اندر داخل ہو چکے ہیں۔ پنجاب حکومت کا مستقبل ہو، وفاقی بجٹ پاس کرنا ہو، کپتان بڑی حد تک ترین گروپ کی مدد کا مرہون منت ہے۔ ترین اب ارہویں کھلاڑی نہیں رہے بلکہ عمران خان اور اسٹیبلشمینٹ کے مابخن سودا بازی کے اہم ترین سٹیک ہولڈر بھی بن گئے ہیں ۔ فرق صرف یہ پڑا  ہے کہ اب وہ شطرنج کی بازی میں چیس بورڈ کے دوسری طرف بیٹھے ہیں۔ ان حالات میں اگر بجٹ پاس ہونے کے بعد ترین کو گرفتار کر لیا گیا تو پھر عمران خان کے اپنے شیشے کے گھر میں بھی بہت کچھ ٹوٹ سکتا ہے۔ پاکستانی سیاست کے مدوجزر کو سامنے رکھا جائے تو آنے والے دنوں میں “نااہل ترین” کی تاحیات نااہلی پر نظر ثانی بھی کی جا سکتی ہے اور ہو سکتا ہے کہ وہ “موثر ترین” افراد کی فہرست میں شامل ہوجائیں۔

Back to top button