کیا حافظ سعید کا مستقبل ہمیشہ کے لیے تاریک ہو چکا؟

ماضی میں فوجی اسٹبلشمنٹ کا قیمتی ترین اثاثہ سمجھے جانے والے جہادی رہنما حافظ محمد سعید کو اگرچہ دہشت گردوں کی مالی معاونت کا جرم ثابت ہونے پر مجموعی طور پر گیارہ برس کی سزا سنائی گئی ہے تاہم یہ سوال اب بھی اٹھایا جارہا ہے کہ کیا پاکستانی اسٹیبلشمنٹ نے یہ مشکل ترین فیصلہ وقتی طور پر ایف اے ٹی ایف کی گرے لسٹ سے نکلنے کے لیے تو نہیں کروایا اور آیا گرے لسٹ سے نکلنے کے بعد ماضی کی طرح پھر سے حافظ سعید کو اپیل کے بعد بڑی عدالت کے ذریعے سے آزاد تو نہیں کروا لیا جائے گا؟
بین الاقوامی امور کے ماہرین کا خیال ہے کہ جہادی تنظیموں کے خلاف پاکستان کے مقتدر حلقوں کی جانب سے سخت ترین عدالتی فیصلے کے پیچھے پاکستان کی 2000 کی دہائی کے وسط سے بڑھتی بین الاقوامی تنہائی، بگڑتی معاشی صورتحال اور ماضی قریب میں فنانشل ایکشن ٹاسک فورس کی جانب سے بلیک لسٹ میں شامل کیے جانے کے خطرات ہو سکتے ہیں اور یہ بات کوئی ماننے کو تیار نہیں کہ کوئی پاکستانی عدالت حافظ سعید جیسے اہم ترین ریاستی اثاثے کو اتنی آسانی سے گیارہ برس قید کی سزا سنا دے۔
خیال رہے کہ چند روز قبل لاہور کی انسداد دہشت گردی کی ایک خصوصی عدالت نے کالعدم تنظیم جماعت الدعوۃ کے سربراہ حافظ سعید کو دہشتگردی کے آپریشنز کی مالی معاونت کے حوالے سے دو مقدمات میں مجموعی طور پر 11 برس قید کی سزا سنائی ہے۔ حافظ سعید ساڑھے پانچ سال قید کی دو سزائیں ایک ساتھ کاٹیں گے۔
خیال رہے کہ انڈیا ان پر 2008 میں ممبئی حملوں کی منصوبہ بندی کرنے کا الزام لگاتا ہے جس میں سینکڑوں بھارتی اور غیر ملکی باشندے مارے گئے تھے۔ ممبئی حملے کے دوران گرفتار ہونے والے اجمل قصاب نے بعد ازاں اپنے پاکستانی ہونے اور لشکر طیبہ کے ٹریننگ کیمپ میں تربیت حاصل کرنے کا بھی اعتراف کیا تھا۔ اس نے یہ بھی بتایا تھا کہ مشن کے لیے براستہ سمندر ممبئی روانگی سے پہلے اس نے اور دیگر جہادیوں نے کراچی میں عزیز آباد کے علاقے میں حافظ سعید اور کمانڈر ذکی لکھوی سے بھی ملاقات کی تھی۔
یاد رہے کہ ممبئی حملوں میں 161 افراد ہلاک ہوئے تھے۔ حافظ سعید کئی برسوں سے انڈیا کو مطلوب ہیں اور اقوام متحدہ اور امریکہ دونوں نے انھیں عالمی شدت پسندوں کی فہرست میں شامل کر رکھا ہےکیونکہ ان حملوں میں کئی امریکی شہری بھی مارے گئے تھے اس لیے امریکہ نے حافظ سعید کے سر پر 10 ملین ڈالر انعام بھی رکھا ہوا ہے۔ تاہم ممبئی حملوں کے 12 برس بعد اب موجودہ صورتحال میں حافظ سعید کی گرفتاری اور انہیں سزا سنانے کے حوالے سے کئی سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔ سب سے اہم سوال یہ ہے کہ اگر حافظ سعید پر واقعی عالمی سطح پر سنگین الزامات لگائے گئےتو انھیں قید کرنے میں اتنا وقت کیوں لگا اور کیا انھیں مستقبل میں زیر حراست رکھا جا سکے گا؟
ان سوالوں کے جواب میں ایک پیچیدگی یہ عمومی تاثر ہے کہ حافظ سعید کے اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ قریبی روابط ہیں۔ یوں تو عسکریت پسندوں کو اپنی خارجہ پالیسی اہداف کے لیے استعمال کرنے کے الزام کو پاکستان کئی برسوں سے رد کرتا رہا ہے مگر عالمی اور مقامی سطح پر یہی مانا جاتا ہے کہ جہادی تنظیموں کو فوج کی پشت پناہی حاصل رہی ہے۔ تاہم دوسری جانب بڑا مسئلہ یہ ہے کہ اس وقت پاکستان شدید مالی مشکلات میں بھی مبتلا ہے۔ 1947 میں قیامِ پاکستان کے بعد سے ملک میں بلواسطہ یا بلاواسطہ طور پر فوجی حکومتیں رہی ہیں اور امریکہ اور مشرق وسطیٰ کے ممالک کی امداد پر بہت انحصار رہا ہے۔
واضح رہے کہ جون 2018 میں ایف اے ٹی ایف نے پاکستان کو اپنی گرے لسٹ میں ڈال دیا تھا۔ یہ ان ممالک کی فہرست ہے جو منی لانڈرنگ اور شدت پسندی کے مالی معاملات کے خلاف بنائے گئے سٹینڈرڈز کی پاسداری نہیں کر سکے ہیں۔
اس کے بعد کئی ماہ تک بین الاقوامی پابندیوں سے بچنے کے لیے پاکستان نے شدت پسندی سے منسلک متعدد ملزمان کو گرفتار کیا اور سینکڑوں ایسی پراپرٹیز کو سیل کر دیا جن کا کالعدم تنظیموں سے کوئی تعلق تھا۔ مگر بہت سے لوگوں نے ان اقدامات کو صرف دکھاوا سمجھا کیونکہ بڑی تنظیموں جیسے کہ جماعت الدعوۃ یا جیشِ محمد کے خلاف کوئی سنجیدہ کارروائی نہیں کی گئی۔
پاکستانی حکام پر دباؤ بڑھتا رہا اور اپریل 2019 میں حکومت نے جماعت الدعوۃ اور مرکزِ دعوت الارشاد سے منسلک چھ تنظیموں پر پابندی لگائی۔
حافظ سعید کو بھی سزا کالعدم تنظیموں سے منسلک پراپرٹی کی ملکیت پر ہوئی ہے۔انھیں گذشتہ سال جولائی میں گرفتار کیا گیا تھا۔ اس وقت پاکستان کے ایف اے ٹی ایف کے ریویو میں تین ماہ رہتے تھے۔ اس ریوو میں پاکستان کے متعدد اقدامات کو ناکافی پایا گیا مگر اسے بلیک لسٹ میں شامل کرنے سے متعلق کسی فیصلے کو آئندہ اجلاس تک ملتوی کر دیا گیا تھا۔
گزشتہ سال دسمبر میں حافظ سعید پر فردِ جرم عائد کی گئی تھی اور دو ماہ سے کم عرصے میں اس طرح کا فیصلہ آ جانا پاکستان کے لیے شاید کسی قسم کا ریکارڈ ہو۔ مگر ان کے پاکستان کی سیکیورٹی اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ قریبی تعلقات کے تناظر میں بہت سے لوگوں کے لیے یہ سوال ہی ہے کہ کیا پاکستانی اسٹیبلشمنٹ واقعی ان کا ساتھ چھوڑ دے گی اور انھیں باقی زندگی ایک سزا یافتہ مجرم کی طرح جیل میں گزارنا ہوگی؟ کم ازکم حافظ سعید کے خاندان کے افراد تو یہ بات ماننے کو تیار نہیں اور انہیں قوی امید ہے کہ عدالتی اپیل کے نتیجے میں حافظ سعید کی سزا ختم ہو جائے گی اور وہ باہر آجائیں گے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button