کیا حکومت اور حزبِ اختلاف دونوں ہی احتساب کے معاملے پر سنجیدہ ہیں؟

حکومت اور حزب مخالف کی جماعتیں احتساب بل کے حوالے سے ایک مرتبہ پھر آمنے سامنے آ گئی ہیں اور ایک دوسرے پر کرپشن کے الزامات لگا رہی ہیں۔
حکومت کا موقف ہے کہ حزب مخالف کی جماعتیں فناشنل ایکشن ٹاسک فورس کے حوالے سے قانون سازی سے متعلق بلیک میل کر کے نئے قوانین میں ترامیم لانا چاہتی ہے تاکہ وہ اپنی قیادتوں کو بچا سکیں۔ جب کہ حزب مخالف کی جماعتوں کا کہنا ہے کہ حکومت نے نیب قوانین میں ترامیم کے حوالے سے جو مسودہ پیش کیا تھا اس میں صرف سلیکٹڈ احتساب کا ذکر ہے جس کو بنیاد بنا کر وزیر اعظم سمیت حکومت میں شامل اہم رہنماؤں کے خلاف جو انکوائری اور تحقیقات ہو رہی ہیں ان کو مستقبل میں ختم کروانا ہے۔
وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کے مطابق حزب مخالف کی جماعتوں کی طرف سے نیب قوانین میں ترامیم کے حوالے سے جو تجاویز دی گئی تھیں ان کو مسترد کر دیا گیا ہے۔ حزب مخالف کی سب سے بڑی جماعت پاکستان مسلم لیگ نواز کے رہنما خرم دستگیر کا دعویٰ ہے کہ گزشتہ دو سال سے حزب مخالف کی جماعتوں کی قیادت ہی احتساب کا نشانہ بن رہی ہے جب کہ وزیر اعظم اور حکومت میں شامل دیگر افراد کے خلاف نیب میں مقدمات زیر التواء ہیں لیکن نیب کے چیئرمین ان مقدمات اور انکوائری کے بارے میں صرف نظر کیے ہوئے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ کیا نیب کے چیئرمین کو بی آر ٹی، مالم جبہ اور ملین ٹریز کے فراڈ نظر نہیں آتے۔ انہوں نے کہا کہ رکن قومی اسمبلی خواجہ سعد رفیق کی ضمانت کے حوالے سے سپریم کورٹ نے جو اپنے فیصلے میں لکھا ہے اس کے بعد نیب کے چیئرمین کا اس عہدے پر برقرار رہنے کا کوئی اخلاقی جواز نہیں بنتا۔ انہوں نے کہا کہ اپوزیشن جماعتوں کی طرف سے نیب قوانین کے بارے میں ممکنہ تبدیلیوں کے حوالے سے جو ترامیم پیش کی گئیں وہ سپریم کورٹ کے حکم کی روشنی میں ہی دی گئی تھیں۔
خرم دستگیر کا کہنا ہے کہ سپریم کورٹ کی آبزرویشن کے برعکس وفاقی حکومت کی طرف سے حزب مخالف کی جماعتوں کو جو ایک مسودہ دیا گیا تھا اس میں چیئرمین نیب کی مدت ملازمت میں توسیع کا ذکر کیا گیا ہے جس سے اس بات کا بخوبی اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ موجودہ احتساب کا عمل نیب نیازی گٹھ جوڑ کا نتیجہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ فنانشل ایکشن ٹاسک فورس کےلیے ممکنہ قانون سازی کے حوالے سے ایک اجلاس میں وفاقی وزیر حماد اظہر سے جب یہ پوچھا گیا کہ ایف اے ٹی ایف کے حوالے سے ممکنہ قانون سازی کے حوالے سے نیب کے چیئرمین کی مدت ملازمت میں توسیع کا کیوں ذکر کیا گیا ہے تو وزیر موصوف کا کہنا تھا کہ اس سے دنیا کو پالیسیوں میں تسلسل کا تاثر ملتا ہے۔
پاکستان مسلم لیگ نواز کے پارلیمانی لیڈر خواجہ آصف نے بدھ کو قومی اسمبلی کے اجلاس میں تقریر کے دوران کہا تھا کہ حزب مخالف کی جماعتیں نیب کے قوانین کو مزید سخت کر دینے سے نہیں گھبراتیں لیکن ان کا مطالبہ ہے کہ احتساب کا عمل یکساں اور انصاف کے تقاضوں پر پورا اترتا ہو۔
احتساب کے قوانین میں ممکنہ ترامیم کے حوالے سے اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر نے گزشتہ ہفتے حکومت اور حزب مِخالف کی جماعتوں پر مشتمل ایک 24 رکنی پارلیمانی کمیٹی تشکیل دی تھی۔ اس کمیٹی کے اب تک تین اجلاس ہوئے ہیں جن میں سے پہلا اجلاس صرف آدھا گھنٹہ جاری رہا جب کہ دوسرا صرف پانچ منٹ اور تیسرے اجلاس میں حزب مخالف کی جماعتوں سے تعلق رکھنے والے ارکان نے بائیکاٹ کا اعلان کرنے کے بعد شرکت نہیں کی تھی۔
حزب مخالف کی جماعتوں کے ارکان نے اس بات پر اس پارلیمانی کمیٹی کے اجلاس کا بائیکاٹ کیا تھا کہ وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کی طرف سے یہ اعلان کیا گیا تھا کہ حکومت نے نیب قوانین میں ترامیم کے حوالے سے حزب مخالف کی طرف سے پیش کی جانے والی تمام تجاویز کو مسترد کر دیا ہے۔
احتساب کے بارے میں وزیر اعظم کے مشیر شہزاد اکبر کا کہنا ہے کہ نیب کے قوانین میں ترامیم کے حوالے سے اگر حزب مخالف کی جماعتوں کی طرف سے کوئی مثبت تجاویز آئیں گی تو حکومت ان پر ضرور غور کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ قومی معاملات پر قانون سازی کےلیے حکومت حزب مخالف کی جماعتوں کے ہاتھوں بلیک میل نہیں ہو گی۔ شہزاد اکبر نے الزام عائد کیا کہ پاکستان جو ایف اے ٹی ایف کی گرے لسٹ میں آیا ہے وہ ماضی کی دونوں جماعتوں یعنی پاکستان پیپلز پارٹی اور پاکستان مسلم لیگ نواز کی غلط پالیسیوں اور مبینہ منی لانڈرنگ کا نتیجہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت ریاستی اداروں کو مضبوط کرنا چاہتی ہے اور اس سلسلے میں حزب مخالف کی جماعتوں کو بھی ان کاوشوں میں حکومت کا ہاتھ بٹانا چاہیے۔ شہزاد اکبر کا کہنا تھا کہ پاکستان تحریک انصاف کی حکومت احتساب کے نعرے پر ہی قائم ہوئی ہے تو یہ جماعت اس نعرے اور اپنی جماعت کے منشور سے کیسے انحراف کرسکتی ہے۔
پارلیمنٹ میں سیاسی جماعتوں کی سرگرمیوں پر نظر رکھنے والے صحافی ایم بی سومرو کا کہنا ہے کہ حکومت سمیت پارلیمنٹ میں موجود تمام سیاسی جماعتیں احتساب کے معاملے پر سنجیدہ نہیں لگتیں۔ انہوں نے کہا کہ سیاسی جماعتیں احتساب کے نام کو ایک دوسرے کے خلاف ہتھیار کے طور پر استعمال کر رہی ہیں لیکن عملی طور پر کوئی بھی شفاف احتساب کے حق میں نہیں ہے۔
انہوں نے کہا کہ جب پاکستان پیپلز پارٹی کی حکومت اقتدار میں آئی تو سابق وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی نے جہاں اعلیٰ عدلیہ کے ججز کی نظر بندی کو ختم کرنے کا اعلان کیا تو وہیں نیب کے ادارے کو بھی ختم کرنے کا عندیہ دیا تھا لیکن اس پر کوئی عمل درآمد نہیں ہوا۔
ایم بی سومرو کا کہنا تھا کہ پاکستان مسلم لیگ نواز کے دور میں اس وقت کی حزب مخالف کی جماعت پاکستان پیپلز پارٹی نے نیب قوانین میں ترامیم کےلیے 50 تجاویز دی تھیں لیکن کسی ایک تجویز کو بھی تسلیم نہیں کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان پیپلز پارٹی کے سابق سینیٹر فرحت اللہ بابر نے ججز اور جرنیلوں کا احتساب کرنے کی بات کی تھی لیکن پارٹی کی قیادت نے اُنہیں سینیٹ سے یہ بل واپس لینے کا کہہ دیا تھا۔ ان کے مطابق حکمراں جماعت بھی نیب کے قوانین میں ترمیم نہیں کرنا چاہتی کیوں کہ اگر انہوں نے ایسا کیا تو پاکستان تحریک انصاف کا ووٹر جماعت کی قیادت سے ناراض ہو جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ اس میں اب کوئی شک نہیں ہے کہ نیب کے قوانین سیاسی مخالفین کےلیے استعمال کیے جاتے رہے ہیں اور اب بھی ہو رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ تمام معاملات بھی حکومت کے کنٹرول میں نہیں ہوتے۔ ایم بی سومرو کا کہنا تھا کہ ملک میں چند مقتدر حلقے ایسے بھی ہوتے ہیں جو ان معاملات کو دیکھتے ہیں۔ ایم بی سومرو کہ مطابق جس روز نیب میں ممکنہ ترامیم کے حوالے سے پارلیمانی کمیٹی کا اجلاس تھا اسی روز ہی نیب کے چیئرمین نے قومی اسمبلی میں قائد حزب احتلاف میاں شہباز شریف اور ان کے بچوں کے خلاف اثاثہ جات کا ریفرنس دائر کرنے کی منطوری دی۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button