کیا حکومت ایمرجنسی نافذ کرنے کا سوچ رہی ہے؟

باخبر ذرائع نے اس خدشے کا اظہار کیا ہے کہ سپریم کورٹ آف پاکستان میں زیر سماعت آرمی چیف کی توسیع کے معاملے پر کسی غیر متوقع فیصلے کے نتیجے میں پیدا ہونے والی غیر یقینی صورتحال سے نمٹنے کے لیے ملک میں ایمرجنسی نافذ کی جا سکتی ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ اگر عدالتی فیصلہ حکومت اور اسٹیبلشمنٹ کی امیدوں کے برعکس آتا ہے تو ملک میں ایک شدید بحرانی کیفیت پیدا ہوجائے گی جس سے نمٹنے کے لیے ایمرجنسی کا نفاذ ضروری ہو جائے گا۔ یاد رہے کہ ایمرجنسی کے نفاذ کے نتیجے میں آئین معطل ہو جاتا ہے اور بنیادی انسانی حقوق سے متعلق قوانین ختم ہو جاتے ہیں۔ آخری دفعہ پاکستان میں ایمرجنسی کا نفاذ جنرل مشرف نے تین نومبر 2007 کو کیا تھا۔
یاد رہے کہ اس وقت جنرل مشرف آرمی چیف ہونے کے ساتھ ساتھ صدر پاکستان بھی تھے اور ان کی جانب سے ملک میں ایمرجنسی نافذ کرنے کا فیصلہ بنیادی طور پر خود کو دوبارہ صدر پاکستان منتخب کروانے پر شروع ہونے والے تنازع سے پیدا ہونے والی صورتحال سے نمٹنا تھا۔ تب کے چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری نے فوری طور پر سات ممبر سپریم کورٹ بینچ بناکر مشرف کی ایمرجنسی کے فیصلے کو معطل کردیا تھا اور افواج پاکستان کو حکم جاری کیا تھا کہ وہ جنرل مشرف کے غیر قانونی اور غیر آئینی احکامات پر عمل نہ کریں۔ تاہم افواج پاکستان نے جنرل مشرف کے احکامات مانتے ہوئے سپریم کورٹ کی بلڈنگ میں داخل ہو کر جسٹس افتخار محمد چودھری اور دیگر ججز کو گرفتار کر لیا اور انہیں ان کے گھروں میں نظر بند کر دیا تھا۔
ڈیڑھ ماہ کی ایمرجنسی کے بعد ملکی اور بین الاقوامی دباؤ کے پیش نظر جنرل مشرف نے 15 دسمبر کی رات کو ایمرجنسی کا خاتمہ کردیا لیکن اس کے کچھ عرصے بعد ان کا اپنا بھی خاتمہ ہوگیا اور انہیں ذلیل و خوار ہو کر اقتدار سے علیحدہ ہونا پڑا۔
موجودہ صورتحال میں سیاسی تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ ایمرجنسی لگانے کا فیصلہ ایک انتہائی اقدام سمجھا جائے گا اور اس سے حالات میں زیادہ بگاڑ پیدا ہو گا جس کے نتیجے میں صورتحال مکمل طور پر بے قابو ہوکر تباہ کن ہوسکتی ہےلیکن ملک میں ہنگامی حالت نافذ کرکے دوررس نتائج حاصل کرنے کا موقف رکھنے والے غیر سیاسی مشورہ نویسوں کا استدلال ہے کہ ماضی میں ایمرجنسی کا نفاذ کرکے مثبت نتائج حاصل کئے گے اور اگر عبوری مدت کے لئے اس تجویز پر عمل کر لیا جائے تو اس سے پیچیدہ آئینی صورتحال سے نمٹنے میں آسانی ہو جائے گی۔
تاہم سیاسی تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ ایمرجنسی کے نفاذ کی صورت میں ملک کی تمام اپوزیشن جماعتیں ایک پلیٹ فارم پر اکٹھے ہو کر حکومت کو ایک بڑا چیلنج دے سکتی ہیں جس کے نتیجے میں عمران خان کے اقتدار کا خاتمہ بھی ہوسکتا ہے لہذا اس قسم کا فیصلہ کرنے سے پہلے سو مرتبہ سوچا جانا چاہیے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button