کیا حکومت حفیظ شیخ کو گیلانی کے ہاتھوں شکست سے بچا پائے گی؟

اسلام آباد سے سینیٹ کی جنرل نشست پر امپورٹڈ حکومتی امیدوار عبد الحفیظ شیخ کے مقابلے میں پی ڈی ایم کے مشترکہ امیدوار سابق وزیراعظم یوسف رضا گیلانی کے آنے سے خفیہ رائے شماری کی صورت میں حکومتی امیدوار کی شکست کا خطرہ پیدا ہو گیا ہے جس نے کپتان کی نیندیں اڑا دی ہیں اور وہ اب ہر صورت اوپن بیلٹ پر سینیٹ الیکشن کروانے کے لئے ایڑی چوٹی کا زور لگا رہے ہیں۔
سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ تین مارچ کو ہونے والے سینٹ الیکشن میں سب سے بڑا معرکہ اسلام آباد کی نشست پر ہوگا۔ اس الیکشن میں خفیہ رائے شماری کی صورت میں اپ سیٹ خارج از امکان نہیں ہے۔
سینیٹ کے تین مارچ کو 48 نشستوں پر ہونے والے انتخابات میں تحریک انصاف اور اپوزیشن الائنس پی ڈی ایم کے درمیان سب سے بڑا مقابلہ وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کی جنرل نشست پر ہوگا۔ وزیراعظم عمران خان کے معاون خصوصی برائے خزانہ ڈاکٹر عبدالحفیظ شیخ تحریک انصاف کے امیدوار ہیں جبکہ ان کے مقابلے میں پی ڈی ایم نے پیپلز پارٹی کے سابق وزیر اعظم سید یوسف رضا گیلانی کو میدان میں اتارا ہے۔ وفاق کی جنرل اور خواتین کے لیے مخصوص دونوں نشستوں پر حکمران اور اپوزیشن جماعتوں کے درمیان کانٹے کے مقابلے متوقع ہیں۔ ان کے لیے قومی اسمبلی کے 342 اراکین ووٹ ڈالیں گے۔
سیاسی تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ وفاقی دارالحکومت کی نشستوں کے انتخابی نتائج سے حکومت اور اپوزیشن کی سیاسی قوت ظاہر ہوگی۔ پی ڈی ایم کے اسلام آباد سے امیدوار سید یوسف رضا گیلانی کی کامیابی کے لیے پیپلز پارٹی اور ن لیگ کی قیادت کے علاوہ پی ٹی ایم کے سربراہ مولانا فضل الرحمن اور تین سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی راجہ پرویز اشرف اور امیدوار خود یعنی یوسف رضا گیلانی اراکین قومی اسمبلی سے رابطہ کر رہے ہیں۔ دوسری جانب وزیراعظم عمران خان اپنے رفقاء کار اور اتحادی جماعتوں مسلم لیگ ق، ایم کیو ایم، جی ڈی اے، جمہوری وطن پارٹ اور عوامی مسلم لیگ کے قائدین کی مشاورت سے حکمت عملی طے کر رہے ہیں۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ سینیٹ کا الیکشن موجودہ طریقہ کار یعنی خفیہ رائے شماری سے ہونے کی صورت میں ہارس ٹریڈنگ اور اپ سیٹ خارج از امکان نہیں ہے۔ صرف ایک درجن ووٹوں کے ادھر ادھر ہونے سے پانسہ پلٹ سکتا ہے۔ سابق وزیراعظم یوسف رضا گیلانی ایک انتہائی مضبوط امیدوار ہیں۔ ان کے بڑے سیاسی خاندانوں اور کئی حکومتی و اپوزیشن اراکین سے ذاتی تعلقات ہیں۔ دوسری جانب ان کے مد مقابل حکومتی امیدوار ڈاکٹر عبدالحفیظ شیخ کے بھی پیپلزپارٹی کے بعض اراکین سے رابطے ہیں تاہم سیاسی قد کاٹھ کے حوالے سے عبدالحفیظ شیخ یوسف رضا گیلانی کے سامنے ایک بونے سے زیادہ حیثیت نہیں رکھتے۔ حفیظ شیخ کو تحریک انصاف اور اتحادی جماعتوں کی جانب سے اس لیے بھی ناپسندیدگی کی نظر سے دیکھا جاتا ہے کیونکہ وہ تحریک انصاف کا چہرا نہیں بلکہ ایک امپورٹڈ امیدوار ہیں اور ماضی میں تقریبا ہر حکومت کا حصہ رہے ہیں۔
خیال ظاہر کیا جا رہا ہے کہ اگر اسلام آباد کی جنرل نشست پر پر کوئی بھی امیدوار 172 ووٹ لینے میں کامیاب ہو گیا۔ تو وہ سیٹ جیت جائے گا۔ پی ڈی ایم کے مشترکہ امیدوار یوسف رضا گیلانی پہلے ہی کہہ چکے ہیں کہ ان کے پاس ووٹ تو کم ہیں تاہم بہت سے اراکین اسمبلی کے ساتھ ان کے ذاتی تعلقات ہیں اس لیے وہ یہ سیٹ جیتنے کے حوالے سے پر اعتماد ہیں۔ دوسری جانب عمران خان اینڈ کمپنی کو عبدالحفیظ شیخ کی سیٹ کے حوالے سے خدشات لاحق ہیں کیونکہ تحریک انصاف اور اتحادی جماعتوں کے بعض ایم این ایز حفیظ شیخ کی بجائے یوسف رضا گیلانی کو ووٹ ڈالنے پر مائل نظر آتے ہیں۔ پی ڈی ایم حد درجہ پر اعتماد ہے کہ وہ تین مارچ کو ایوان بالا کے انتخابات میں فتح سے ہمکنار ہو گی گوکہ اس اعتماد کے محرکات اور یقین کو اپنی حکمت عملی کے تحت منظر عام پر نہ لانے کا جواز پیش کرتے ہوئے انتظار کرو اور دیکھو کے جواب پر اکتفا کرنے کے لیے کہا جاتا ہے۔ پی ڈی ایم قیادت کا دعویٰ ہے کہ کہ ہم سینٹ کا الیکشن ہرصورت جیتنے کی عددی اکثریت رکھتے ہیں تاہم جب ان سے یہ استفسار کیا جاتا ہےکہ اگر ایسا ہے تو پھر اگست 2019 میں چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک اپوزیشن کی عددی اکثریت کے باوجود کیوں ہار گئی تو جواب ملتا ہے کہ ہم اس مشق کے ذریعے فوجی ترجمان کے اس بیان جس میں وہ اعلانیہ طور پر ٹی وی پر آ کر بیان دیتے ہیں کہ ان کا سیاست سے کوئی تعلق نہیں اور انہیں سیاست میں نہ گھسیٹا جائے، پر یقین اور اعتماد کرتے ہوئے انھیں آزما رہے ہیں اور سینٹ کے الیکشن میں حصہ لے رہے ہیں۔ پی ڈی ایم ذرائع کے مطابق اگر قومی اسمبلی میں تحریک عدم اعتماد پیش کرنے کا فیصلہ ہوا تو اس کے پس منظر میں بھی فوجی ترجمان کا دعویٰ اور یقین دہانی ہی ہوگی بصورت دیگر ہمارے پاس لانگ مارچ کا آپشن تو موجود ہے لیکن ہم ترجمان کی جانب سے غیرجانبداری کی یقین دہانی کو ایک مرتبہ ضرور آزمائیں گے۔
ان حالات میں کپتان اینڈ کمپنی کی بھرپور کوشش ہے کہ یوسف رضا گیلانی کو جیتنے نہ دیاجائے کیونکہ اگر ایسا ہوگیا تو پھر ان کے خلاف تحریک عدم اعتماد بھی آسکتی ہے اور اپوزیشن کا موقف درست ثابت ہوجائے گا کہ سیاسی انجنیئرنگ کے ذریعے ان کی سیاسی برتری کو کم کیا جاتا رہا ہے۔ خیال رہے کہ قومی اسمبلی کے 342 کے ایوان میں میں تحریک انصاف کے حکمران اتحاد کے ایم این اے کی مجموعی تعداد 180 جبکہ پی ڈی ایم میں شامل جماعتوں کے ارکان کی تعداد 158 ہے۔ ایک رکن کا تعلق جماعت اسلامی سے ہے۔ اس کے علاوہ مسلم لیگ نون پیپلز پارٹی اور جے یو آئی ف کے ارکان قومی اسمبلی کے انتقال سے خالی نشستوں پر ضمنی انتخاب ہو رہے ہیں جن کے نتائج سینٹ الیکشن سے قبل آجائیں گے۔ اس وقت حکمران پی ٹی آئی اور اس کی اتحادی جماعتوں اور اپوزیشن اتحاد میں شامل تمام جماعتوں کے اراکین کی مجموعی تعداد میں صرف 22 ووٹوں کا فرق ہے۔ جماعت اسلامی اور ضمنی انتخابات میں کامیاب امیدواروں کے چار ووٹ بھی بڑی اہمیت کے حامل ہوں گے۔ یہی وجہ ہے کہ تحریک انصاف اور اپوزیشن جماعتیں ضمنی انتخابات میں اپنے اپنے امیدواروں کی کامیابی کے لیے تمام وسائل بروئے کار لا رہی ہیں۔ دریں اثناء یہ بھی بتایا گیا ہے کہ یوسف رضا گیلانی نے پیپلز پارٹی کی قیادت سے یہ یقین دہانی حاصل کی ہے کہ اگر وہ اسلام آباد کی سیٹ پر سینیٹ کے الیکشن میں کامیاب نہ بھی ہو پائے تو پھر ان کو سندھ سے سینیٹر بنوا دیا جائے گا، چاہے ایسا کرنے کے لئے پی پی پی کے کسی سینیٹر سے استعفی ہی کیوں نہ لینا پڑے۔
