کیا حکومت شو آف ہینڈز سے سینیٹ الیکشن کروا پائے گی یا نہیں؟


حکومت کی جانب سے سینیٹ الیکشن اوپن بیلٹ کے ذریعے کروانے کے لیے ایک اور صدارتی آرڈینینس کے اجرا کو اپوزیشن کی جانب سے غیر آئینی اور غیر قانونی قرار دے کر مسترد کردیا گیا ہے اور سیاسی حلقوں میں یہ بحث زور پکڑ گئی ہے کہ کیا حکومت اس کوشش میں کامیاب ہو پائیں گی یا نہیں۔ یہ اطلاعات بھی ہیں کہ اپوزیشن جماعتیں تازہ ترین حکومتی آرڈیننس کو عدالت میں چیلنج کرنے کے بارے میں بھی لائحہ عمل تیار کر رہی ہیں۔ اپوزیشن اتحاد پی ڈی ایم کا یہ موقف ہے کہ سینیٹ الیکشن کا طریقہ کار تبدیل کرنے کے لیے آئینی ترمیم کی ضرورت ہے اور صدارتی آرڈیننس کے ذریعے ایسا نہیں کیا جاسکتا۔
اپوزیشن کے اس موقف کو اس بات سے تقویت ملتی ہے کہ صدارتی آرڈیننس لانے سے پہلے اس نے آئین میں 26 ویں ترمیم کا ایک بل بھی قومی اسمبلی میں پیش کیا تھا جو اپوزیشن کی ہنگامہ آرائی کے باعث منظور نہ ہوسکا۔ ویسے بھی اگر حکومت قومی اسمبلی سے 26 ویں آئینی ترمیم کا بل پاس کروا بھی لیتی تو سینیٹ میں اپوزیشن اکثریت میں ہے۔ لہذا حکومت نے یہی بہتر سمجھا کہ سینٹ الیکشن کا طریقہ کار بدلنے کے لئے صدارتی آرڈیننس کا سہارا لیا جائے۔ اس سے پہلے حکومت نے سینیٹ انتخابات اوپن بیلیٹ پر کروانے کے لیے سپریم کورٹ سے رجوع کیا تھا۔ آئینی ماہرین کے مطابق حکومت نے سینیٹ کے حوالے سے اپنے تمام آپشنز استعمال کر کے انتخابات اوپن بیلٹ پر کرانے کی راہ ہموار کر لی ہے۔
واضح رہے کہ صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے الیکشن ترمیمی آرڈیننس2021 کے مسودے پر دستخط کردیے ہیں جس کے ذریعے سینیٹ الیکشن اوپن بیلٹ سے ہوسکیں گے۔ اس آرڈیننس کا اطلاق سپریم کورٹ کی رائے سے مشروط کیا گیا ہے۔ الیکشن ترمیمی آرڈیننس کے لیے 2017ء کے الیکشن ایکٹ 33 کی شق81 میں ترمیم کی گئی ہے۔ الیکشن ایکٹ 2017ء کی شق 122 اور 185میں بھی ترمیم کی گئی۔ آرڈیننس کے تحت پارٹی سربراہ رکن اسمبلی کو ووٹ دکھانے کی درخواست کرسکے گا، جبکہ الیکشن کمیشن بھی پارٹی سربراہ کی درخواست پر کسی بھی رکن کا ووٹ دکھانے کا پابند ہوگا۔
تاہم اپوزیشن اتحاد کا کہنا ہے کہ ایسی کسی بھی حکومتی کوشش کو ناکام بنایا جائے گا کیونکہ صدارتی آرڈینینس کے ذریعے آئین میں ترمیم نہیں کی جاسکتی اور سینیٹ الیکشن کا طریقہ کار بدلنے کے لیے آئینی ترمیم کی ضرورت ہے۔ پیپلز پارٹی کے سینیٹر رضا ربانی نے سینیٹ انتخابات اوپن بیلٹ کے ذریعے کرانے کے صدارتی آرڈی ننس پر کہا ہے کہ مجھے ایسی کوئی مثال یاد نہیں جس میں آرڈیننس کا اطلاق سپریم کورٹ کے فیصلے کے ساتھ مشروط کیا گیا ہو۔ انہوں نے کہا کہ میں یہ سوال پوچھنا چاہتا ہوں کہ جب آپ نے آرٹیکل 6 کے تحت سپریم کورٹ سے رائے طلب کی تو آپ کو عدالت کی رائے کا انتظار کرنا چاہیے تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ ’آرڈیننس لا کر سپریم کورٹ پر دباؤ ڈالنے کی کوشش کی جارہی ہے‘۔ رضا ربانی نے کہا کہ آرڈی ننس بدنیتی پر مبنی ہے اور اس کے اندر تضاد ہے کیونکہ پہلے لکھا گیا کہ آرڈیننس کا اطلاق فوری ہوگا اور بعد ازاں کہا گیا کہ آرڈیننس کا اطلاق سپریم کورٹ کے فیصلے سے مشروط ہوگا‘۔ انہوں نے کہا کہ حکومت پارلیمان کو پہلے ہی غیر فعال بنا چکی ہے اور اب مزید مذاق کیا جارہا ہے۔ رضا ربانی نے کہا کہ سینیٹ انتخابات کو متنازع بنایا جارہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ آئین میں ترمیم کرنا پارلیمان کی صوابدید ہے لیکن ترمیم کے لیے کوئی اقدامات نہیں کیے گئے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس ضمن میں کوئی مشاورت نہیں کی گئی کیونکہ مقصد صرف سیاست ہے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ حکومت الیکشن سے ایک ماہ پہلے ترمیم کا بل کیوں لے آئی؟ ان کا کہنا تھا کہ حکومتی اقدام آئین اور پارلیمان پر حملہ ہیں کیونکہ آئین میں ترمیم کرنا پارلیمان کی صوابدید ہے۔
دوسری طرف ن لیگ نے بھی صدارتی آرڈیننس کو پارلیمان کی آزادی پر حملہ قرار دے دیا ہے۔ مسلم لیگ ن کے سیکرٹری جنرل احسن اقبال کا کہنا ہے کہ سینیٹ انتخابات کے حوالے سے صدارتی آرڈیننس لا کر عمران نیازی حکومت نے آئین پر ایک اور بدترین حملہ کیا ہے۔ لیگی رہنما نے کہاکہ آئینِ پاکستان کو فرینڈز آف عمران کو نوازنے کے لیے تبدیل نہیں کیاجاسکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر اس غیر آئینی اقدام کو درست قرار دیا گیا تو کل کو ایک اور صدارتی آرڈیننس کے ذریعے 18ویں ترمیم کو بھی رول بیک کیا جا سکتا ہے۔ ایسے ہی 58 ٹو بی بحال کرنے کا آرڈیننس بھی جاری ہو سکتا ہے۔ احسن نے مزید کہا کہ صدارتی آرڈیننس سپریم کورٹ کو ڈکٹیشن دینے کے مترادف ہے۔ یہ اعلیٰ عدلیہ کی توہین ہے۔ سپریم کورٹ کوحکومتی آرڈینس ختم کرنا چاہیے۔ انہوں نےکہا مسلم لیگ ن کے ہوتے ہوئے کوئی آئین کے ساتھ کھلواڑ نہیں کر سکتا۔ آئین کو میلی نگاہ سے دیکھا تو ن لیگ کاہر کارکن اس جنگ کو پاکستان کے چپے چپے پر لڑے گا۔
دوسری طرف آئینی ماہرین کا کہنا ہے کہ اپوزیشن کے پاس اب بھی موقع ہے کہ وہ سپریم کورٹ سے رجوع کرے اور صدارتی آرڈینینس کو چیلنج کرے اور اسے کالعدم قرار دلوانے کی کوشش کرے۔ سابق سیکرٹری الیکشن کمیشن کنور دلشاد کا اس معاملے پر کہنا یے کہ ’حکومت کو سپریم کورٹ کے فیصلے کا انتظار کر لینا چاہیے تھا۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ آرڈی نینس بھی سپریم کورٹ کے فیصلے سے ہی مشروط ہے، اگر سپریم کورٹ رائے دیتی ہے کہ سینیٹ انتخابات الیکشن ایکٹ کے تحت ہوں گے تو پھر اس آرڈینینس کا اطلاق ہوگا، اور اگر سپریم کورٹ نے رائے دی کہ سینیٹ انتخابات آئین کے تحت ہوتے ہیں تو پھر آرڈینینس از خود تحلیل ہو جائے گا۔
سابق سیکرٹری سینیٹ افتخار اللہ بابر کا کہنا ہے کہ ’اس وقت سپریم کورٹ میں کوئی کیس نہیں بلکہ ایک ریفرنس زیر سماعت ہے جس کی رائے پر حکومت یا پارلیمان عمل کرنے کی پابند نہیں ہوگی۔ حکومت نے اس حوالے سے اپنے سارے آپشنز استعمال کر کے سینیٹ انتخابات اوپن بیلٹ کے ذریعے کرانے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ اس لیے اب میری رائے میں الیکشن اوپن بیلٹ کے ذریعے ہی ہوں گے۔‘ سابق ایڈیشنل سیکرٹری قومی اسمبلی طاہر حنفی کے مطابق ’اپوزیشن کے پاس سپریم کورٹ جانے کے علاوہ کوئی ریمیڈی نہیں ہے۔ اس وقت انھیں بیٹھ کر آئینی اور قانونی معاملات کو سامنے رکھتے ہوئے سنجیدہ حکمت عملی اپنانے کی ضرورت ہے۔ اب وقت آگیا ہے کہ پارٹی پالیسی کے خلاف ووٹ دینے والے ارکان کے خلاف کارروائی ہو اور چیئر مین اور ڈپٹی چیئر مین سینیٹ کے انتخابات کو بھی اوپن بیلٹ کے زریعے کرانے جیسے معاملات بھی طے کر لیے جائیں۔
دوسری طرف وزیراعظم عمران خان بارہا یہ کہتے آئے ہیں کہ سینیٹ انتخابات میں پیسوں کے ذریعے ووٹ خریدے جاتے ہیں اس لیے اس کا راستہ روکنا ضروری ہے۔ کنور دلشاد نے اس تاثر کو درست قرار دیتے ہوئے کہا کہ ’عمران خان کا خدشہ درست ہے کہ پارٹی کے لوگ ان سے بے وفائی کریں گے۔ نہ صرف خیبرپختونخوا بلکہ پنجاب، سندھ اور بلوچستان میں بھی گیم کھیلی جائے گی۔‘
اس حوالے سے افتخار اللہ بابر کا کہنا ہے کہ ’صرف تحریک انصاف ہی نہیں مسلم لیگ ن اور پیلیز پارٹی سمیت دیگر جماعتوں کو بھی یقین ہے کہ صوبائی اسمبلیوں میں بیٹھے ان کے ارکان اپنے ووٹ بیچتے ہیں۔ اس لیے اصولی طور پر تو سب اس حق میں ہیں کہ اوپن بیلٹ ہو لیکن اس وقت محض سیاسی تنازعات کی وجہ سے اتفاق رائے ممکن نہیں ہو پا رہا۔‘

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button