کیا حکومت نے جنرل باجوہ کی توسیع کی تاریخ بارے جھوٹ بولا؟

کیا حکومت کی جانب سے سپریم کورٹ کے سامنے جنرل قمر جاوید باجوہ کی توسیع کی تاریخ کے حوالے سے غلط بیانی کی گئی۔
آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع کے حوالے سے چیف جسٹس کے ازخود نوٹس پر سماعت کے دوران حکومت نے مؤقف اختیار کیا کہ صدرمملکت نے جنرل باجوہ کی مدت ملازمت میں 19 اگست کو توسیع کی منظوری دی تھی۔ حالانکہ 12ستمبر کو ایک انٹرویو میں صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی اس بات کا انکشاف کیا تھا کہ انہوں نے تاحال جنرل باجوہ کی مدت ملازمت کی توسیع کی سمری پر دستخط نہیں کیے۔ سوال پیدا ہوتا ہے کہ آیا صدر مملکت نے انٹرویو کے دوران غلط بیانی کی یا پھر اٹارنی جنرل نے عدالت میں 19اگست کو سمری کی منظوری کا بتا کر جھوٹ بولا۔
حکومت نے منگل کو سپریم کورٹ کو بتایا کہ صدر مملکت نے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کو عہدے میں توسیع کی سمری 19 اگست کو منظور کی تھی لیکن صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے 12ستمبر کو اج ٹی وی کی اینکر پرسن عاصمہ شیرازی کو انٹرویو میں کہا تھا کہ اُس وقت تک اُنہیں کوئی سمری نہیں ملی تھی۔
26 نومبر بروز منگل کو سپریم کورٹ کے روبرو پیش کیے گئے سرکاری ریکارڈ کے مطابق، جس کا اظہار سپریم کورٹ کے آرڈر میں بھی ہوتا ہے، صدر مملکت عارف علوی نے 19 اگست 2019ء کو اس سمری کی منظوری دی جس میں آرمی چیف کو عہدے میں توسیع کا مطالبہ کیا گیا تھا۔ تاہم، 12 ستمبر کے ٹیلی ویژن انٹرویو میں صدر مملکت نے کہا تھا کہ انہیں جنرل باجوہ کے توسیع کی سمری نہیں ملی۔ یہ انٹرویو 12 ستمبر کو دیا گیا تھا۔ آرمی چیف کی توسیع کے متعلق ایک سوال کے جواب میں صدر مملکت کا کہنا تھا کہ انہیں اُس وقت تک توسیع کی سمری نہیں ملی۔
اب یہاں سوال پیدا ہوتا ہے کہ اگر صدر مملکت کو 12 ستمبر تک توسیع کی سمری نہیں ملی تھی، جیسا انہوں نے خود ٹی وی انٹرویو میں کہا، تو حکومت اب سپریم کورٹ کے روبرو ایسا کیسے کہہ سکتی ہے کہ جنرل باجوہ کی توسیع کی سمری صدر مملکت نے 19 اگست کو منظور کی تھی۔ اس مخصوص معاملے پر سپریم کورٹ کے آرمی چیف کی توسیع کے نوٹیفکیشن کی معطلی کے آرڈر میں لکھا ہے کہ ’اس معاملے میں وزیراعظم نے 19 اگست 2019ء کو خود آرڈر پاس کیا اور موجودہ آرمی چیف کو اسی عہدے پر دوسری مدت کیلئے توسیع دی جبکہ آئین کا آرٹیکل 243 کہتا ہے کہ یہ صدر مملکت ہیں جو مذکورہ عہدے پر تقرر کا اختیار رکھتے ہیں۔ بظاہر اس غلطی کا ادراک اسی دن ہوگیا اور وزیراعظم آفس سے ایک سمری 19اگست 2019ء کو صدر مملکت کو ارسال کی گئی تاکہ موجودہ آرمی چیف کو اسی عہدے پر دوبارہ تقرر یا توسیع دی جا سکے، اور اسی دن یعنی 19 اگست 2019ء کو صدر مملکت نے سمری منظور کی۔ حتیٰ کہ اس عمل میں بھی خامی ہے اور یہ احساس ہوا کہ وزیراعظم یا صدر مملکت مذکورہ بالا اقدامات کابینہ کی منظوری کے بغیر نہیں کر سکتے، جس پر اگلے دن یعنی 20 اگست 2019ء کو کابینہ کی منظوری کیلئے ایک سمری پیش کی گئی اور 21 اگست 2019ء کو کابینہ نے مذکورہ تجویز سرکولیشن کے ذریعے منظور کی۔ اس ضمن میں کابینہ کی رائے ریکارڈ کی گئی، اس حوالے سے عدالت کے روبرو فوٹوکاپیاں پیش کی گئی ہیں، جن سے معلوم ہوتا ہے کہ کابینہ 25 ارکان پر مشتمل ہے اور 25 میں سے صرف 11 نے ہی تجویز سے اتفاق کیا تھا جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ اکثریتی ارکان نے مذکورہ تجویز سے اتفاق نہیں کیا۔ اس کے علاوہ، ایک اور اہم پہلو یہ ہے کہ کابینہ کی اس مبینہ یا نام نہاد منظوری کے بعد یہ معاملہ وزیراعظم یا صدر مملکت کو دوبارہ از سر نو ایڈوائس کیلئے یا بالترتیب وزیراعظم اور صدر مملکت کے نئے آرڈر کیلئے نہیں بھیجا گیا۔
