کیا خلیل قمرواقعی عورت کو دو ٹکے کی چیز سمجھتے ہیں؟

ایک ٹاک شو کے دوران ڈرامہ "میرے پاس تم ہو” کے رائٹر خلیل الرحمان قمر نے ایک خاتون سماجی کارکن کے بارے میں جو نفرت بھرے الفاظ ادا کیے ان سے تو لگتا یہی ہے کہ وہ حقیقی زندگی میں بھی عورت کو ایک دو ٹکے کی چیز ہی سمجھتے ہیں۔ اس بات کی تصدیق واقعہ کے اگلے روز ایک اور ٹی وی پروگرام میں خلیل الرحمٰن قمر کی جانب سے اپنے الفاظ واپس لینے یا معافی مانگنے سے انکار کرنے سے ہوتی ہے۔
یہ ضروری تو نہیں کہ اگر آپ اچھے لکھاری ہیں تو آپ اچھے مقرر بھی ہوں، لکھتے وقت حتمی تحریر تک الفاظ آپ کی دسترس میں ہوتے ہیں، تحریر کو لکھا اور مٹایا بھی جاسکتا ہے لیکن لب کشائی کے بارے میں سیانے کہتے ہیں کہ پہلے تولو پھر بولو، سیانے تو یہ بھی کہتے کہ لفظ انسان کے غلام ہوتے ہیں مگر صرف بولنے سے پہلے تک بولنے کے بعد انسان اپنے لفظوں کا غلام ہوتا ہے۔
آج کل ہرجگہ ایک ہی موضوع اور شخصیت زیر بحث ہے اور وہ معروف ڈرامہ نویس خلیل الرحمٰن قمر ہیں، اور وجہ ان کی بد زبانی۔ یوں تو موصوف کا تحریر کردہ ہر ایک ڈرامہ ہی کامیاب ہوتا ہے تاہم آج کل انہیں لکھنے کے علاوہ بولنے کا بھی خوب نشہ چڑھا ہوا ہے اور نشے میں انسان کو ہوش نہیں رہتا کہ وہ کیا کہہ رہا ہے اور کیا کررہا ہے۔ حال ہی میں انہوں نے ایک نجی ٹی وی پر عورت مارچ کے موضوع پر پروگرام میں بحث کے دوران ماروی سرمد کے بارے میں نہایت بے ہودہ جملے ادا کیے، جواب میں ماروی سرمد نے بھی کوئی کسر نہیں چھوڑی لیکن یہ پہلی بار نہیں کہ خلیل الرحمن قمر نے معاشرے کی لبرل خواتین سے اپنی نفرت کا اظہار اتنے کھلے انداز میں کیا ہو۔ وہ ماضی میں بھی ایسا بارہا کر چکے ہیں اور ان کی زندگی کے کچھ پہلو اور ان کے کہے جانے والے کچھ تنقیدی جملوں پر نظر ڈالنا ضروری ہے-
خلیل الرحمن قمر کو اکثر انٹرویوز میں وفا اور حیا کی بات کرتے سنا گیا ہے لیکن سچ تو یہ ہے کہ وہ خود بھی یہ فیصلہ نہیں کر پائے کہ باوفا اور حیا دار وہ عورت ہے جو ان کے معیار کے مطابق ہو یا وہ جو ہر طرح سے فلرٹ کرنے کے باوجود بھی معصوم بنی رہے۔ اپنے ڈرامے ’میرے پاس تم ہو‘ میں ہی انہوں نے اس سوچ کی کنفیوژن ظاہر کی۔ ایک طرف وہ آئزہ خان کو اس بات پر دو ٹکے کی عورت کہہ دیتے ہیں کہ اس نے پیسے کی خاطر اپنے شوہر کے ساتھ وفا نہیں کہ اور دوسری طرف وہ ایک دوسری عورت کو انتہائی بلند کردار کی دکھا رہے ہیں جو ایک استاد ہوتے ہوئے بھی ایک بچے کے باپ کو کھلم کھلا پھنسانے کے لیے ڈورے ڈال رہی ہے۔
دراصل خلیل الرحمن قمر کو معاشرے کی ان لبرل خواتین سے اختلاف ہے جو میرا جسم میری مرضی اور کھانا تم گرم کرلو بستر میں گرم کر دونگی جیسے نعرے لگاتی ہیں۔ تاہم اگر خلیل کا موقف درست بھی ہو تو ان کا ماروی سے اندازِ گفتگو اتنا جارحانہ تھا کہ اب ان کے حمایتی بھی منہ چھپاتے پھر رہے ہیں۔ خلیل قمر نے ایک ٹی وی شو میں ماروی سرمد کو بار بار ’میرا جسم میری مرضی‘ کا نعرہ لگانے پر وہ باتیں سنائیں کہ سب نے دانتوں میں انگلیاں دبا لیں، گالیوں کے ساتھ ساتھ وہ بارہا ایسے نازیبا جملے استعمال کرتے رہے جو دہرائے بھی نہیں جاسکتے- ان کے یہ جملے چاہے شدید غصہ اور جذبات میں ادا ہوئے لیکن سچ تو یہ ہے کہ اگر وہ اپنی بات کو محبت اور پیار سے دوسروں تک پہنچانے کی کوشش کرتے تو شاید دوسری طرف کے لوگوں کو ان کی بات سمجھ بھی آجاتی۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button