کیا سانحہ 9 مئی کی سزا قیدی نمبر 804 کو اکیلے ہی ملنی چاہیے؟

 معروف اینکر پرسن اور تجزیہ کار سہیل وڑائچ نے کہا ہے کہ پاکستانی اسٹیبلشمنٹ 9 مئی کے اصل مجرم کو سزا ضرور دے لیکن ان لوگوں کے ساتھ بہتر رویہ اختیار کرے جو الیکشن 2024 میں عوام کے ووٹوں سے منتخب ہو کر اسمبلیوں میں پہنچے ہیں کیونکہ ان کی اکثریت 9 مئی کے منصوبے سے لاعلم تھی۔

اپنی تازہ تحریر میں سہیل وڑائچ سوال کرتے ہیں کیا یہ مرچوں کا اثر ہے، ہمارا ڈی این اے مختلف ہے یا پھر ہمارا خون کچھ زیادہ کھولتا ہے۔ دنیا کے اکثر ملکوں میں لوگ ایک دوسرے کو دیکھ کر مسکراتے ہیں کچھ غلط ہو جائے تو ایک دوسرے کو سوری کہہ کر غلطی کو بھول جاتے ہیں۔ دوسری طرف ہم ہیں کہ ہر وقت ناک بھوں چڑھائے رہتے ہیں، ہلکی سی بات ہو جائے تو ہم آستینیں چڑھا لیتے ہیں، ہماری آنکھیں سرخ ہو جاتی ہیں، منہ سے مغلظات نکلنا شروع ہو جاتی ہیں اور ہم ہاتھا پائی اور لڑائی مارکٹائی پر اتر آتے ہیں۔ تاریخ کا مطالعہ کیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ برصغیر کے لوگوں کا یہ دائمی مرض ہے کہ انہیں لڑنے کے آداب تو آتے ہیں مگر یعنی تنازعات کا حل انہیں نہیں آتا۔ سہیل وڑائچ کہتےنہیں میری ناقص رائے میں گاندھی، نہرو، اقبال اور جناح اگر یورپ جا کر تعلیم حاصل نہ کرتے تو ہم آج بھی غلام ہوتے کیونکہ ان چاروں نے یورپ میں دوران تعلیم تنازعات کا حل سیکھا۔ جو گاندھی اور نہرو چاہتے تھے یعنی پورے ہندوستان پر کانگریس کی حکومت، وہ انہیں نہ مل سکا۔اسی طرح جو قائد اعظم چاہتے تھے انہیں وہ نہ مل سکا اور بقول ان کے انہیں کٹے پھٹے پاکستان پر اکتفا کرنا پڑا۔ آج کی پاکستانی سیاست بھی اسی لڑائی جھگڑے اور غصے میں گھری ہوئی ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ مکمل سیاسی ڈیڈ لاک ہے۔ ایک طرف پی ٹی آئی سربراہ ہے جو 9 مئی کے واقعے پر معافی مانگنے کو تیار نہیں اور دوسری طرف فوجی قیادت ہے جو 9 مئی کے زخم بھلانے کو تیار نہیں۔ اگر دونوں فریقوں میں لچک نہیں ہے تو ظاہر ہے ڈیڈ لاک بڑھتا رہے گا۔

سہیل وڑائچ کہتے ہیں کہ میری ذاتی رائے تو شروع سے یہی ہے کہ سیاسی جماعتوں کو تشدد کی سیاست کا راستہ اختیار نہیں کرنا چاہیے اور اگر اس حوالے سے کوئی غلطی ہو جائے تو فوراً لاتعلقی کا اظہار کرنا چاہیے۔ پی ٹی آئی نے یہ نہیں کیا مگر وہ ایک مقبول سیاسی جماعت ہے اسے نظر انداز کرنا اور مین سٹریم سے نیچے اتارنا بھی ملکی مفادمیں نہیں ہوگا۔ سیاست کے ادنیٰ طالب علم کی حیثیت سے میں سمجھتا ہوں کہ اس ڈیڈ لاک یا سیاسی بحران کی چابی صرف اور صرف پارلیمان ہے۔ پارلیمان میں حکومت اور تحریک انصاف دونوں موجود ہیں، نہ چاہتے ہوئے بھی انہیں ایجنڈے اور دوسرے معاملات کو چلانے کیلئے روزانہ ایک دوسرے سے ملنا پڑتا ہے، پارلیمان کو پلیٹ فارم بناکر مذاکرات کا آغاز کیا جائے، تحریک انصاف کو الیکشن پر جو شکایات ہیں اس کےلیے مشترکہ پارلیمانی کمیٹی بنائی جا سکتی ہے، تحریک انصاف نے جن نشستوں پر الیکشن کمیشن میں اعتراضات دائر کر رکھے ہیں انہی نشستوں پر مشترکہ پارلیمانی کمیٹی بنائی جائے.

سہیل وڑائج کہتے ہیں کہ میں نے اپنے معاشرے کی جن خرابیوں کا ذکر کیا ہے ان میں سے ایک اپنی غلطیوں کا اعتراف نہ کرنا بھی ہے۔ ان نے اپنی جدوجہد کےلیے محمود خان اچکزئی کو آگے لگایا ہے تو انہیں میڈیا، عدلیہ اور اپوزیشن کیساتھ کی گئی زیادتیوں کا اعتراف بھی کرنا چاہئے۔ ان کے دور میں میڈیا کو معاشی طور پر مفلوج کیا گیا، ہر تنقید کرنے والے صحافی کی ٹرولنگ کی گئی، خواتین تک کو گندی گالیاں دی گئیں، آج وہی سارے صحافی عمران کے ساتھ ہونے والی زیادتیوں پر احتجاج کر رہے ہیں مگر تحریک انصاف کو ابھی تک توفیق نہیں ہوئی کہ وہ اپنے پلیٹ فارم سے ماضی کی غلطیوں پر معافی مانگے اور خود پر ہونے والی تنقید کو برداشت کرنے کا حوصلہ بھی کرے۔ حالت یہ ہے کہ ادھر کوئی اینکر یا صحافی ایک فقرہ بھی تحریک انصاف کے خلاف کہہ دے تو وہ لفافی بن جاتا ہے اور ادھر آپ ان کی تعریف کریں تو زیرو سے ہیرو بنا دیئے جاتے ہیں۔ یہ رویہ جمہوری نہیں بلکہ فاشسٹ ہے۔ تحریک انصاف اب مشکل دور سے گزر رہی ہے تو نہ صرف کھلاڑی رہنما کو جمہوری اصولوں کو اپنانا چاہیے بلکہ اپنے اندھے عقیدت مندوں کو بھی سکھانا چاہیےکہ جمہوری معاشرے میں اختلاف رائے کو برداشت کرنا پڑتا ہے۔

سہیل وڑائج کہتے ہیں کہ آخر میں مقتدرہ سے گزارش ہے کہ 9 مئی میں ملوث افراد کو ضرور سزا دیں مگر کروڑوں ووٹ لینے والی جماعت کے ساتھ اپنا رویہ مختلف رکھیں۔ آگ لگانے والے سزا کے مستحق ہیں مگر ووٹ لینے والے تو انتخابی عمل کے تحت جیت کر آئے ہیں انہیں قبول کرنا چاہیے اور ساتھ ہی ساتھ دل بڑا کرکے غلطیوں کی معافی کی گنجائش بھی نکالنی چاہیے۔ جس نے سازش کی, اسے عبرت کا نشان بنائیں، سادہ لوح عقیدت مندوں کو ان کی بے وقوفی کی سزا بھی دیں مگر یہ خیال کریں کہ وہ منصوبہ بندی سے بے خبر مارے گئے ہیں…….

Back to top button