کیا سنتھیا رچی کی PTV میں جوائننگ کھٹائی میں پڑ گئی؟

اسلام آباد میں 10 برسوں سے مقیم مشکوک امریکی خاتون سنتھیا رچی کے پی ٹی وی جوائن کرنے کے اعلان کے حوالے سے جاری کردہ سرکاری ٹویٹ پی ٹی وی نے خود ہی ڈیلیٹ کر دی جس کے بعد یہ خدشات پیدا ہوگئے ہیں کہ شاید سنتھیا رچی کی سرکاری ٹی وی میں شمولیت کے حوالے سے کوئی تنازعہ پیدا ہو گیا ہے۔ بار بار کے رابطوں کے باوجود پی ٹی وی کا کوئی بھی عہدیدار اب امریکی بلاگر کی سرکاری ٹی وی میں شمولیت کے حوالے سے کوئی بات کرنے کو تیار نہیں ہے۔
یاد رہے کہ 31 اگست 2021 کو سرکاری ٹیلی ویژن پی ٹی وی نے امریکی بلاگر سنتھیا رچی کے پروگرام شروع کرنے کا اعلان ٹوئٹر پر شیئر کیا لیکن بعد ازاں اس بغیر کوئی وجہ بتائے ڈیلیٹ کر دیا گیا۔
تاہم یہ ضرور ہوا تھا کہ جیسے ہی یہ ٹویٹ سامنے آئی، سنتھیا کے ناقدین نے حکومت کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے اس فیصلے پر کڑی تنقید کی تھی۔ درضل پی ٹی وی نے اپنے آفیشل ہینڈل سے اعلان کیا تھا کہ ’مصنفہ اور فلم میکر سنتھیا ڈی رچی نے پاکستان ٹیلی ویژن نیٹ ورک میں شمولیت اختیار کی ہے اور اب وہ پی ٹی وی ورلڈ پر عنقریب پروگرام کریں گی۔‘سرکاری ٹیلی ویژن کے انگلش چینل پر امریکی بلاگر کے پروگرام شروع کرنے کا اعلان ٹوئٹر پر شیئر کیے کچھ ہی گھنٹے گزرے تھے کہ پی ٹی وی کے آفیشل ہینڈل سے یہ اطلاع ڈیلیٹ کر دی گئی۔ اس دوران امریکی بلاگر نے پی ٹی وی کے اعلان کو ری ٹویٹ کیا تو اسے ’اپنے لیے اعزاز‘ قرار دیا۔
سنتھیا ڈی رچی کی جانب سے جوابی ٹویٹ کے بعد جہاں متعدد صارفین نے انہیں ’نئی ملازمت‘ کی مبارکباد دی وہی کچھ صارفین پی ٹی وی کی جانب سے اعلان واپس لیے جانے کی وجہ جاننے میں دلچسپی لیتے بھی دکھائی دیے۔
خیال رہے کہ امریکی بلاگر ماضی میں 2018 کے الیکشن سے پہلے تحریک انصاف کی سوشل میڈیا ٹیم کا حصہ تھیں اور ان کا دعوی ہے کہ عمران خان سے انکی ذاتی شناسائی ہے۔ چند روز قبل اسلام آباد میں اپنی رہائش گاہ پر بیہوش پائی جانے والی سنتھیا کچھ عرصہ قبل تب خبروں کی زینت بنی تھیں جب انہوں نے رحمان ملک پر جنسی ذیادتی کا الزام عائد کیا تھا۔ وہ پاکستان میں مقامی ثقافت اور سیاحت کے حوالے سے ڈیجیٹل میڈیا کو استعمال کرتے ہوئے وی لاگنگ کے ساتھ ساتھ مختلف ٹی وی چینلز پر بطور مبصر بھی سامنے آتی رہی ہیں۔
حکومتی ذرائع کا کہنا ہے کہ شاید سنتھیا کے متنازعہ ماضی کی وجہ سے ہونے والی تنقید کے باعث ان کی پی ٹی وی میں شمولیت کا فیصلہ واپس لے لیا گیا ہے لیکن ابھی اس حوالے سے کوئی باضابطہ اعلان سامنے نہیں آیا. ماضی میں جب سنتھیا نے رحمان ملک پر جنسی زیادتی کا الزام لگایا تھا تو انہوں نے جوابی طور پر کیس دائر کرتے ہوئے انکی پاکستان سے بیدخلی کا مطالبہ کیا تھا۔ تاہم اسلام آباد ہائی کورٹ کی جانب سے سنتھیا کے بارے میں رپورٹ طلب کیے جانے کے بعد وفاقی وزارت داخلہ نے عدالت کو بتایا تھا کہ وہ پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ اور خیبرپختونخوا حکومت کے ساتھ کچھ منصوبوں پر کام کر رہی ہیں اور وہ پاکستان کے لیے کسی قسم کا خطرہ نہیں ہیں۔
