کیا سوشل میڈیا پر بشریٰ بی بی کو گالم گلوچ کے ذمہ دار کپتان خود ہیں؟

چونکہ آسمان کی طرف تھوکا ہمیشہ واپس منہ پر آتا ہے اس لیے عمران خان کی تربیت کردہ قوم یوتھ کی طرف سے سوشل میڈیا پر مریم نواز شریف کے خلاف گندی زبان کے استعمال کا ردعمل اب حجاب کرنے والی خاتون اول بشری بی بی کو بھی بھگتنا پڑ گیا ہے۔
اپنے سیاسی مخالفین کے خلاف مسلسل بدزبانی کر کے تسکین حاصل کرنے والے وزیر اعظم عمران خان کی تربیت کردہ قوم یوتھ نے سوشل میڈیا پر غلاظت کے جو نئے ریکارڈ قائم کیے ان کا بنیادی مقصد کپتان کی سب سے بڑی اور طاقتور حریف مریم نواز شریف پر گندگی اچھالنا ہے۔ تاہم دلیل کا جواب دلیل سے دینے کی بجائے سیاسی مخالفین کی ماں اور بہن کو گندی گالی دینے والے عمران خان اور ان کے فالوورز شاید بھول جاتے ہیں کہ انسان کرتے ہوئے وہ اپنی طاقت نہیں بلکہ اپنی اوقات دکھاتے ہیں۔ لہذا ناقدین کا یہ موقف غلط نہیں کہ پاکستانی سیاست میں اوئے توئے اور لچر اور گالیوں بھری بازاری زبان استعمال کرنے کا کلچر متعارف کروانے کا سہرا عمران خان کے سر ہے۔ دراصل یہ سب ہماری سماجی اور سیاسی اخلاقیات کا جنازہ بھی ہے جس پر جتنا بھی ماتم کیا جائے کم ہے۔
9 دسمبر 2020 کا دن شاید پاکستان سوشل میڈیا کی تاریخ میں غلیظ ترین دن تھا۔ اس دن ٹوئٹر ٹرینڈز کے نام پر قوم یوتھ کے ٹویٹر بریگیڈ نے جو غلاظت بکھیری اس سے ایسا تعفن اٹھنے لگا کہ سانس لینا دوبھر ہو گیا۔ اس سلسلے کی ابتدا یوں ہوئی کہ سب سے پہلے مریم نواز کے خلاف ایک ایسے غلیظ اور شرمناک ٹرینڈ کا آغاز کیا گیا کہ جس کا ذکر بھی نہیں کیا جا سکتا۔ اس کے بعد وزیرِاعظم عمران خان کی اہلیہ بشری بی بی کے بارے میں بھی جوابی طور پر اسی طرح کا ایک ٹرینڈ شروع ہوا اور پھر ایک تیسرا ٹرینڈ پنڈی والوں کے حوالے سے سامنے آ گیا جو ان کے سیاسی کردار کی غمازی کرتا تھا۔
سینیئر صحافی اور تجزیہ نگار عمار مسعود کے مطابق نواز لیگ یا مریم نواز کے خلاف ایسے شرمناک ٹوئٹر ٹرینڈز کوئی نئی بات نہیں۔ سیاسی خواتین کی بے حرمتی ٹوئٹر پر بڑے اہتمام سے کی جاتی رہی ہے۔ یہ تو 9 دسمبر کی بات ہے اگر آپ کو یاد ہو تو منڈی بہاؤالدین میں مریم نواز کے جلسے سے پہلے جو ٹوئٹر ٹرینڈ پاکستان کا ٹاپ ٹرینڈ تھا اس کا ذکر کوئی شریف آدمی گھر کی تاریکی میں بھی نہیں کر سکتا۔ لیکن یہ سب کچھ سوشل میڈیا پر دن دیہاڑے ہو رہا تھا۔ کسی کو خواتین کی عصمت، حرمت، حمیت اور عفت کا خیال نہیں آیا۔ لمحوں میں غلاظت سڑاند بن کر تعفن پھیلانے لگی تھی۔ عمار کہتے ہیں کہ سیاسی خواتین کے ساتھ ہمارا یہ رویہ نیا نہیں تھا۔ ہم ماضی میں بے نظیر کے خلاف بھی اس طرح کی مہم چلا چکے ہیں۔ نصرت بھٹو اور بیگم کلثوم نواز سے بھی یہ رویہ رکھا گیا ہے۔ فاطمہ جناح بھی اس کی زد میں آچکی ہیں۔ خاتون کو کمزور جان کر ہم اپنی طاقت کا مظاہرہ ہمیشہ ہی گالی دے کر کرتے ہیں۔ لیکن ایسا کرتے ہوئے دراصل لوگ اہپنی خاندانی تربیت کا مظاہرہ کرتے ہیں۔
سوال یہ ہے کہ کیا اس طرح کے نازیبا اور شرمناک ٹویٹر ٹریندز ہماری معاشرتی سوچ کی عکاسی کرتے ہیں یا پھر معاشرے اور اسٹیبلشمینٹ کا ایک مخصوص طبقہ اپنے سیاسی مخالفین کو گندہ کرنے کے لیے لئے پیسے خرچ کر یہ ٹرینڈ بناتا ہے۔ کہنے والے کہتے ہیں کہ دونوں باتیں سچ ہیں یعنی سیاست دانوں پر یہ گند اچھالنے میں معاشرے کے ساتھ ساتھ اسٹیبلشمنٹ بھی ملوث ہوتی ہے اور شاید اسی لیے اس مرتبہ سوشل میڈیا پر پنڈی والوں کو بھی گندی گالیاں پڑ گئیں۔ دراصل ٹویٹر ٹرینڈ بنانے والوں میں سوشل میڈیا پر متحرک سیاسی ورکرز کے علاوہ بیشتر لوگ فیک آئی ڈی والے ہوتے ہیں جو ففتھ جنریشن وار کے نام پر مختلف جگہ گالم گلوچ پر مامور ہوتے ہیں۔ ان کو نہ کسی اخلاقیات کا پاس ہوتا تھا نہ سمجھ۔ نہ کسی کی عزت کا خیال ہوتا تھا نہ اپنی غیرت ان کو اس گندے کام سے روکتی ہے۔ یہ بس بنا دیکھے سنے حکم کے غلام ایک روبوٹ کی طرح ٹرینڈ بنانے میں شامل ہو جاتے ہیں اور پھر دیے گے ٹارگٹ پر کیچڑ اچھالتے ہیں۔ اس مقصد کے لئے ملک کی سب سے بڑی خفیہ ایجنسی کے پاس ہزاروں نفوس پر مبنی ایک گالم گلوچ بریگیڈ بھی موجود ہے جو سیاستدانوں کی ماں بہن کرنے کے علاوہ اپنے بڑوں کے ایما پر حب الوطنی اور غداری کے سرٹیفیکیٹس بھی بانٹتا ہے۔
تجزیہ نگار مسعود کے مطابق ٹوئٹر کو ایسی جگہ تصور کیا جاتا ہے جہاں ہر کسی کے بارے میں بلا روک ٹوک کچھ بھی کہا جا سکتا ہے، کوئی بھی بے بنیاد الزام لگایا جا سکتا ہے، کسی کی عزت بھی اچھالی جا سکتی ہے۔ کسی کی بھی غیرت کا جنازہ نکالا جا سکتا ہے۔ اسل لیے اس دفعہ جب مریم نواز پر ٹوئٹر ٹرینڈ بنا تو حیرت نہیں ہوئی۔ لیکن عمار کے بقول نرم مخاکف ٹرینڈ کے ردعمل میں ٹوئٹر پر بشری بی بی اور پنڈی مخالف جو دو ٹاپ ٹرینڈز وجود میں آئے وہ حیرت کا موجب ضرور تھے۔ ایسا پہلے کبھی نہیں ہوا تھا۔ اتنے غلیظ ٹرینڈز کا مقابلہ کیا جانا نئی بات تھی۔ یہ دو ٹوئٹر ٹرینڈز پہلے سے زیادہ ثابت قدم ثابت ہوئے اور جلد ہی ٹاپ ٹرینڈز بن گے۔
عمار مسعود یاد دلواتے ہیں کہ ابھی کچھ دن پہلے کی بات ہے کہ نواز شریف نے لاہور میں سوشل میڈیا ورکرز کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے سوشل میڈیا ایکٹوسٹس کو یہ بات بڑے رسان سے سجھائی تھی کہ لوگوں سے اختلاف ضرور کریں مگر اس اختلاف میں تہذیب کا دامن ہاتھ سے نہ چھوڑِیں، اخلاقیات کو کبھی درگزر نہ کریں۔ تو ایسے میں سوچنے کی بات یہ ہے کہ کیا وجہ ہوئی کہ ایک غلیظ ٹرینڈ کے جواب میں دو ایسے ہی غلیظ ٹرینڈ وجود میں آگئے۔
پہلا ٹرینڈ باقاعدہ منصوبہ بندی سے شروع کیا گیا تھا باقی دوغلیظ ٹرینڈ بظاہر احتجاج میں شروع کیے گئے ان کے پیچھے نہ کوئی ٹرولز کی فیکٹری تھی نہ گالی دینے والے ملازم پیشہ لوگ۔ نہ کوئی منظم سوچ تھی نہ کوئی باقاعدہ منصوبہ۔ یہ جوابی ٹرینڈ ایسے ہی کسی نے شروع کیے اور دیکھتے ہی دیکھتے ٹوئٹر کے افق پر دیر تک چھائے رہے۔ بے شمار لوگ اس غلیظ کھیل میں خود بخود شامل ہوگئے۔ ٹوئٹر کی زبان میں ایسے ٹرینڈ کو آرگینک ٹرینڈ کہتے ہیں۔
عمار مسعود کہتے ہیں کہ میں کوئی ڈیجٹل ریسرچ کے امور کا ماہر نہیں ہوں لیکن میری دانست میں ان ٹرینڈز کے وجود میں آنے کی چند بنیادی وجوہات ہیں۔ ایک تو یہ کہ لوگوں میں غم و غصہ پایا جاتا تھا اس کا کہیں نہ کہیں ضرور اظہار ہونا تھا۔ لوگ جب اکژیت میں تمسخر اور تضحیک کا مدت تک شکار ہوتے رہیں تو ایک دن آخر کار ان کی برداشت جواب دے جاتی ہے اور ان کا ردعمل قدرتی ہوتا ہے۔
دوسرا اس طرح کے غلیظ ٹرینڈ کا موجد ہمیشہ سے سیاسی جماعتوں خصوصاً ایک جماعت یعنی تحریک انصاف کے پیشہ ور ٹرولز ہوتے تھے جو سوشل میڈیا پر جو چاہتے کرتے تھے۔لیکن اب سوشل میڈیا بدل رہا ہے۔ اب اس پر مریم نواز اور ن لیگ کی حکمرانی ہے۔ یہ اتنا سچ ہے کہ اب ن لیگ اپنے ورکرز کے جلسے کو جلسہ نہیں کہتی بلکہ سوشل میڈیا ورکرز کنوشن کہتی ہے۔ یہ سوشل میڈیا اب پاکستان میں مریم نواز کی راج دھانی ہے۔ جنہوں نے ان سوشل میڈیا ایکٹوسٹس کو ایک بہت متحرک سیاسی قوت میں بدل دیا ہے۔ اب لوگ سوشل میڈیا پر ان کے خلاف بات نہیں سن سکتے۔
تیسرا یہ کہ گالی کھانے والے گالی کھا کھا کر اب گالیاں دینے بھی لگے ہیں۔ انہیں بھی اپنے لیڈروں کا دفاع کرنا آ گیا ہے۔
چوتھا یہ کہ الیکٹرانک میڈیا پر من مانی کرنے والوں نے اب الیکٹرانک میڈیا کی اہمیت ہی ختم کر دی ہے۔ اب لوگ ہر بات جاننے کے لیے سوشل میڈیا کا سہارا لیتے ہیں۔ اگر الیکٹرانک میڈیا کے تن مردہ میں ذرا بھر بھی جان ہوتی تو سوشل میڈیا کے یہ ٹرینڈز اتنی شہرت نہ پاتے۔
پانچواں سبب یہ ہے کہ سوشل میڈیا پر پیشہ ور ٹرولز جتنی مرضی کوشش کر لیں وہ سوشل میڈیا پر موجود عام آدمی اور اس کی قوت کا مقابلہ نہیں کر سکتے۔ لوگوں کی اکثریت اگر اپنی بات کہنے پر آ جائے تو بڑے بڑے برج گرا دیتی ہے۔ چھٹی اور آخری وجہ یہ ہے کہ ہر عمل کا بالاخر ردعمل ہوتا ہے۔
