کیا سپریم کورٹ ڈاکٹر قدیر خان کو آزاد کر پائے گی؟

پاکستانی نیوکلیئر بم کے خالق سمجھے جانیوالے سائنسدان ڈاکٹر عبدالقدیرخان نے مشرف حکومت کی جانب سے اپنی نقل و حرکت پر پابندیاں عائد کیے جانے کے تقریباً دو عشرے بعد سپریم کورٹ سے اپیل کی ہے کہ ان کی نظر بندی ختم کر کے انہیں آزادی دی جائے۔
جواب میں سپریم کورٹ نے ابتدائی طور حکام کو ہدایت کی کہ سکیورٹی اداروں کی غیر موجودگی میں قدیر خان سے ان کے وکلاء کی ملاقات کا بندوست کیا جائے۔ تاہم جب ڈاکٹر قدیر خان کو ان کے وکیل سے ملاقات کے لیے سپریم کورٹ کی بلڈنگ میں لایا گیا گیا تو سکیورٹی اداروں نے ان کو علیحدگی میں ملاقات کرنے کی اجازت نہ دی چنانچہ ڈاکٹر قدیر احتجاجا خاموش رہے۔
بعدازاں اس بات کا علم ہونے پر سپریم کورٹ نے ناراضی کا اظہار کیا اور وفاقی حکومت کو سختی سے ہدایت کی ڈاکٹر قدیر کی انکے وکیل سے بالکل علیحدگی میں ان کی رہائش گاہ پر ملاقات کروائی جائے۔
واضح رہے کہ سابق فوجی آمر جنرل پرویز مشرف نے ڈاکٹر قدیر پر نیوکلیئر ٹیکنالوجی بیچنے کے الزام کے بعد امریکی دباؤ میں آکر انہیں گھر میں نظر بند کر دیا تھا اور وہ آج 20 برس بعد بھی زیر حراست ہیں۔ یاد رہے کہ مشرف دور میں پی ٹی وی پر ایک فوٹیج جاری کی گئی تھی جس میں جنرل مشرف اور قدیر خان کی ملاقات کا منظر دکھایا گیا تھا۔ پھر یہ بتایا گیا کہ ڈاکٹر قدیر نے جنرل مشرف کے سامنے اپنے جرائم کا اعتراف کیا اور رحم کی اپیل بھی کی جس پر انہیں معاف کر دیا لیکن ان کی اپنی حفاظت کی خاطر انہیں ان کے گھر تک محدود کر دیا گیا۔ تب سے ڈاکٹر قدیر اپنے گھر پر قید ہیں اور انہیں کسی سے ملنے کی اجازت نہیں۔
اگرچہ سابق فوجی آمر کی حکومت کے بعد ملک میں دو جمہوری حکومتیں اپنی مدت مکمل کر چکی ہیں اور تیسری حکومت برسرِ اقتدار ہے، تاہم اس عرصے کے دوران بھی ڈاکٹر قدیر کی نقل وحرکت پر مکمل پابندی ہے۔ دوسری طرف ڈاکٹر عبدالقدیر خان کا موقف ہے کہ پرویز مشرف نے اپنے اقتدار کو بچانے کے لیے انہیں قربانی کا بکرا بنایا اور ان ہر جھوٹے الزام لگائے ۔ وہ کہتے ہیں کہ میں نے نہ تو ایٹمی راز کسی کو بیچے اور نہ ہی کسی فورم پر ان جھوٹے الزامات کو تسلیم کیا اور اس حوالے سے مشرف دور میں جو بھی اعلان کیا گیا وہ جھوٹ کا پلندہ تھا۔
اب ڈاکٹر قدیر خان نے سپریم کورٹ سے رجوع کرتے ہوئے اپنی نقل و حرکت پر پابندی ختم کرنے کی اپیل کی ہے۔
سپریم کورٹ میں ان کی پٹیشن کی سماعت کے دوران اٹارنی جنرل خالد جاوید نے عدالت کو بتایا کہ کچھ دیر میں وکیل صاحب کی ڈاکٹر عبدالقدیر خان سے ملاقات کروا دیتے ہیں جس پر ڈاکٹر عبدالقدیر کے وکیل نے سوال کیا کہ ان کے مؤکل کیسے آزاد شہری ہیں کہ ان سے ملاقات کے لیے وفاقی حکومت سے اجازت لینا پڑتی ہے۔ بعد ازاں عدالتی حکم پر ایٹمی سائنس دان کو سخت سکیورٹی میں ججز گیٹ کے ذریعے سپریم کورٹ لایا گیا اور اُنھیں عدالت میں پیش کرنے کی بجائے رجسٹرار آفس میں بٹھایا گیا۔ ڈاکٹر قدیر خان سے ان کے وکلا نے سپریم کورٹ کے رجسٹرار آفس میں ملاقات کی تو اس دوران سکیورٹی ادارے کے اہلکار بھی موجود تھے۔
اٹارنی جنرل نے ملاقات کروانے کے بعد جب عدالت کو بتایا کہ ڈاکٹر قدیر سے ان کے وکلاء کی ملاقات کروا دی گئی ہے تو ڈاکٹر عبدالقدیر کے وکیل توفیق آصف نے عدالت کو بتایا کہ ان کی اپنے مؤکل سے صرف سلام دعا ہوئی ہے جبکہ انکی درخواست کے بارے میں کوئی بات نہیں ہوئی کیونکہ وہاں پر خفیہ اور سکیورٹی اداروں کے اہلکار بھی موجود تھے۔ اس پر عدالت نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ کیا ایک وکیل کو اپنے مؤکل سے علیحدگی میں ملاقات کی اجازت بھی نہیں ہے۔ بینچ کے سربراہ جسٹس مشیر عالم نے خفگی کا اظہار کرتے ہوئے حکم دیا کہ ڈاکٹر قدیر کے ساتھ ان کے وکلاء کی ملاقات میں کوئی اہلکار موجود نہیں ہو گا۔ دوران سماعت عدالت کو بتایا گیا کہ سکیورٹی اہلکار عبدالقدیر خان کو ان کی رہائش گاہ پر واپس لے جا چکے ہیں، جس پر عدالت نے وکلاء کی ملاقات ڈاکتر قدیر سے ان کی رہائش گاہ پر علیحدگی میں کروانے کا حکم دیا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button