کیا سکھوں کے روحانی پیشوا بابا گرو نانک مسلمان تھے ؟

اگرچہ دنیا بھر کے سکھ بابا گرو نانک کو اپنے مذہب کا بانی اور پیشوا مانتے ہیں لیکن آج بھی بہت سے مسلمانوں کا خیال ہے کہ گرو نانک توحید پرست مسلمان تھے۔ مکہ مکرمہ کی زیارت اور پیغمبر آخرالزماں کے بارے میں نانک کی شاعری، ان کے مسلمان ہونے کی دلیل ہے۔ تاہم سکھ اور مسلمان مورخین کی اکثریت اس حوالے سے متضاد نکتہ نظر رکھتی ہے۔
سکھ اور مسلم مورخین اس نکتے پر متفق ہیں کہ ﮔﺮﻭ ﻧﺎﻧﮏ ﺍﺳﻼﻡ ﮐﮯ ﻓﻠﺴﻔﮧ ﺗﻮﺣﯿﺪ ﺳﮯ ﺑﮯ ﺣﺪ ﻣﺘﺎﺛﺮ ﺗﮭﮯ ﺍﻭﺭ ہندو والدین کے ہاں پیدا ہونے کے باوجود ﺑﺖ ﭘﺮﺳتی ﺳﮯ ﺷﺪﯾﺪ ﻧﻔﺮﺕ ﮐﺮﺗﮯ ﺗﮭﮯ۔ کہا جاتا ہے کہ ﮔﺮﻭ ﻧﺎﻧﮏ ﮐﻮ ﺗﻌﻠﯿﻢ ﺩﻟﻮﺍﻧﮯ ﮐﺎ ﺍﻧﺘﻈﺎﻡ ﺧﻮﺩ ﺍﻥ ﮐﮯ ﻭﺍﻟﺪ ﻧﮯ ﮐﯿﺎ ﺍﻭﺭ ہندو ہونے کے باوجود ﺍﻧﮩﯿﮟ ﺍﯾﮏ ﻣﺴﻠﻤﺎﻥ ﻣﻌﻠﻢ ﺳﯿﺪ ﺣﺴﻦ ﮐﮯ ﮨﺎﮞ ﺑﭩﮭﺎﯾﺎ۔ ﭼﻨﺎﻧﭽﮧ ﺑﭽﭙﻦ ﮨﯽ ﺳﮯ ﮔﻮﺭﻭ ﻧﺎﻧﮏ ﺍﺳﻼﻣﯽ ﻋﻘﺎﺋﺪ ﺳﮯ ﻭﺍﻗﻒ ﮨﻮﮔﺌﮯ اور ﺻﻮﻓﯿﺎﺀ کرﺍﻡ کی تصانیف ﮐﺎ ﭘﻨﺠﺎﺑﯽ ﻣﯿﮟ ﺗﺮﺟﻤﮧ ﮐﺮﻧﮯ ﻟﮕﮯ۔ عین شباب میں دنیا و مافیہا تیاگ کر نانک حق کی تلاش میں نکل پڑے۔ مکہ مدینہ کے سفر سے واپسی پر گرو نانک نے پیران پیر حضرت شیخ عبدالقادر جیلانی کی درگاہ پر قیام کیا۔ وہ ﺣﻀﺮﺕ ﺑﻮﻋﻠﯽ ﻗﻠﻨﺪﺭ ﭘﺎﻧﯽ ﭘﺘﯽ،ﺣﻀﺮﺕ ﺑﮩﺎﺋﻮ ﺍﻟﺪﯾﻦ ﺫﮐﺮﯾﺎ ملتانی ﺍﻭﺭ ﺣﻀﺮﺕ ﻣﺮﺍﺩ ﻋﻠﯿﮧ ﺍﻟﺮﺣﻤﮧ ﮐﮯ ﻣﺰﺍﺭﺍﺕ ﭘﺮ ﭼﻠﮧ ﮐﺶ ﮨﻮﺋﮯ۔ ﺍﺟﻤﯿﺮ ﺷﺮﯾﻒ ﻣﯿﮟ ﺣﻀﺮﺕ ﺧﻮﺍﺟﮧ ﻣﻌﯿﻦ ﺍﻟﺪﯾﻦ ﭼﺸﺘﯽ ﻋﻠﯿﮧ ﺍﻟﺮﺣﻤﮧ ﮐﮯ ﻣﺰﺍﺭ ﭘﺮ ﭼﺎﻟﯿﺲ ﺩﻥ ﭼﻠﮧ ﮐﯿﺎ۔ ﺑﻤﻘﺎﻡ ﺳﺮﺳﮧ ﺣﻀﺮﺕ ﺷﺎﮦ ﻋﺒﺪﺍﻟﺸﮑﻮﺭ ﻋﻠﯿﮧ ﺍﻟﺮﺣﻤﮧ ﮐﯽ ﺧﺎﻧﻘﺎﮦ ﭘﺮ ﭼﺎﻟﯿﺲ ﺩﻥ ﭨﮭﮩﺮﮮ۔ ﺣﺴﻦ ﺍﺑﺪﺍﻝ ﮐﯽ ﭘﮩﺎﮌﯼ ﭘﺮ ﺣﻀﺮﺕ ﺑﺎﺑﺎ ﻭﻟﯽ ﻗﻨﺪﮬﺎﺭﯼ ﻋﻠﯿﮧ ﺍﻟﺮﺣﻤﮧ ﮐﯽ ﺑﯿﭩﮭﮏ ﭘﺮقیام کیا۔ ﭘﺎﮎ ﭘﺘﻦ ﺷﺮﯾﻒ ﻣﯿﮟ ﺣﻀﺮﺕ ﺷﯿﺦ ﻓﺮﯾﺪ ﺍﻟﺪﯾﻦ ﮔﻨﺞ ﺷﮑﺮ ﮐﮯ ﻣﺰﺍﺭ ﭘﺮ ﺧﻠﻮﺕ ﻧﺸﯿﻦ ﮨﻮﺋﮯ۔ مورخین کا ماننا ہے کہ ﮔﺮﻭﻧﺎﻧﮏ ﺍﺳﻼﻣﯽ ﻋﺒﺎﺩﺍﺕ ﻧﻤﺎﺯ، ﺭﻭﺯﮦ، ﺯﮐﻮٰۃ، ﺣﺞ ﺍﻭﺭ ﮐﻠﻤﮧ ﻃﯿﺒﮧ ﻭ ﺍﺫﺍﻥ ﮐﯽ ﺣﻘﺎﻧﯿﺖ ﺍﻭﺭ ﺍﮨﻤﯿﺖ ﺳﮯ ﺑﺨﻮﺑﯽ ﺁﮔﺎﮦ ﺗﮭﮯ۔ ﺍﷲ ﺗﻌﺎﻟﯽٰ ﮐﯽ ﻭﺍﺣﺪﻧﯿﺖ ﺍﻭﺭ ﭘﯿﻐﻤﺒﺮ ﺁﺧﺮ ﺍﻟﺰﻣﺎﮞ ﺣﻀﺮﺕ ﻣﺤﻤﺪﷺ ﮐﯽ ﺭﺳﺎﻟﺖ ﭘﺮ ﮐﺎﻣﻞ ﺍﻋﺘﻤﺎﺩ ﺭﮐﮭﺘﮯ ﺗﮭﮯ۔ ﻣﺼﻮﺭ ﭘﺎﮐﺴﺘﺎﻥ ﻋﻼﻣﮧ ﮈﺍﮐﭩﺮ ﻣﺤﻤﺪ ﺍﻗﺒﺎﻝ ﻧﮯ ﮔﺮﻭﻧﺎﻧﮏ ﮐو ہندوستان میں توحید کا داعی اور مرد کامل کا خطاب دیا۔

ﺑﺎﺑﺎ ﮔﺮﻭﻧﺎﻧﮏ ﮐﯽ ﻭﻓﺎﺕ ﻗﺼﺒﮧ ﺩﺭﺑﺎﺭ ﺻﺎﺣﺐ ﮐﺮﺗﺎ ﺭﭘﻮﺭ ﺗﺤﺼﯿﻞ ﺷﮑﺮﮔﮍﮪ ﻣﯿﮟ ﮨﻮﺋﯽ ﺗﮭﯽ۔ﺍﻥ ﺍﯾﺎﻡ ﻣﯿﮟ ﮨﻨﺪﻭﺳﺘﺎﻥ ﭘﺮ ﺷﯿﺮﺷﺎﮦ ﺳﻮﺭﯼ ﮐﯽ ﺣﮑﻮﻣﺖ ﺗﮭﯽ۔ ﺍﻥ ﺩﻧﻮﮞ ﺳﮑھ ﻓﺮﻗﮧ ﺍﭘﻨﯽ ﻣﻮﺟﻮﺩﮦ ﮨﯿﺖ ﻣﯿﮟ ﮐﮩﯿﮟ ﻧﮩﯿﮟ ﺗﮭﺎ۔ ﺑﺎﺑﺎ ﮔﺮﻭﻧﺎﻧﮏ ﮐﯽ ﻭﻓﺎﺕ ﮐﮯ بعد ﮐﺮﺗﺎ ﺭﭘﻮﺭ ﮐﮯ ﮨﻨﺪﻭﺋﻮﮞ ﺍﻭﺭ ﻣﺴﻠﻤﺎﻧﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺳﺨﺖ ﻧﺰﺍﻉ ﭘﯿﺪﺍ ﮨﻮﺍ۔ ﮨﻨﺪﻭ ﺍﺱ ﺑﺎﺕ ﮐﮯ ﺩﻋﻮﯾﺪﺍﺭ ﺗﮭﮯ ﮐﮧ ﺑﺎﺑﺎ ﮨﻨﺪﻭ ﺗﮭﮯ ﺍﺱ ﻟﺌﮯ ﺍﻥ ﮐﯽ ﺍﺭﺗﮭﯽ ﮐﻮ ﻧﺬﺭ ﺁﺗﺶ ﮐﯿﺎ ﺟﺎﺋﮯ ﮔﺎ۔ ﻣﺴﻠﻤﺎﻥ ﺍﺱ ﺑﺎﺕ ﮐﮯ ﺩﻋﻮﯾﺪﺍﺭ ﺗﮭﮯ ﮐﮧ ﺑﺎﺑﺎ ﺟﯽ ﻣﺴﻠﻤﺎﻥ تھے، ﺍﻧﮩﯿﮟ ﮐﺌﯽ ﺑﺎﺭ ﻧﻤﺎﺯ ﺍﺩﺍ ﮐﺮﺗﮯ ﺑﮭﯽ ﺩﯾﮑﮭﺎ ﮔﯿﺎ اور ﺍﺱ ﮐﮯ ﭼﺸﻢ ﺩﯾﺪ ﮔﻮﺍﮦ ﺑﮭﯽ ﻣﻮﺟﻮﺩ ﮨﯿﮟ۔ ﻟﮩﺬﺍ ﮨﻢ ﺍﻧﮩﯿﮟ ﺑﺎﻗﺎﻋﺪﮦ ﻧﻤﺎﺯ ﺟﻨﺎﺯﮦ ﭘﮍﮪ ﮐﺮ قبر میں ﺩﻓﻦ ﮐﺮﯾﮟ ﮔﮯ۔ ﻗﺮﯾﺐ ﺗﮭﺎ ﮐﮧ ﺑﺎﺑﺎ ﺟﯽ ﮐﯽ ﺗﺪﻓﯿﻦ ﮐﮯ ﻣﺴﺌﻠﮧ ﭘﺮ ﮨﻨﺪﻭ ﻣﺴﻠﻢ ﻓﺴﺎﺩ ﺑﺮﭘﺎ ﮨﻮﺟﺎﺗﺎ ﺍﻭﺭ ﮐﺸﺖ ﻭ ﺧﻮﻥ ﺗﮏ ﻧﻮﺑﺖ ﭘﮩﻨﭻ ﺟﺎﺗﯽ ﮐﮧ ﺗﺤﺼﯿﻠﺪﺍﺭ ﭘﺮﮔﻨﮧ ﺷﮑﺮﮔﮍﮪ ﻧﮯ ﻣﻮﻗﻊ ﭘﺮ ﭘﮩﻨﭻ ﮐﺮ ﺑﯿﭻ ﺑﭽﺎﺋﻮ ﮐﺮﻭﺍﺩﯾﺎ۔ اس حوالے سے یہ قصہ مشہور ہے کہ ﺗﺤﺼﯿﻞ ﺩﺍﺭ ﻧﮯ ﻋﻼﻗﮯ ﮐﮯ ﻣﺴﻠﻤﺎﻧﻮﮞ ﮐﯽ ﺍﯾﮏ ﺧﻔﯿﮧ ﻣﯿﭩﻨﮓ ﺑﻼﺋﯽ ﺍﻭﺭ ﮐﮩﺎ ﮐﮧ ﺗﻢ ﻟﻮﮒ ﺁﺩﮬﯽ ﺭﺍﺕ ﮐﮯ ﻭﻗﺖ ﺑﺎﺑﺎ ﺟﯽ ﮐﯽ ﻣﯿﺖ ﮐﻮ ﭼﭙﮑﮯ ﺳﮯ ﺍﮌﺍﻟﻮ ﺍﻭﺭ ﭘﻨﺪﺭﮦ ﺑﯿﺲ ﭼﯿﺪﮦ ﭼﯿﺪﮦ ﻣﺴﻠﻤﺎﻥ ﺑﺎﺑﺎ ﺟﯽ ﮐﯽ ﻧﻤﺎﺯ ﺟﻨﺎﺯﮦ ﭘﮍﮪ ﮐﺮ ﺍﻧﮩﯿﮟ ﺧﺎﻣﻮﺷﯽ ﺳﮯ ﺩﻓﻦ ﮐﺮﺩﯾﮟ۔ ﺗﻌﻠﻘﮧ ﺩﺍﺭ ﯾﻌﻨﯽ ﺗﺤﺼﯿﻠﺪﺍﺭ ﻧﮯ ﺗﺠﻮﯾﺰ ﭘﯿﺶ ﮐﯽ ﮐﮧ ﺻﺒﺢ ﮐﮯ ﻭﻗﺖ وہ ایک ﻣﻌﻄﺮ ﺭﯾﺸﻤﯽ ﭼﺎﺩﺭ ﭼﺎﺭﭘﺎﺋﯽ ﭘﺮ ﮈﺍﻝ ﺩﯾﮟ گے ﺍﻭﺭ ﺷﻮﺭ ﻣﭽﺎﺩﯾﮟ گے ﮐﮧ ﺑﺎﺑﺎ ﺟﯽ ﮐﯽ ﻣﯿﺖ ﮐﻮ ﭘﺮﻣﺎﺗﻤﺎ ﻧﮯ ﺁﮐﺎﺵ ﭘﺮ ﺑﻼﻟﯿﺎ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﯾﮧ ﻣﻌﻄﺮ ﭼﺎﺩﺭ ﺑﮭﯿﺞ ﺩﯼ ﮨﮯ۔ ﺍﺱ ﭼﺎﺩﺭ ﮐﻮ ﺩﻭ ﭨﮑﮍﮮ ﮐﺮﮐﮯ ﮨﻨﺪﻭ ﺍﻭﺭ ﻣﺴﻠﻤﺎﻥ ﺁﭘﺲ ﻣﯿﮟ ﺑﺎﻧﭧ ﻟﯿﮟ۔ ﻣﺴﻠﻤﺎﻥ ﭼﺎﺩﺭ ﮐﻮ ﺩﻓﻦ ﮐﺮﺩﯾﮟ ﺍﻭﺭ ﮨﻨﺪﻭ ﺍﺳﮯ ﻧﺬﺭ ﺁﺗﺶ ﮐﺮﺩﯾﮟ۔ ﭼﻨﺎﻧﭽﮧ ﺍﯾﺴﺎ ﮨﯽ ﮨﻮﺍ۔ ﺗﻌﻠﻘﮧ ﺩﺍﺭ ﭘﺮﮔﻨﮧ ﺷﮑﺮ ﮔﮍﮪ ﮐﯽ ﯾﮧ ﺍﺳﮑﯿﻢ ﮐﺎﻣﯿﺎﺏ ﺭﮨﯽ۔ ﮨﻨﺪﻭﺋﻮﮞ ﮐﻮ ﻋﻠﻢ ﻧﮧ ﮨﻮﺳﮑﺎ ﮐﮧ ﺑﺎﺑﺎ ﮔﺮﻭﻧﺎﻧﮏ ﺩﻓﻨﺎ ﺩﯾﺌﮯ ﮔﺌﮯ ﮨﯿﮟ۔

بابا گرونانک کو مسلمان، ہندو اور سکھ متفقہ طور پراپنا روحانی پیشوا مانتے ہیں۔ مسلمانوں سے خصوصی قربت مسلم بزرگوں کی صحبت سے فیضیاب ہونے اور اسلامی تعلیمات پر عمل کرنے والے سکھ مذہب کے بانی بابا گرونانک پنجاب میں ننکانہ صاحب کے نام سے مشہور تلونڈی نامی گاؤں میں 1469 میں ایک کھتری نسل کے ہندو گھرانے میں پیدا ہوئے۔ آپ کے والد مہتہ کالو اور والدہ ترتپا دونوں ہی نیک و پارسا ہندو تھے۔۔ تاریخ کے اوراق سے پتا چلتا ہے کہ رسمی تعلیم کی طرف ان کا رجحان کم ہی تھا البتہ انہوں نے ہندی، عربی اور فارسی خوب سیکھی۔ بعد دازاں راہ حق کی تلاش میں نے قریبی جنگل میں جا کر سادھوؤں اور مہاتماؤں کی صحبت اختیار کی۔ نانک حق کے متلاشی تھے، لیکن ان کے گھر والے انہیں عمومی کام کاج میں مشغول رکھنا چاہتے تھے، اس کے لیے کبھی انہیں بھینسیں چرانے کو بھیجا گیا تو کبھی کاروبار کرنے پر مجبور کیا گیا اور آخر کہا گیا کہ اور کچھ نہیں تو کھیتی باڑی کا کام ہی کرلو، جس پر نانک نے کہا کہ میں تن کے کھیت میں دل کا ہل چلا کر نیک کام کاشت کرنا چاہتا ہوں اور جب فصل اُگے گی تو میرا خاندان ہی کیا تمام دنیا خوشحال ہو جائے گی۔

کہتے ہیں کہ جب نانک کے اطوار سے ان کے گھر والے مطمئن نہ ہوئے تو آخرکار انہوں نے نانک کی شادی کر دی کہ شاید اسی طرح وہ دنیا داری کی طرف مائل ہو جائیں۔ جب یہ گر بھی کام نہ آیا تو نانک جی کے گھر والوں نے انہیں سلطان پور کے نواب دولت خان کے گودام میں رسد کا حساب کتاب رکھنے پر نوکری دلوا دی۔ یہاں ایک عجب واقعہ پیش آیا۔ مورخین لکھتے ہیں کہ جب نانک رسد تولتے ہوئے 13 کی گنتی تک پہنچتے تو ’تیرا۔۔۔میں تیرا‘ کا نعرہ لگاتے ہوئے دم بخود ہوجایا کرتے۔ نانک دل کھول کر گودام کا مال غریبوں میں باٹنے لگے۔ جب نواب صاحب سے شکایت کی گئی کہ نانک آپ کا مال لٹا رہے ہیں تو انہوں نے گودام کا حساب کتاب دوبارہ لگوایا لیکن تمام اجناس پوری نکلیں۔ گرو نانک نے جب دعوت حق و تبلیغ کا سفر ختم کیا تواپنے آخری سال نارووال کے قریب کرتارپور میں گزارے۔ یہاں ہزاروں لوگ ان کا دیدار کرنے آتے۔ گرو نانک نے کئی آزمائشیں لینے کے بعد اپنی گدی بھائی لہنا کو سونپ دی۔ اس کے بعد انہوں نے اپنے خاندان اور خادموں کو جمع کیا اور خدا کی حمد وثنا بیان کی۔ پھر تمام مجمعے نے ایسا ہی کیا۔ اتنے میں بابا گرو نانک مراقبے میں چلے گئے اور 1539ان کا وصال ہوا۔ تاریخ بتاتی ہے کہ پاکستان کے ضلع ناروال میں کرتار پور ہی وہ مقام ہے جہاں سکھوں کے پہلے گرو نے اپنی زندگی کے آخری ایام بسر کیے تھے۔ اسی مقام پر ان کی ایک سمادھی اور قبر بھی ہے جو سکھوں کے لیے مقدس ترین مقام ہے۔ حکومت پاکستان نے بھارت میں بسنے والے سکھ زائرین کی سہولت کے لئے یہاں عالمی معیار کا کوریڈور تعمیر کروایا ہے لیکن اب یہاں صرف سکھ ہی نہیں بلکہ مسلمان بھی گرونانک کو سلا م عقیدت پیش کرنے کے لئے جاتے ہیں کیونکہ نانک جی نے توحید پرستی اور بھائی چارے کا درس دیا ہے

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button