کیا سیاست واقعی کاروبار بن چکی ہے؟

حال ہی میں منظر عام پر آنے والی شوگر سکینڈل انکوائری رپورٹ نے ایک مرتبہ پھر ثابت کیا ہے کہ برسر اقتدار سیاستدان اپنے ذاتی اور تجارتی مفادات کو فروغ دینے کی خاطر اپنے اختیارات کا بے دریغ ناجائز استعمال کرتے ہیں۔ بنیادی وجہ یہ ہے کہ پاکستانی سیاست دان سیاست کو بھی ایک بزنس سمجھ کر کرتے ہیں۔
کاروبار اور سیاست دو الگ چیزیں ہیں، مگر پاکستان میں یہ دونوں ایک دوسرے کے بغیر ممکن نہیں، نہ سیاست کے بغیر کاروبار ممکن ہے اور نہ ہی کاروبار بنا سیاست۔ اگرچہ اصولی طو پر سیاست اور کاروبار بالکل الگ تھلگ ہونے چاہئیں، سیاستدانوں کو کاروبار اور کاروباری افراد کو سیاست نہیں کرنی چاہئےلیکن یہاں ایسا محض ایک خواب نظر آتا ہے۔
پاکستان میں حکمرانوں کی طرف سے صنعتیں لگانے کی ناپسندیدہ روایت فیلڈ مارشل ایوب خان نے ڈالی جب انہوں نے اپنے بیٹوں کے ذریعے گندھارا موٹرز لگائی تھی۔
لیکن ملک کا اصل بیڑہ غرق تو جنرل ضیاءالحق نے کیا جس نے اتفاق سٹیل ملز خانوادے کے چشم و چراغ نواز شریف کو اپنا سیاسی بیٹا بنا لیا۔ شوگر ملیں لگانے کی ریت اسی دور میں پڑی۔ شریف فیملی، چودھری برادران ، ترین اور مخدوم خاندانوں سمیت سب نے شوگر ملیں لگائیں۔ رحیم یار خان سے تعلق رکھنے والے چودھری منیر ابوظہبی کے امیر شیخ زاید بن سلطان النیہان کے کاروباری مفادات کی نگرانی کرتے تھے۔وہ اماراتی شہزادوں کیلئے شکار کا انتظام کرتے تھے۔دولت آنے کے بعد ان کو بھی سیاست کا چسکا لگا تو انہوں نے خسرو برادران کو اپنا لیا اور شوگر ملیں لگوائیں ورنہ خسرو برادران کی اتنی مالی استطاعت نہیں تھی کہ وہ شوگر ملیں لگاتے۔ الغرض تمام سیاسی خاندانوں کا کاروبار کے ساتھ منسلک ہونا اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ یہاں ہر دور میں من مرضی کی سبسڈیز حاصل کی گئیں، بینکوں سے قرضے معاف کروائے گئے اور ایک دوسرے کے سیاسی خاندانوں کو زمینوں سے نوازا گیا۔ تبھی تو عام عوام قرضوں تلے دبتے چلے گئے اور ملک کا کباڑہ ہوگیا۔
اب چینی آٹا بحران سکینڈل کی رپورٹ منظر عام پر آنے کے بعد ایسا لگ رہا ہے کہ ہر دور میں یہ گل کھلائے جاتے رہے ہیں لیکن انہیں منظر عام پر نہیں لایا گیا۔ اس سکینڈل کو سمجھنے کی ضرورت ہے تاکہ ہمیں اندازہ ہو سکے کہ لٹیروں کے ہاتھوں کس قانونی انداز میں عوام کی جیبوں سے پیسے بٹورے جاتے رہے۔ حقیقت میں شوگر انڈسٹری کو اربوں روپے کی سبسڈی دینے کا معاملہ دو سال سے چل رہا تھا۔ شوگر انڈسٹری کہہ رہی تھی کہ ہم نے زیادہ چینی پیدا کر لی ہے لہٰذا ایکسپورٹ کرنے دیں۔ اُس وقت چینی کی قیمت 55 روپے فی کلو گرام تھی۔ اسد عمر بطور وزیرخزانہ نہیں مان رہے تھے، اس پر انہیں اوپر سے بھی کہا گیا کہ دے دو سبسڈی لیکن اسد عمر نے انکار کر دیا اور پھر وزارت سے ہٹا دیے گئے۔
بعد ازاں ایک راستہ نکالا گیا اور کہا گیا کہ چلیں ٹھیک ہے دس لاکھ نہیں آپ لوگ گیارہ لاکھ ٹن چینی ایکسپورٹ کر لیں۔ اس پر شوگر ملوں نے کہا کہ پھر ہمیں تین ارب روپے کی سبسڈی بھی دی جائے، جیسے ماضی میں ملتی رہی ہے۔ اس پر کہا گیا کہ وفاقی حکومت سبسڈی نہیں دے گی، ہاں صوبے دینا چاہیں تو ان کی مرضی۔ پہلے یہ فیصلہ ای سی سی میں ہوا، پندرہ بیس وفاقی وزیر جس کے ممبرز ہیں۔ پھر ای سی سی کا فیصلہ وفاقی کابینہ کو بھیجا گیا جس کی صدارت وزیر اعظم عمران خان کرتے ہیں۔ کابینہ نے ای سی سی کے چینی کی ایکسپورٹ دس سے بڑھا کر گیارہ لاکھ ٹن کرنے اور اس پر صوبوں کو سبسڈی دینے کے فیصلے کی منظوری دے دی۔ توقع کی جارہی تھی کہ سندھ حکومت وفاقی حکومت کے اس فیصلے کا سب سے بڑا فائدہ اٹھائے گی، کیونکہ زرداری کی آٹھ شوگر ملیں ہیں، لیکن جو رپورٹ سامنے آئی اس نے سب کے اوسان خطا کر دیے ہیں کیونکہ پنجاب ، جہاں تحریک انصاف کی حکومت ہے، کے علاوہ کسی صوبے نے ملوں کو سبسڈی نہیں دی۔ سندھ میں کسی مل کو ایک روپیہ خزانے سے نہیں دیا گیا۔ سچ تو یہ ہے کہ اگر شوگر سکینڈل کی رپورٹ نہ آتی یا دبا لی جاتی تو شاید پاکستانی عوام یہ حقیقت کبھی نہ جان پاتے۔
