کیا سینٹ الیکشن میں PTI کو پنجاب سے بڑا اپ سیٹ ملنے جارہا ہے؟

پنجاب میں حکمران تحریک انصاف کو نفاق اور گروپنگ کے باعث سینیٹ کے الیکشن میں سینیٹ کی سیٹیں کھونے کا خطرہ پیدا ہو گیا ہے جس کے بعد وزیراعظم عمران خان خود متحرک ہوگئے ہیں۔ حکومتی ذرائع کا کہنا ہے کہ سینیٹ کے الیکشن میں کسی بڑے اپ سیٹ سے بچنے کیلئے وزیر اعظم خفیہ رائے شماری کی بجائے اوپن بیلٹ پلٹ سسٹم لانے کے لیے سر توڑ کوششیں کر رہے ہیں۔ اس حوالے سے وہ اسمبلی میں ایک آئینی ترمیم کا بل بھی پیش کر چکے ہیں اور سپریم کورٹ میں بھی ایک آئینی پٹیشن دائر کروا چکے ہیں۔
یاد ریے کہ صوبہ پنجاب میں 22 میں سے ریٹائرڈ ہونے والے 11 سینیٹرز کی خالی نشستوں پر انتخاب ہونے جا رہا ہے. اپوزیشن جماعتوں کا دعویٰ ہے کہ حکمران اتحاد کو خفیہ ووٹنگ میں اپنے ارکان کے ووٹ ’اِدھر اُدھر‘ ہونے کا خوف ہے۔ تاہم حکومت اس تائثر کو رد کرتی یے اور پرامید ہے کہ سینیٹ انتخابات میں اسکے تمام امیدوار کامیاب ہوں گے اور انکے ممبران وفاداریاں بدلنے کی بجائے حکومتی امیدواروں کو ہی ووٹ دیں گے۔ پاکستان کی سیاست میں ایک جانب پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ کی حکومت مخالف تحریک چل رہی ہے تو دوسری جانب سینیٹ انتخابات میں جوڑ توڑ کا سلسلہ عروج پر پہنچ چکا ہے۔ لیکن عام تائثر یہی یے کہ مارچ میں متوقع سینیٹ الیکشن میں حکمران اتحاد کی مطلوبہ نشستوں پر کامیابی ایک چیلنج بن گئی ہے جبکہ اپوزیشن جماعتیں بھی اپنی عددی پوزیشن برقرار رکھنے کے لیے کوشاں ہیں۔ حکومت اپنے ارکان اسمبلی کو ترقیاتی فنڈز دینے کی یقین دہانی کرا رہی ہے جبکہ دوسری جانب خفیہ ووٹنگ کا قانون تبدیل کر کے اوپن ووٹنگ کا طریقہ طے کرنے کی جدوجہد بھی جاری ہے۔
آئینی طور پر سینیٹ انتخابات میں دیگر صوبوں کی طرح پنجاب میں بھی 22 میں سے ریٹائر ہونے والے 11 سینیٹرز کی خالی نشستوں پر انتخاب ہوگا۔ پنجاب کے ایوان میں کل 371 ممبران میں سے اس وقت 368 موجود ہیں، جن میں حکومتی اتحاد پی ٹی آئی، پاکستان مسلم لیگ ق اور راہ حق پارٹی کے کل ممبران کی تعداد 192 ہے جبکہ اپوزیشن جماعتوں مسلم لیگ ن اور پاکستان پیپلز پارٹی کے ممبران کی تعداد 172 ہے اور چار اراکین اسمبلی آزاد ہیں۔ اس پارٹی پوزیشن کے مطابق سینیٹ کے آئینی فارمولے کے تحت 11 نشستوں میں سے دو ٹیکنوکریٹ، دو خواتین جبکہ سات جنرل نشستوں پر ووٹنگ ہوگی۔ پارٹی ممبران کے ووٹوں کا تناسب سینیٹ کی جنرل نشستوں پر حصہ لینے والےسات امیدواروں کے لیے 48.5 ووٹ ہر امیدوارکو لینا لازمی ہوں گے جبکہ دو ٹیکنوکریٹ اور دو خواتین نشستوں کےامیدواروں کو تمام اراکین اسمبلی ووٹ ڈالیں گے اور زیادہ سے زیادہ ووٹ حاصل کرنے والے امیدوار ترتیب سے کامیاب قرار دیے جائیں گے۔ پارٹی پوزیشن کو مدنظر رکھتے ہوئے اس فارمولے کے تحت 11 میں سے چھ نشستیں حکومت جبکہ اپوزیشن کو پانچ نشستیں ملنی چاہییں یعنیٰ ٹیکنوکریٹ اور خواتین کی چار نشستوں میں سے دو حکومت اور دو پر اپوزیشن کے امیدوار کامیاب ہو سکتے ہیں۔
اسی طرح سات جنرل میں سے چار حکومتی اتحاد اور تین اپوزیشن کی نشستیں بنتی ہیں۔ کامیابی کے اس تناسب کو قائم رکھنے کے لیے حکومت اوپن ووٹنگ کے لیے ترمیم چاہتی ہے مگر اپوزیشن کا کہنا ہے کہ جس طرح سابقہ سینیٹ الیکشن میں پنجاب سے مبینہ طور پر اراکین ’خرید‘ کر خفیہ ووٹنگ کے تحت پی ٹی آئی نے اپنے امیدوار چوہدری سرور کو کامیاب کرایا تھا، اب انہیں خوف ہے کہ ان کے اراکین وفاداریاں تبدیل نہ کریں۔ سینیٹ انتخابات کے حوالے سے مسلم لیگ ن پنجاب کی سیکرٹری اطلاعات عظمیٰ بخاری نے بتایا کہ جس طرح وفاق میں وزیر اعظم نے سینیٹ انتخابات میں فنڈز دینے کا اعلان کیا اسی طرح پنجاب میں بھی اڑھائی ارب روپے کے فنڈز ترقیاتی فنڈز کے نام پر صرف حکمران جماعت کے ممبران کو جاری کیے جا رہے ہیں۔ ’یہ دراصل ممبران کو ووٹ دینے کے لیے رشوت دی جا رہی ہے۔‘ تاہم یاد رہے کہ سپریم کورٹ کے جج قاضی فائز عیسی وزیراعظم کی جانب سے اراکین اسمبلی کو سینیٹ الیکشن سے پہلے ترقیاتی فنڈز دینے کے عمل کا نوٹس لے چکے ہیں۔
عظمی بخاری نے کہا کہ پی ٹی آئی پارلیمانی پارٹی میں تین گروپس بن چکے ہیں، جو اب عمران اور بزدار کے جھانسے میں آنے کو تیار نہیں لہذا حکومت اپنی پالیسیوں کی وجہ سے متوقع نشستوں سے کم ہی جیتے گی۔ پیپلز پارٹی پنجاب کے پارلیمانی لیڈر حسن مرتضیٰ نے کہا کہ پی ٹی آئی نے جس طرح ہارس ٹریڈنگ سے چوہدری سرور کو جتوایا تھا اب اسی طرح انہیں خوف ہے کہ ان کے اراکین وفاداریاں تبدیل نہ کرلیں۔ ’حکمران اتحاد کافی مشکلات سے دوچار ہے اسی لیے کبھی ووٹنگ کا طریقہ بدلنے، کبھی اراکین کو لالچ دینے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ہمیں کوئی خوف نہیں ہمارے اراکین اپوزیشن امیدواروں کو ہی ووٹ دیں گے۔‘
یاد ریے کہ اگرچہ تحریک انصاف کو پنجاب میں حزب اختلاف پر واجبی سے برتری حاصل ہے تاہم بزدار کے مخالف پندرہ سے بیس ارکان کا فارورڈ بلاک سامنے آنے کے بعد انہیں خدشہ ہے کہ یہاں سے تحریک انصاف کی ایک یا دو سیٹیں کم ہو سکتی ہیں۔ اسی لئے ماضی کے ڈاکو چوہدری پرویز الٰہی کو ذمہ داری دی گئی ہے کہ وہ تمام حکومتی اراکین اسمبلی کی جانب سے اپنے امیدواروں کے حق میں ووٹ ڈالنے کو یقینی بنائیں۔
واضح رہے کہ گزشتہ سال سامنے آنے والے پی ٹی آئی پنجاب کے فارورڈ بلاک کی قیادت بزادر کے آبائی شہر تونسہ شریف سے منتخب ہونے والے خواجہ داؤد سلیمانی کر رہے ہیں جن کا کہنا ہے کہ عثمان بزدار ایک نااہل اور ناکام وزیراعلی ہیں جنہوں نے صوبے میں کرپشن کا بازار گرم کر رکھا یے۔ حالیہ دنوں خواجہ داؤد نے اسپیکر پنجاب اسمبلی چوہدری پرویز الہی سے بھی ملاقات کی ہے جسے معنی خیز قرار دیا گیا اور شاید اسی لیے وزیراعظم نے بھی یہی فیصلہ کیا کہ وہ داؤد سلیمانی جیسے ناراض اراکین کو منانے کے لئے پرویزالٰہی کو استعمال کریں۔ اس سے پہلے چودھری پرویز الہی نے سینیٹ الیکشن کے لیے عمران خان سے اپنی پارٹی کے سیکرٹری جنرل کامل علی آغا کے لیے ٹکٹ بھی حاصل کیا ہے۔
تجزیہ کار کہتے ہیں کہ رواں برس مارچ میں ہونے جا رہے سینٹ کے الیکشن میں تحریک انصاف حکومت کو اپنے ووٹ ٹوٹنے سے بچانے کا بڑا چیلنج درپیش ہے اور ایسا لگتا ہے کہ حکومت ایک آدھ سیٹ ضرور ہار جائے گی۔ یاد رہے کہ گزشتہ سینیٹ انتخابات میں خیبر پختونخوا سے تعلق رکھنے والے بیس سے زائد ایم پی ایز نے کپتان کی ہدایات کے برعکس اپنا ووٹ اپوزیشن امیدواروں کو ڈالا تھا جس کے بعد عمران خان نے انہیں پارٹی سے نکال دیا تھا۔ اب بھی وزیراعظم باربار یہ کہہ رہے ہیں کہ سینیٹ الیکشن میں اراکین اسمبلی کی بولی لگنا شروع ہو گئی ہے اور وہ ان تمام افراد کے نام جانتے ہیں جو ووٹ خرید رہے ہیں۔ اور اسی لئے انہوں نے سینیٹ الیکشن میں پنجاب اسمبلی کے اراکین کے ووٹ حکومتی امیدواروں کے حق میں ڈلوانے کی ذمہ داری عثمان بزدار کی بجائے پرویز الہی کے ذمے لگا دی ہے.
دوسری جانب وزیر اعلیٰ پنجاب کی معاون خصوصی برائے اطلاعات فردوس عاشق اعوان کا کہنا ہے کہ اپوزیشن سینیٹ الیکشن کے بارے میں بلاوجہ پروپیگنڈہ کر رہی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ممبران کو فنڈز کا اجرا معمول کا حصہ ہے جبکہ اپوزیشن جماعتیں اوپن ووٹنگ کی مخالفت اس لیے کر رہی ہیں کہ ان کے اپنے اراکین قیادت سے مایوس ہوگئے ہیں اور یہ ہارس ٹریڈنگ کا خاتمہ نہیں چاہتے کیونکہ چور راستوں سے کامیاب ہونے کے علاوہ ان کے پاس کوئی راستہ نہیں۔ فردوس عاشق اعوان نے دعویٰ کیا کہ حکمران اتحاد پنجاب سے سینیٹ کی مطلوبہ نشستوں سے زائد حاصل کرے گا۔ ’ہمیں کوئی خوف نہیں اس بار انتخابات شفاف کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔‘
دوسری طرف یہ اطلاعات ہیں کہ سپیکر پنجاب اسمبلی پرویز الہیٰ نے حکومت اور اپوزیشن کو تجویز پیش کی ہے کہ سینیٹ الیکشن کے معاملات افہام و تفہیم سے حل کیے جائیں، سب جماعتیں جوڑ توڑ چھوڑیں اور فارمولے کے تحت حکومت اور اپوزیشن امیداروں کو کامیاب کرائیں تاکہ جس کا جو آئینی حصہ بنتا ہے اسے مل جائے اور کوئی اپ سیٹ بھی نہ ہو۔ انہوں نے یہ بھی کہا ہے کہ اگر جوڑ توڑ کی سیاست ہوئی تو حکومت اور اپوزیشن ممبران اپنی مرضی کے مطابق کسی کو بھی ووٹ ڈال سکتے ہیں، جس سے دونوں طرف نشستیں اوپر نیچے ہونے کا خطرہ رہے گا۔ تاہم دونوں جانب سے اس تجویز پر ابھی کوئی حتمی فیصلہ سامنے نہیں آ سکا۔
