کیا شبلی فراز اور عاصم باجوہ اکٹھے چل پائیں گے؟

وزیرِ اعظم عمران خان نے اطلاعات و نشریات کی وزارت میں 18 ماہ کے دوران تیسری مرتبہ تبدیلی کرتے ہوئے معاون خصوصی برائے اطلاعات فردوس عاشق اعوان کو ہٹا کر اُن کی جگہ سابق فوجی ترجمان لیفٹننٹ جنرل ریٹائرڈ عاصم سلیم باجوہ کو اپنا معاون خصوصی جبکہ سینیٹر شبلی فراز کو وزیرِ اطلاعات و نشریات مقرر کیا ہے۔ تاہم سیاسی و صحافتی حلقوں میں یہ سوال زیر بحث ہے کہ حکومت کی ترجمانی شبلی فراز کریں گے یا عاصم سلیم باجوہ جن کا حکومتی یا سیاسی معاملات کے حوالے سے ماضی میں کوئی تجربہ نہیں ہے۔ سوال یہ بھی ہو گا کہ شبلی فراز عاصم باجوہ کے ساتھ کس طرح گزارا کریں گے۔
تجزیہ کار سابق فوجی ترجمان کے سول حکومت کی ترجمانی کرنے کے ٹاسک کو مشکل قرار دیتے ہوئے عاصم سلیم باجوہ کے حکومتی ترجمانی کا عہدہ قبول کرنے پر حیرانگی کا اظہار کرتے نظر آتے ہیں۔ انکے مطابق فوج کا ترجمان رہتے ہوئے سرکاری ادارے کا بیانیہ ذرائع ابلاغ پر چلانا آسان کام ہے لیکن ایک سیاسی حکومت کے ترجمان کے طور پر عاصم سلیم باجوہ کی کارکردگی کیا ہو گی۔ یہ آنے والا وقت ہی بتائے گا۔
اینکر پرسن صابر شاکر کا اس حوالے سے کہنا ہے کہ عاصم سلیم باجوہ کو لانے کا مقصد وزارتِ اطلاعات و نشریات کی مکمل تنظیم نو کرنا ہے کیونکہ وزارت اطلاعات اس وقت صرف حکومتی اشتہارات دینے اور مختلف میڈیا کمپین چلانے کا کام کر رہی ہے لیکن اس کے مقابلے میں آئی ایس پی آر بیانیہ بنانے اور اس کی تشہیر کا کام کر رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ کچھ عرصہ میں وزارت اطلاعات میں نہ صرف مقامی میڈیا بلکہ بین الاقوامی میڈیا کے حوالے سے بھی حکمت عملی ترتیب پائے گی اس کے ساتھ سوشل میڈیا میں پاکستان کا موقف زیادہ موثر انداز میں سامنے آ سکے گا۔ صابر شاکر کے مطابق جنرل عاصم باجوہ براہ راست پریس کانفرنسز میں کم نظر آئیں گے اور وزارت اطلاعات میں ریفارمز کے حوالے سے کام کریں گے۔
لیکن لیفٹننٹ جنرل ریٹائرڈ عاصم سلیم باجوہ کے سول حکومت کی ترجمانی کرنے کے عہدہ قبول کرنے بارے دفاعی تجزیہ کارلیفٹننٹ جنرل (ر) امجد شعیب کا کہنا ہے کہ ایک فوجی افسر کو ہمیشہ سیاست سے دور رہنا چاہیے۔ ایک فوجی شخص کے لیے کسی سیاسی حکومت کا ترجمان بن کر اسکی ہر پالیسی اور فیصلے دفاع کرنا ایک خاصا مشکل کام ہے۔ ان کے بقول حکومت کو چاہیے تھا کہ اس عہدہ پر کسی سیاست دان کو ہی تعینات کرتی۔ انہوں نے کہا کہ ماضی میں لیفٹننٹ جنرل (ر) ناصر جنجوعہ کو نیشنل سیکیورٹی کا مشیر لگایا گیا وہ یہ کام بخوبی کرتے رہے لیکن انکا حکومت کے سیاسی ترجمان کے طور پر کام کرنا مناسب نہیں لگتا۔ امجد شعیب نے کہا کہ عاصم سلیم باجوہ کی آئی ایس پی آر میں میڈیا ہینڈلنگ بہت اچھی تھی اور حکومت شاید ان کے اسی وقت کے تجربات سے فائدہ اٹھانا چاہتی ہے۔’راولپنڈی’ کے معاملات کو اپنے ہاتھوں میں لینے سے متعلق سوال کے جواب میں امجد شعیب کا کہنا تھا کہ پاکستان میں یہ بات بہت عام ہے کہ معمولی سی بات ہو تو سب کی نظریں راولپنڈی کی طرف ہو جاتی ہیں۔ افواہیں اڑنا شروع ہو جاتی ہیں۔ لہذا بہتر یہ تھا کہ ایسی افواہوں اور باتوں سے بچنے کے لیے عاصم سلیم باجوہ کو ایسے عہدے پر تعینات ہی نہ کیا جاتا۔
دوسری طرف تجزیہ کار مظہر عباس کہتے ہیں کہ سابق فوجی جنرل عاصم سلیم باجوہ کی تعیناتی کو شبلی فراز کے مقابلے میں زیادہ اہمیت دی جا رہی ہے۔ماضی میں جنرل ضیا الحق کے دور میں جنرل مجیب الرحمان کے بطور سیکریٹری انفارمیشن کے بعد پہلی مرتبہ کسی اہم فوجی افسر کی تعیناتی انفارمیشن ڈپارٹمنٹ میں کی گئی ہے۔مظہر عباس کے بقول اب دیکھنا ہوگا کہ یہ نئی ٹیم کیا کارکردگی دکھاتی ہے۔ آئی ایس پی آر کا کردار گزشتہ کچھ عرصہ میں بہت بڑھا ہے لیکن حکومت کے چینلنجز بہت مختلف ہیں۔ دیکھنا ہوگا کہ وہ کیا تبدیلی لے کر آتے ہیں۔مظہر عباس کا کہنا تھا اگر وزیراعظم کی میڈیا کے بارے میں منفی رائے برقرار رہتی ہے تو نئی ٹیم لانے کا کوئی فائدہ نہیں ہوگا۔ ماضی میں فواد چوہدری اورفردوس عاشق اعوان وزیراعظم کا میڈیا کے حوالے سے رویہ تبدیل کرانے میں ناکام رہے۔ اب اگر یہ دو لوگ بھی وزیراعظم کی میڈیا سے متعلق سوچ بدلنے میں ناکام رہے تو سب کے لیے مشکل ہوگی۔
جنرل عاصم باجوہ کو ستمبر 2019 میں ریٹائرمنٹ کے صرف دو ماہ بعد ہی نومبر 2019 میں سی پیک اتھارٹی کا چئیرمین مقرر کیا گیا ہے۔عام طور پر فوج سے ریٹائرمنٹ کے بعد کسی بھی عوامی عہدہ پر تعیناتی کے لیے دو سال کی مدت درکار ہوتی ہے لیکن عاصم سلیم باجوہ کو رولز میں نرمی کرکے تعینات کیا گیا اور اب انہیں سی پیک اتھارٹی کے چئیرمین کے ساتھ معاون خصوصی برائے اطلاعات و نشریات کا عہدہ بھی دے دیا گیا ہے جبکہ شبلی فراز کے لیے ایک فوجی بیک گراؤنڈ کے آدمی کے ساتھ گزارا کرنا ایک بڑا چیلنج ہوگا۔ بڑا مسلہ یہ ہو گا کہ انقلابی شاعر احمد فراز کے صاحبزادے شبلی فراز ایک فوجی پس منظر رکھنے والے طاقتور معاون خصوصی کی موجودگی میں اپنی وزارت پر کنٹرول کیسے قائم کریں گے؟

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button