کیا شہباز شریف واقعی پارٹی صدارت چھوڑنا چاہتے ہیں؟


آزاد کشمیر الیکشن میں نون لیگ کی شکست کے بعد افواہیں گرم ہیں کہ شہباز شریف نے پارٹی صدارت چھوڑنے کا عندیہ دے دیا ہے۔ شہباز شریف کے قریبی ذرائع نے اس افواہ کو ایک سازش تو قرار دیا ہے لیکن وہ یہ تسلیم کرتے ہیں کہ ن لیگ میں بیانیے کی جنگ جاری ہے جسکا اعتراف اب پارٹی ترجمان محمد زبیر نے بھی کرلیا یے۔
درحقیقت نواز لیگ میں مزاحمتی اور مفاہمتی بیانیے کی جنگ مخالفین کو افواہیں پھیلانے کا موقع بھی فراہم کرتی ہے جس کے نتیجے میں ن لیگ نہ صرف بطور جماعت بری طرح متاثر ہو رہی ہے بلکہ اس سے پارٹی کا ووٹ بینک بھی تقسیم ہورہا ہے۔ اسکا منفی نتیجہ آزاد کمشیر الیکشن کے بعد اب سیالکوٹ کے ضمنی الیکشن میں بھی سامنے آ چکا ہے۔ یاد رہے کہ مزاحمت پسند مریم نواز کی سرکردگی میں جاندار الیکشن مہم کے باوجود آزاد کشمیر اور سیالکوٹ کے انتخابات میں ن لیگ کی شکست کے بعد سوشل میڈیا پر یہ افواہ گردش کر رہی ہے کہ شہباز شریف نے آزاد کشمیر انتخابات میں شکست کے بعد پارٹی کی صدارت چھوڑنے کا فیصلہ کیا ہے۔
سب سے پہلے ایک مقامی صحافی سیف اعوان نے ٹویٹر پر خبر دیتے ہوئے لکھا تھا کہ آزاد کشمیر الیکشن میں شہباز شریف کی حکمت کو عملی نظر انداز کرنے پر انہوں نے پارٹی صدرارت چھوڑنے کا اصولی فیصلہ کر لیا ہے۔ انہوں نے لکھا کہ  شہباز شریف کے بعد شاہد خاقان عباسی پارٹی کے قائم قام صدر بن ہونگے۔ تاہم حمزہ شہباز کے روکنے پر فی الحال شہباز نے استعفے کے معاملے پر خاموشی اختیار کر لی ہے۔ صحافی نے لکھا کہ حمزہ شہباز نے شہباز کو یہ معاملہ نوازشریف کے سامنے اٹھانے کی یقین دہانی کروائی اور یہ بھی کہا کہ مریم نواز اب کم از کم ایک سال خاموش رہیں گی۔ دوسری جانب شہباز شریف کے قریبی ذرائع کا کہنا ہے کہ اس خبر میں کوئی صداقت نہیں، انہوں نے اسے مضحکہ خیز قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایسی خبریں پھیلانے کا ٹاسک کچھ مخصوص طبقات کی جانب سے دیا جاتا ہے جس کا مقصد صرف ن لیگی کارکنان میں بددلی پھیلانا ہے لیکن ایسی بھونڈی کوششیں نہ پہلے کبھی کامیاب ہوئی ہیں نہ اب ہو سکتی ہیں۔
تاہم دوسری جانب تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ دھواں کسی وجہ سے ہی اٹھتا ہے اور یہ سب جانتے ہیں کہ اسوقت مسلم لیگ میں دو واضح دھڑےہیں۔ شہباز شریف مفاہمت پسند دھڑے کی قیادت کرر ہے ہیں جبکہ نواز شریف اور مریم نواز مزاحمتی بیانیہ لے کر چل رہے ہیں۔ شہباز اور ان کے صاحبزادے حمزہ شہباز نےآزاد کمشیر اور سیالکوٹ کی انتخابی مہم سے خود کو مکمل طور پر الگ رکھا یوں الییشں ناکامی کی ذمہ داری بھی مریم نواز پر ڈالی جا رہی ہے جب کہ وہ دھاندلی کو شکست کا ذمہ دار قرار دے رہی ہیں۔
اگرچہ مریم نے کشمیر میں بھرپور مہم الیکشن چلائی لیکن آزاد کشمیر میں پانچ برس حکومت کرنے والی ن لیگ محض چھ نشستیں جیت سکی۔ بعد ازاں اسے ضمنی الیکشن میں سیالکوٹ کی جیتی ہوئی پنجاب اسمبلی کی نشست سے بھی ہاتھ دھونا پڑ گئے۔ ایسے میں مفاہمتی دھڑے کا اصرار ہے کہ شہباز کا موقف یہ درست ثابت ہو گیا کہ ریاستی اداروں پر تنیقد کرکے ن لیگ کبھی اقتدار میں نہیں آسکتی۔ یاد رہے کہ شہباز شریف نےتاحال آزاد کشمیر یا سیالکوٹ الیکشن کے نتائج پر کوئی ردعمل نہیں دیا۔
سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ نواز شریف اور مریم نواز اسٹیبلشمنٹ پر دبائو بڑھا کر عوامی طاقت سے اقتدار حاصل کرنے کی کوشش میں ہیں لیکن حالیہ انتخابی نتائج نے انہیں مایوس کیا ہے۔ بطور جماعت حالیہ شکستوں کے بعد ن لیگ شدید داخلی بحران کا شکار ہوچکی ہے اسی لئے شہباز شریف کے پارٹی صدارت چھوڑنے جیسے شوشے بھی سیاسی حلقوں میں زیر بحث ہیں۔ لیگی ذرائع کا کہناہے کہ یہ افواہ اسی سلسلے کی کڑی ہے جس کے تحت فوجی اسٹیبلشمنٹ نے مسلم لیگ (ن) کی قیادت کو یہ باور کروایا ہے کہ پاکستانی سیاست میں ووٹ کو عزت دو اور سویلین بالادستی جیسے مزاحمتی بیانیے کی کوئی گنجائش نہیں۔
نواز لیگ میں مزاحمتی بیانیے کے حمایتی کہتے ہیں کہ اسٹیبلشمنٹ شہباز شریف کے ذریعے نواز شریف اور مریم نواز کو کھڈے لائن لگوا کر عبرت کا نشان بنانا چاہتی ہے تاکہ آئندہ کوئی فوج کی بالادستی کو چیلنج نہ کر سکے۔ ان کا الزام ہے کہ شہباز شریف کی استعفے کی دھمکی درحقیقت مریم کو بیک فٹ پر دھکیلنے کی سازش کا حصہ ہے۔ اگر یہ حکمت عملی کامیاب ہوگئی تو اسکے نتیجے میں پاکستان میں جمہوریت کی بالادستی اور ووٹ کو عزت دو کا بیانیہ ایک دیوانے کا خواب بن کر رہ جائے گا۔ مزاحمت پسند لیگی سمجھتے ہیں کہ اس صورتحال میں نواز شریف اور مریم کو بھی اب ہر مصلحت، ڈر اور خوف بالائے طاق رکھ کر فرنٹ فٹ پر آ کر کھیلنا چاہیئے اور پارٹی کی کمان مکمل طور پر اپنے ہاتھ میں لے لینی چاہیئے۔ انکا کہنا یے کہ بواز شریف کو فوری طور پر مفاہمت پسند شہباز شریف کا استعفی منظور کر کے پارٹی کی کمان جارحانہ سیاست کرنے والی مریم نواز کے حوالے کر دینی چاہیئے تاکہ پارٹی گو مگو کی کیفیت سے نکل کر ایک واضح جارحانہ حکمت عملی کے تحت اگلے الیکشن میں جا سکے۔

Back to top button