کیا شہباز گل خود کو دلا کہلوانا پسند کریں گے؟


اپنی بد زبانی اور بیہودہ گفتگو کی وجہ سے حکومت کے لیے کلنک کا ٹیکہ بننے والے وزیر اعظم کے خصوصی معاون شہباز گل نے اب یہ واہیات منطق پیش کی ہے کہ رنڈی اور دلال جیسے الفاظ گالیاں نہیں ہیں بلکہ پنجاب میں روزمرہ استعمال ہونے والے گھریلو الفاظ ہیں۔ یاد رہے کہ حال ہی میں ایک ٹی وی پروگرام میں شہباز گل نے تحریک انصاف کے منحرف رکن قومی اسمبلی رمیش کمار کو دلال قرار دے دیا تھا جس پر ان کی شدید مذمت کی جا رہی تھی۔ اگلے روز اسلام آباد میں میڈیا سے گفتگو کے دوران ایک خاتون صحافی نے شہباز گل سے کہا کہ آپ کو اچھی طرح علم ہے کہ دلال کس کو کہتے ہیں لیکن آپ پھر بار بار یہ لفظ معزز ممبران اسمبلی کے لیے استعمال کر رہے ہیں، میرے خیال میں یہ اس قوم کی توہین ہے کہ وزیراعظم کے معاون خصوصی یہ انتہائی گندہ لفظ استعمال کر رہے ہیں۔
اس پر جواب دیتے ہوئے شہباز گل نے کہا کہ آپ کا سوال بالکل جائز ہے۔ اب اس کا جواب بھی سن لیں۔ اس کے بعد شہباز نے ایک اور چول مارتے ہوئے یہ موقف اختیار کیا کہ ہماری علاقائی زبانوں میں جو الفاظ رائج ہیں، ان میں ہر علاقے کی اپنی زبان ہوتی ہے۔ انہوں نے مثال دیتے ہوئے خاتون صحافی کو کہا کہ ہمارے پنجاب میں جب کسی خاتون کا شوہر فوت ہو جاتا ہے تو اسے رنڈی کہا جاتا ہے اور اگر کسی مرد کی اہلیہ فوت ہو جائے تو اسے رنڈوا کہتے ہیں۔
وزیراعظم کے بس زبان معاون خصوصی کا کہنا تھا کہ کراچی سے تعلق رکھنے والے ایک صحافی دوست نے مجھ سے کہا کہ یہ رنڈی لفظ تو گالی ہے۔ اسی طرح انگریزی زبان کے لفظ بروکر کو پنجابی زبان میں دلال کہتے ہیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ ڈاکٹر شہباز گل کی اس علمی بحث کو سرکاری ٹیلی وژن پر براہ راست نشر کیا گیا۔ لیکن موصوف کو شاید یہ پتہ نہیں تھا کہ پنجاب میں بیوہ خاتون کو رنڈی نہیں بلکہ رنڈوی کہتے ہیں اور اسی کے وزن پر مرد کو رنڈوا کہا جاتا ہے۔
خیال رہے کہ جب سے وزیر اعظم عمران خان کیخلاف اپوزیشن کی تحریک عدم اعتماد جمع ہوئی ہے حکومتی مشیروں اور وزیروں کی بوکھلاہٹ اور غصہ صاف نظر آ رہا ہے۔ اس کی تازہ مثال شہباز گل ہے جس نے ایک لائیو پروگرام میں ڈاکٹر رمیش کمار کو ”دلا” کہہ دیا تھا۔ یہ افسوسناک واقعہ دنیا نیوز کے پروگرام ”آن دی فرنٹ” میں پیش آیا، جس میں شہباز گل اور رمیش کمار شریک تھے۔ پروگرام کے دوران انہوں نے متعدد بار ”دلا” اور ”دلے” کا لفظ استعمال کیا جو میرٹ کیے جانے کے باوجود آن ائیر چلا گیا۔ شہباز گل نے الزام عائد کیا کہ رمیش کمار جعلی ادویات بیچنا چاہتے تھے، انہوں نے اس کام کیلئے پانچ بار مجھ سے رابطہ کیا۔
خیال رہے کہ پی ٹی آئی کے رکن قومی اسمبلی رمیش کمار نے دعویٰ کیا تھا کہ تین وفاقی وزرا پی ٹی آئی چھوڑ چکے ہیں۔ ان کی جانب سے یہ دعویٰ ایسے وقت سامنے آیا ہے جب وزیراعظم عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد پر ووٹنگ کے لیے تیاریاں جاری ہیں۔ ٹی وی پروگرام میں گالی دینے پر رمیش کمار نے شہباز گل کو قانونی نوٹس بھیج دیا ہے۔ شہباز گل کو بھیجے گئے قانونی نوٹس میں رمیش کمار نے کہا کہ شہباز گل نے ان پر کینسر کی جعلی ادویات بیچنے کا بے بنیاد الزام لگایا، انہوں نے یہ سارے الزامات سستی شہرت حاصل کرنے کے لیے لگائے اور ساتھ میں گندی گالیاں بھی دیں۔
دوسری جانب نازیبا الفاظ استعمال کرنے پر شہباز گِل کو سوشل میڈیا پر تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ ایک سوشل میڈیا صارف قاری حفیظ نے شہباز گل سے پوچھا ہے کہ ان کی گالیوں کی تشریح کے بعد اگر عوام ان کو آئیندہ سے دلا کہہ کر بلائیں تو وہ یقینا برا نہیں مانیں گے۔ ایک اور صارف فیضان لاکھانی نے اپنی ٹوئٹ میں لکھا کہ شہباز گل کبھی کسی کو اجازت نہیں دیں گے کہ ان کے خاندان کی خواتین کے لیے رنڈی جیسے الفاظ استعمال کیے جائیں، انہوں نے لکھا کہ مائیں اور بہنیں سب کی سانجھی ہوتی ہیں لیکن شاید موصوف کو اس بات کا علم نہیں۔
سنئیر صحافی عباس ناصر نے شہباز گل پر تنقید کرتے ہوئے سوشل میڈیا پر لکھا کہ پروفیسر شہباز گل صاحب، پنجابی زبان کی خوبصورتی کو گالیوں کے پیرائے میں بیان کر رہے ہیں۔ ٹی وی اینکر ابصا کومل نے شہباز گل پر تنقید کرتے ہوئے انہیں خبردار کیا کہ وہ اپنی بدزبانی کو جواز فراہم کرنے لئے پنجابی زبان کو بدنام نہ کریں اور یہ کہ اس خوبصورت زبان کو جاننا ہے تو بابا بُلھے شاہ کو پڑھیں۔
بعض صارفین نے نشاندہی کی کہ معاون خصوصی برائے وزیر اعظم کی گفتگو ریاستی ٹیلی وژن پر براہ راست دکھائی گئی، جس میں انہوں نے عورتوں کے لیے گالی کے طور پر استعمال ہونے والے لفظ رنڈی کا استعمال کیا، ساتھ ہی یہ سوال بھی کیا گیا کہ اس معاملے پر پیمرا نوٹس لے کر کارروائی کیوں نہیں کر رہا؟

Back to top button