کیا صدارتی آرڈیننس سے شو آف ہینڈز کا قانون لانا ممکن ہے؟


برسر اقتدار آنے کے بعد سے قانون سازی کرنے کی بجائے صدارتی آرڈیننسوں سے ملک چلانے والی کپتان حکومت نے اب سینیٹ میں خفیہ رائے شماری کی جگہ شو آف ہینڈز کا طریقہ اپنانے کے لئے بھی صدارتی آرڈینینس نافذ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ وفاقی کابینہ نے سینیٹ الیکشن اوپن ووٹ کے ذریعے کروانے کے لیے الیکشن ایکٹ 2017 میں ایک ترمیم کے لیے صدارتی آرڈیننس نافذ کرنے کے حکومتی فیصلے کی منظوری دے دی یے جسے آئندہ چند روز میں جاری کیے جانے کا امکان ہے۔ وفاقی کابینہ میں موجود ذرائع نے بتایا کہ صدارتی آرڈیننس متعارف کرانے کے لیے 5 فروری کو ایک سمری سرکولیشن کے ذریعے وفاقی کابینہ کے اراکین نے منظور کی۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ سینیٹ الیکشن کا طریقہ کار بدلنے کیلئے صدارتی آرڈیننس لانے کی تجویز بابر اعوان نے پیش کی جسے وزیراعظم عمران خان نے منظور کرلیا۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ وفاقی وزیر قانون فروغ نسیم نے بھی وزیراعظم عمران خان کو یہی مشورہ دیا تھا کہ کہ آئینی ترمیم کے ذریعے سینیٹ الیکشن کا طریقہ کار بدلنے کے امکانات معدوم ہیں کیونکہ ایوان بالا یعنی سینیٹ میں حکومت کے پاس اکثریت موجود نہیں اور اگر قومی اسمبلی سے 26 ویں آئینی ترمیم کا بل کو پاس کروا بھی لیا جائے تو وہ سینیٹ سے منظور نہیں ہو پائے گا۔

حکومتی ذرائع کا کہنا یے کہ صدارتی آرڈیننس متعارف کروانے کا فیصلہ 4 فروری کو قومی اسمبلی میں اپوزیشن کے تاریخی احتجاج اور اوپن بیلٹ کے ذریعے سینیٹ انتخابات کرانے کے لیے حکومت کے پیش کردہ آئینی ترمیمی بل کی منظوری میں رکاوٹ کے بعد لیا گیا۔ حکومتی ذرائع کا کہنا تھا کہ صدارتی آرڈیننس کے ذریعے حکومت الیشکن ایکٹ 2017 میں ترامیم کرے گی کیونکہ آرڈیننس کے ذریعے آئین میں ترمیم نہیں کی جا سکتی۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت سینیٹ الیکشن کے لیے الیکشن شیڈول کے اعلان سے قبل صدسرتی آرڈیننس نافذ کرنا چاہتی ہے، سینیٹ الیکشن کے شیڈول کا اعلان 11 فروری کو متوقع ہے۔ حکومتی ذرائع نے کہا کہ ہمارے پاس آئین میں ترمیم کے لیے بہت کم وقت ہے اور اسی وجہ سے صدارتی آرڈیننس نافذ کیا جارہا ہے۔ کابینہ کے ایک اور رکن نے اس بات کی تصدیق کی کہ جلد آرڈیننس متعارف کروا دیا جائے گا لیکن انہیں اس بارے میں یقین نہیں تھا کہ آیا ترمیم الیکشن ایکٹ 2017 کے لیے کی جائیں گی یا آئین کے لیے ہو گی۔

واضح رہے کہ اس سے پہلے حکومت نے قومی اسمبلی میں ایک آئینی ترمیمی بل پیش کیا تھا تاکہ اوپن ووٹ کے ذریعے سینیٹ انتخابات منعقد کرائے جائیں تاہم اپوزیشن نے اس بل کو مسترد کرتے ہوئے شور شرابا شروع کردیا اور یہ بل ایوان سے منظور نہیں ہوسکا تھا، اس ہنگامہ آرائی نے اسپیکر کو قومی اسمبلی کا اجلاس ملتوی کرنے پر مجبور کردیا تھا۔ قومی اسمبلی سے بل منظور ہونے کی کوشش ناکام ہونے کے بعد اب حکومت نے فیصلہ کیا ہے کہ وہ صدارتی آرڈیننس کے ذریعے اپنا فیصلہ نافذ کرے گی۔ دوسری طرف حکومت نے اس حوالے سے ایک آئینی پٹیشن سپریم کورٹ میں بھی دائر کر رکھی ہے۔

تاہم اپوزیشن اتحاد پی ڈی ایم کا کہنا ہے کہ ایسی کسی بھی حکومتی کوشش کو ناکام بنایا جائے گا کیونکہ صدارتی آرڈیننس کے ذریعے آئین میں ترمیم نہیں کی جاسکتی اور سینیٹ الیکشن کا طریقہ کار بدلنے کے لیے آئینی ترمیم کی ضرورت ہے۔ ناقدین کہتے ہیں کہ نوآبادیاتی آقاؤں کی لاتعداد علتوں میں سے ایک، جسے ہمارے نظام نے دل کھول کر تحفظ فراہم کیا ہے، وہ انتظامیہ کو پارلیمان کی جگہ صدارتی فرمانوں کے ذریعہ قانون سازی کرنے کا اختیار دینا ہے۔ اس اختیار کے استعمال کی دو بنیادی شرائط ہیں۔ اولاً قومی اسمبلی اجلاس میں نہ ہو اور ثانیاً صدر مطمئن ہوں کہ حالات ایسے ہیں کہ فرمان کا اجرا ناگزیر ہے۔ آئین کی دفعہ 89 نے صدر کو اتنی بڑی صوابدید ودعیت کرتے ہوئے اس کا استعمال صرف کسی ایسی ہنگامی صورت حال تک محدود رکھا ہے جہاں مطمع نظر واضع طور پر عوامی مفاد ہو۔ تاہم اگر ماضی میں جاری کردہ صدارتی فرامین کا جائزہ لیا جائے تو اس طرح کی ہنگامی صورت حال شاذ و نادر ہی پیدا ہوئی ہے۔ بدقسمتی سے اکثر متنازع قانون سازی یا اپوزیشن جماعتوں اور بعض اوقات اپنے ہی حلیفوں کو قائل کرنے کی مشکلات سے بچنے کے لیے یہ راستہ اختیار کیا جاتا ہے۔ اس کے علاوہ جب حکمران جماعت کے پاس پارلیمان میں قابلِ اعتماد اکثریت نہیں ہوتی تو دفعہ 89 کا سہارا لینا عام ہو جاتا ہے۔

صدارتی آرڈیننس کے ذریعے قانون سازی کی بدترین مثال اُس وقت سامنے آتی ہے جب مقصد صرف ایک طبقے خصوصاً حکمران جماعت کو فائدہ دینا یا مخالف جماعتوں کو نشانہ بنانا ہو۔

2018 سے لیکر ابتک حکومت نے صدارتی فرمانون کے ذریعے معاملات چلانے کا راستہ اختیار کر رکھا یے جو کہ صریحاً پارلیمنٹ کا حقِ قانون سازی پامال کرنے کے مترادف یے۔ 2018 میں معرض وجود میں آنے کے بعد سے قومی اسمبلی میں ہمارے بیشتر مقنّنین نے حزب اختلاف کو دھمکیاں دینے اور اپنے ہر دلعزیز وزیر اعظم کے دفاع میں گلا پھاڑ پھاڑ کر لمبے چوڑے اور بے تکے بیانات دینے کے علاوہ عملی طور پر کچھ نہیں کیا۔ وہ پچھلے حکمرانوں کو بدعنوان ثابت کرنے کی دوڑ میں ایک دوسرے پر سبقت لے جانے کی کوششوں میں صبح و شام مصروف نظر آتے ہیں۔ خاص طور پر حکمران جماعت کے چند نا پختہ و حواس باختہ ممبران کے بے سرو پا اور منطق سے عاری بیانات کی وجہ سے ایوان کا ماحول کشیدگی کا شکار ہے۔

چنانچہ پارلیمان کےدونوں ایوانوں میں ابھی تک کوئی خردمندانہ و پُرمغز بحث دیکھنے کو نہیں ملی ہے۔ ایوان میں ہر روز کثیر تعداد میں کرسیاں خالی دیکھ کر ایسا لگتا ہے کہ کورم ہی پورا نہیں ہوتا۔ ان غیر سنجیدہ حالات میں قانون سازی کا ترجیحی طریقہ شومئی قسمت سے صدارتی آرڈیننس ہی رہ جاتا ہے۔ لیکن پی ٹی آئی کے رہبرِ اعلیٰ کے قانون سازی کے بارے میں جیّد خیالات سن کر پارٹی کی ترجیحات پر حیران ہونے کی چنداں ضرورت نہیں۔ گذشتہ دسمبر میں اپنے ایک شاندار بیان میں وزیر اعظم عمران خان نے یہ کہہ کر کہ پارلیمنٹ میں حکمران جماعت کی اکثریت نہ ہونے کی وجہ سے آرڈیننس کے ذریعے قانون سازی کی جائے گی، آرٹیکل 89 کی شرائط میں ایک مضحکہ خیز شرط کا اضافہ کر دیا۔ پارلیمانی لیڈر کے اس انوکھے بیان نے نہ صرف آئین اور قانون کی دھجیاں اڑائیں بلکہ پارلیمنٹ کی توہین کا سامان بھی مہیا کیا۔ اسمبلی میں حالیہ واقعات اسی مطلق العنان اور ناعاقبت اندیش سوچ کے عکاس ہیں۔

اپوزیشن سے تعلق رکھنے والے قانون سازوں کا کہنا ہے کہ
جمہوری روایات کے فروغ اور قانون سازی میں ہمہ گیر شمولیت کے لیے آئین میں سے صدسرت آرڈی نینس والی دفعہ 89 کو نکالنا لازم ہے۔ اس سے سیاسی جماعتوں میں ہم آہنگی اور برداشت کی اہم خصوصیات فروغ پائیں گی۔ پاکستان میں ایسی صورت حال نہیں ہے کہ معمول کے قوانین سے نمٹائی نہ جاسکے اور اگر کوئی ایسی صورت حال پیدا ہو بھی جاتی ہے تو دیگر ممالک کی طرح پارلیمنٹ کا ہنگامی اجلاس بلانا ناممکن نہیں ہے۔ تاہم اس کے لیے ضروی ہے کہ پالیسی پر عمل درآمد کے تمام لوازمات قائم رہیں اور سیاستدانوں اور سرکاری اداروں کو ان کی ریخت و تاراج کا موقع نہ ملے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button