کیا صدر علوی باقاعدہ طور پر دوبارہ عمرانڈو بننے والے ہیں؟

اپنے عہدہ صدارت کے دوران سربراہ مملکت کی بجائے خود کو ایک عمرانڈو ثابت کر کے اپنی عزت کا جنازہ نکالنے والے سابق صدر عارف علوی نے سیاست میں متحرک ہونے کا اشارہ دے دیا ہے۔گزشتہ روز پی ٹی آئی کے بانی چئیرمین اور سابق وزیر اعظم عمران خان سے اڈیالہ جیل میں ملاقات کے بعدمیڈیا سے گفتگو میں سابق صدر عارف علوی نے مینڈیٹ چوری، جمہوریت، اور پارٹی کو مبینہ طور پر کرش کیے جانے پر لب کشائی کرتے ہوئے بتایا کہ انہیں بانی پی ٹی آئی سے ہدایات ملی ہیں، تاہم انہوں نے ان ہدایات کی مزید وضاحت سے گریز کیا۔
صدر مملکت کے عہدے سے سبکدوشی کے بعد پہلی مرتبہ ڈاکٹر عارف علوی کی جانب سے اس نوعیت کی گفتگو کے بعد اس بات پر بحث چھڑ گئی ہے کہ کیا عارف علوی سیاست میں دوبارہ سے فعال اور متحرک ہوتے ہوئے کوئی پارٹی عہدہ سنبھالنے کے لیے پر تول رہے ہیں۔اس پس منظر میں سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا قانونی طور پر سابق صدر مملکت عارف علوی کی سیاست میں شمولیت پر کوئی قدغن ہے؟اس ضمن میں بات کرتے ہوئے آئینی ماہر حافظ احسان احمد کھوکھر نے کہا کہ پاکستان کے 1973 کے آئین یا الیکشن ایکٹ 2017 میں بظاہر ایسی کوئی شق موجود نہیں ہے جو سبکدوش صدر کو ان کی مدت ملازمت کے بعد سیاسی سرگرمیوں میں حصہ لینے سے منع کرتی ہو۔’سبکدوش ہونے والا صدر سیاست میں حصہ لے سکتا ہے لیکن اس کے ساتھ ہی وہ معلومات اور راز کے حوالے سے اپنے حلف سے روگردانی نہیں کر سکتا، جس حلف اور قانون کے تحت وہ صدر ہوتے ہوئے ایسی معلومات دوسروں یا عوام کو اس وقت تک شیئر نہیں کر سکتا تھا جب تک کہ قانون اسے ایسا اختیار نہ دے۔‘اپنے موقف کی وضاحت کرتے ہوئے حافظ احسان کا کہنا تھا کہ دوسری صورت میں اور اگر سبکدوش صدر ایسا کرتا ہے تو اس کے خلاف قانون کے تحت مقدمہ چلایا جاسکتا ہے۔ تاہم آئین کے مطابق ’ملک کا صدر بننے کے بعد وہ اپنے دور اقتدار میں سیاست میں حصہ نہیں لے سکتے اور وہ اپنے سیاسی عہدوں اور سیاسی سرگرمیوں کو بھی عام طور پر غیر جانبدار دفتر اور سربراہ مملکت کی حیثیت سے چھوڑ دیتے ہیں۔‘
اس حوالے سے ماہر قانون کامران مرتضی کا بھی یہی کہنا تھا کہ عارف علوی سیاست میں حصہ لے سکتے ہیں اور پارٹی کا کوئی عہدہ بھی سنبھال سکتے ہیں، کیونکہ آئین میں اس ضمن میں کوئی ممانعت نہیں ہے کہ سابق صدر سیاست نہیں کر سکتا۔’آئین کا آرٹیکل 17 ہر شخص کو سیاست میں شمولیت کی اجازت دیتا ہے، تو اس کے مطابق سبکدوش صدر بھی سیاست میں آ سکتا ہے، البتہ اگر وہ صدر کے عہدے پر رہتے ہوئے سیاست کرنا چاہتے تو پھر ایسا ممکن نہیں ہوسکتا تھا۔‘
تاہم دوسری جانب سابق اٹارنی جنرل شاہ خاور کا موقف قدرے مختلف ہے، ان کا کہنا ہے کہ آئین میں ’سروس آف پاکستان‘ میں رہنے والے شخص کے لیے 2 برس تک کی پابندی ہے کہ وہ سیاست میں شمولیت اختیار نہیں کر سکتا۔ ’۔۔۔تو گورنر اور صدر کے لیے بھی یہی اصول ہے کہ وہ 2 سال کے بعد سیاست میں آسکتے ہیں۔‘
