کیا صدر علوی شہباز کو اعتماد کا ووٹ لینے کو کہیں گے؟

تحریک انصاف کے اندرونی حلقوں میں اب یہ افواہیں گرم ہیں کہ دو صوبائی اسمبلیاں تحلیل کرنے کے بعد وفاقی حکومت کو فوری انتخابات پر مجبور کرنے کے لئے عمران خان صدر عارف علوی کے ذریعے وزیراعظم شہباز شریف کو اعتماد کا ووٹ لینے کے لئے کہہ سکتے ہیں۔ پارٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ ایم کیو ایم کی جانب سے وفاقی حکومت سے علیحدگی اختیار کرنے کی دھمکیوں کے بعد عمران خان کو یہ مشورہ دیا گیا ہے کہ شہباز شریف کو اعتماد کا ووٹ لینے کے امتحان میں ڈالا جائے اور اگر وہ کامیاب نہ ہو پائیں تو تحریک انصاف کے مستعفی اراکین قومی اسمبلی میں واپس چلے جائیں تاکہ دوبارہ سے اپنا وزیراعظم منتخب کروایا جا سکے۔ تاہم جب اس امکان بارے وفاقی وزیر داخلہ رانا ثنا اللہ خان سے پوچھا گیا تو انہوں نے شہباز شریف حکومت کے خاتمے کو دیوانے کا خواب قرار دے کر رد کر دیا۔ انہوں نے کہا کہ نہ تو ایم کیو ایم یا کسی اور اتحادی جماعت کا حکومت چھوڑنے کا کوئی امکان ہے اور نہ ہی شہباز شریف اپنی حکومت کی آئینی مدت پوری ہونے سے پہلے کہیں جانے والے ہیں۔

لیکن دوسری جانب پی ٹی آئی ذرائع مصر ہیں کہ سیاسی اور معاشی بحران میں گھری ہوئی وفاقی حکومت کے حالات خراب سے خراب تر ہونے جا رہے ہیں لہٰذا عمران خان صدر عارف علوی کے ذریعے شہباز شریف کو قومی اسمبلی سے اعتماد کا ووٹ لینے کے لیے کہہ سکتے ہیں ۔ ذرائع کے مطابق اعتماد کے ووٹ کے حوالے سے عمران خان اپنے ساتھیوں اور آئینی ماہرین سے مشورہ کر رہے ہیں اور حتمی فیصلہ جلد کر لیا جائے گا۔ عمران کے قریبی ذرائع کا خیال ہے کہ پنجاب اسمبلی میں پرویزالٰہی کی جانب سے اعتماد کا ووٹ حاصل کرنا اور اسمبلی تحلیل کرنے کی ایڈوائس جاری کرنا تحریک انصاف کی ایک بڑی کامیابی ہے جس سے پی ڈی ایم کی اتحادی حکومت کو ایک بڑا دھچکا لگا ہے اور اس سے فوری سیاسی فائدہ اٹھانا ضروری ہے تاکہ حکومت کو مزید کمزور کیا جا سکے۔ انکا کہنا ہے کہ پنجاب اور خیبر پختونخوا کی صوبائی اسمبلیاں تحلیل ہونے کے بعد وفاقی حکومت پر فوری انتخابات کے انعقاد کے لیے دباؤ میں مزید اضافہ ہوجائے گا۔ ذرائع کے مطابق شہباز شریف کو اعتماد کا ووٹ لینے کے امتحان میں ڈالنے کے لیے حتمی چند روز میں فیصلہ کیا جائے گا۔ اس سے پہلے عمران خان ایم کیو ایم اور پی ڈی ایم کی دیگر اتحادی جماعتوں پر بھی نظر رکھ رہے ہیں تاکہ جیسے ہی حکومت کی مشکلات میں اضافہ ہو، صدر عارف علوی کے ذریعے اس پر حملہ کر دیا جائے۔

یاد رہے کہ قومی اسمبلی میں پی ڈی ایم اتحادی حکومت کی واضح اکثریت ہے تاہم ایم کیو ایم اور بلوچستان نیشنل پارٹی وفاقی حکومت سے ناراض ہیں اور اس سے علیحدہ ہونے کی دھمکیاں دے رہی ہیں۔ کراچی میں ایم کیو ایم کے تمام دھڑے اسٹیبلشمنٹ کے ایما پر گورنر سندھ کامران ٹیسوری کی کوششوں سے متحد ہو چکے ہیں۔ وزیراعظم کے اعتماد کے ووٹ کے حوالے سے نجی ٹی وی کو انٹرویو دیتے ہوئے سابق وفاقی وزیر اسد عمر کا کہنا تھا کہ ایسا ممکن ہے، ہو سکتا ہے صدر علوی وزیر اعظم شہباز شریف کو ایسا کرنے کے لئے کہہ دیں۔ انکا کہنا تھا کہ بڑھتے ہوئے سیاسی اور معاشی بحران کی وجہ سے امپورٹڈ حکومت اس وقت انتہائی غیر مقبول ہے اور عوام کا اعتماد کھو چکی ہے اور ایسی صورت حال میں حکومت کے لیے اعتماد کا ووٹ حاصل کرنا مشکل ہوجائے گا۔

لیکن دوسری جانب حکومتی ذرائع کا کہنا ہے کہ عمران خان کے منصوبے کاغذی ہیں اور وہ انہیں عملی جامہ پہنانے میں کامیاب نہیں ہو پائیں گے۔ وفاقی وزیرداخلہ رانا ثناء اللہ خان کا کہنا ہے کہ تمام اتحادی جماعتیں حکومت کے ساتھ ڈٹ کر کھڑی ہیں اور ایم کیو ایم بھی کہیں نہیں جانے والی۔ انہوں نے کہا کہ خیبر پختونخوا اور پنجاب اسمبلیوں کے خاتمے کے بعد پی ٹی آئی کی اتحادی جماعتیں تحریک انصاف کے خلاف الیکشن لڑنے کے لیے تیار ہیں اور اب ان دونوں صوبوں میں پی ٹی آئی کی بجائے پی ڈی ایم کی حکومتیں بننے جا رہی ہیں۔

Back to top button