کیا عسکری قیادت سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال کر پائے گی؟

ملکی سول وعسکری قیادت پاکستان میں سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال کرنے کیلئے جہاں دن رات جتن کرنے میں مصروف ہے وہیں دوسری طرف آرمی چیف جنرل عاصم منیر کی ملک کی کاروباری شخصیات سے ملاقاتوں کا معاملہ سوشل میڈیا پر موضوعِ بحث بنا ہوا ہے۔ بعض حلقے اسے ملکی معیشت کو درست سمت پر ڈالنے کی کوشش قرار دے رہے ہیں جب کہ بعض حلقے ان ملاقاتوں پر تنقید کر رہے ہیں۔
ذرائع کے مطابق آرمی چیف جنرل عاصم منیر نے ملک کے اعلیٰ کاروباری طبقے کو یقین دلایا ہےکہ جلد ہی ملک میں 50 ارب ڈالر کی غیر ملکی سرمایہ کاری لائی جائے گی۔ اس بات کی نگران وزیراعظم انوار الحق کاکڑ نے بھی تصدیق کی ہے کہ اگلے پانچ سال میں سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات پاکستان میں 25، 25 ارب روپے کی سرمایہ کاری کرینگے تاہم اقتصادی ماہرین کے مطابق معیشت کی بحالی کے لیے دعووں کے بجائے عملی اقدامات ناگزیر ہیں۔
خیال رہے کہ جنرل عاصم منیر نے ملکی معیشت میں بہتری لانے کے حوالے سے ملک کے دو بڑے شہروں لاہور اور کراچی میں کاروباری طبقے کے رہنماؤں سے ملاقاتیں کی ہیں۔ انہوں نے ان شخصیات کو یقین دلایا کہ ریاستی ادارے اب ملکی اقتصادی حالت بہتر کرنے پر بھرپور توجہ دیں گے۔جنرل عاصم منیر نے لاہور اور کراچی میں کاروباری طبقے کے چیدہ چیدہ رہنماؤں سے ہونے والی الگ الگ ملاقاتوں میں معیشت کی بہتری سے متعلق اپنے وژن کا تفصیل سے ذکر کیا۔ انہوں نے کہا کہ وہ نہیں چاہتے کہ پاکستان بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (IMF) کے سہارے چلے، جس کے نتیجے میں سخت شرائط کی وجہ سے عام آدمی کو بجلی کے بلوں کے بحران کا سامنا ہے۔فوجی سربراہ کا کہنا تھا کہ وہ چاہتے ہیں کہ ملکی معیشت غیر ملکی بیساکھیوں کے بجائے اپنے پاؤں پر کھڑی ہو اور عام آدمی کو ریلیف مل سکے۔
اس سلسلے میں جنرل عاصم منیر نے اپنے حالیہ دورہِ مشرق وسطیٰ کا حوالہ دیا، جہاں ان کو سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے رہنماؤں نے پاکستان میں 50 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کرنے کی یقین دہانی کرائی۔ کراچی میں بات کرتے ہوئے آرمی چیف کا یہ بھی کہنا تھا کہ وہ قطر اور بحرین بھی جائیں گے اور وہاں سے بھی اسی قسم کی یقین دہانیاں حاصل کرنے کی کوشش کریں گے۔ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ اسمگلنگ، ٹیکسوں کی چوری، اور ڈالر کی ذخیرہ اندوزی جیسے جرائم کا بھی خاتمہ کیا جائے گا۔‘
کراچی کے کاروباری حلقوں کا کہنا ہے کہ پاکستانی فوج کا ہر نیا آنے والا سربراہ اسی قسم کی یقین دہانیاں کراتا ہے تاہم وہ جنرل عاصم کی اتنی مثبت گفتگو سننے کے بعد پر امید ہیں کہ معیشت کی بہتری کے لیےکچھ نہ کچھ ضرور کیا جائے گا۔
ممتاز صنعتکار اور کراچی چیمبر آف کامرس کے سابق صدر زبیرموتی والا نے اس حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے کہا، ”جنرل صاحب کی طرف سے اس بات کا یقین بھی دلایا گیا کہ بدعنوانی کے خاتمے کے لیے تمام کوششیں کی جائیں گی۔ اس سلسلے میں انہوں نے صوبہ سندھ میں موجودہ نظام کی بہتری کی بھی بات کی۔‘‘
ماہرِ اقتصادیات ڈاکٹر قیصر بنگالی کی رائے میں حکومت کی جانب سے معیشت کی بحالی کے لیےسرکاری سطح پر عملی اقدامات اٹھائے جانے تک معیشت میں بہتری کی باتیں صرف زبانی جمع خرچ ہی رہے گا۔ انہوں نے کہا،”جب تک حکومت اپنے غیر ترقیاتی اخراجات میں کٹوتی نہیں کرے گی کچھ بھی کرنے سے فرق نہیں پڑے گا۔ ٹیکسوں کا حصول ملک کا بڑا بحران نہیں بلکہ بے دریغ بڑھتے ہوئے حکومتی اخراجات اصل مسئلہ ہیں۔‘‘
دوسری جانب میں ملک میں جاری سیاسی تناؤ کی فضاء میں اقتصادی بہتری کی کسی بھی کوشش کو کاروباری حلقے بھی محتاط انداز سے دیکھ رہے ہیں۔ اسی سبب جنرل عاصم منیر سے ملاقات کے بعد کراچی کے بڑے صنعتی اور تجارتی رہنماء اپنے ایک اجلاس میں سر جوڑ کر بیٹھ رہے ہیں تاکہ وہ آرمی چیف کی باتوں کے مفہوم کی روشنی میں اپنی مسقبل کی حکمت عملی طہ کر سکیں۔آرمی چیف کی طرف سے ٹیکس وصولیوں میں سختی سے کام لینے کا دو ٹوک موقف یقیناﹰ ان کاروباری شخصیات کے لیے خطرے کی ایک گھنٹی بھی ہے جو طویل عرصے سے ٹیکسوں کی ادائیگی میں ہیرا پھیری سے کام لیتے آئے ہیں۔
خیال رہے کہ یہ پہلا موقع نہیں ہے کہ جب پاکستانی فوج کے سربراہ نے تاجر برادری سے ملاقات کی ہو۔ اس سے قبل سابق آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ بھی تاجروں اور صحافیوں سے غیر رسمی ملاقاتیں کرتے رہے ہیں۔
آرمی چیف کی تاجروں سے ملاقاتوں بارے معیشت دان ڈاکٹر خاقان نجیب سمجھتے ہیں کہ ملک کو خراب معاشی حالات کے بھنور سے نکالنے کے لیے ہر کوئی درست سمت میں اقدامات کرے گا تو ہی اس کے مثبت نتائج سامنے آئیں گے۔ اُن کا کہنا تھا کہ اس وقت ملک میں نگراں حکومت ہے جس کے پاس محدود مینڈیٹ ہے، لہذٰا فوج کے سربراہ نے یہ مناسب سمجھا کہ بے یقینی کی فضا ختم کرنے کے لیے تاجروں سے ملاقات کی جائے۔اُن کے بقول آرمی چیف نے یہ تاثر بھی دیا ہے کہ فوج آنے والی حکومت کے ساتھ معاشی بحالی کے ہر منصوبے میں ساتھ دے گی۔خاقان نجیب کہتے ہیں کہ پاکستان میں تمام طبقات کو آگے بڑھ کر کام کرنا ہو گا، اگر پانچ برس میں درست سمت میں کام ہو تو ملک کی معیشت بہتر ہو سکتی ہے۔خاقان نجیب کہتے ہیں کہ بظاہر ایسا لگتا ہے کہ اسٹیبلشمنٹ ملک کی معیشت اور معاشی نظام کو درست کرنے کے لیے عملی طور پر کچھ اقدامات کرنا چاہ رہی ہے۔
