کیا عمران آرمی چیف کو برطرف کرنے کا رسک لیں گے؟

معروف صحافی اور تجزیہ کار نجم سیٹھی نے کہا ہے کہ وزیراعظم عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد دائر کرنے کے بعد اپوزیشن جماعتوں نے قومی اسمبلی میں اپنی اکثریت ثابت کر دی ہے اور اب کپتان کی فراغت کی صرف رسمی کارروائی باقی ہے۔ انکا کہنا ہے کہ ایسے میں ڈوبتے ہوئے وزیر اعظم آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کو نشانہ بنا سکتے ہیں۔وہ اُنہیں بر طرف کر کے کسی سینئر جرنیل کا تقرر بھی کر سکتے ہیں جو اُنہیں مشکلات کے اس گرداب سے نکالے۔ لیکن یہ ایک بہت خطرناک تجویز ہے جس کے نتائج ہو سکتے ہیں۔
فرائیڈے ٹائمز کے لئے اپنے تازہ ایڈیٹوریل میں نجم سیٹھی لکھتے ہیں کہ حزب اختلاف نے عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد کی کامیابی کے لیے درکار 172 اراکین قومی اسمبلی کی قطعی اکثریت ثابت کردی ہے۔ اسکے علاوہ بھی بڑی تعداد میں تحریک انصاف کے اراکین اسمبلی اب تک انٹیلی جنس بیورو اور اسلام آباد پولیس کی نظروں سے خود کو چھپائے ہوئے ہیں۔ توقع کی جاتی ہے کہ فیصلہ کن دن یہ لوگ ہاتھ دکھانے کے لیے میدان میں اترآئیں گے۔ دوسری جانب مسلم لیگ ق اور ایم کیو ایم کی قیادت میں تحریک انصاف کے سابق اتحادی باضابطہ طور پر عمران کے خلاف صفوں میں شامل ہونے سے پہلے کچھ آخری تفصیلات طے کرنے میں مصروف ہیں۔ اس طرح آئندہ چند دنوں میں حزب اختلاف کم از کم 200 ووٹ لے کر میدان میں اترے گی جبکہ تحریک انصاف 140 سے آگے نہیں بڑھ پائے گی۔
نجم سیٹھی کا کہنا ہے کہ در حقیقت عمران کی پالیسیوں سے عوامی سطح پر بیزاری پیدا ہو گئی ہے۔ ان کے لیے تحریک انصاف کے ٹکٹ پر الیکشن جیتنا ناممکن ہے۔ لہذا وہ جیتنے والی پارٹیوں کی صفوں میں شامل ہونے کی کوشش میں ہیں۔ ان حالات میں آئینی رویہ تو یہ تھا کہ عمران خان وقار کے ساتھ منصب سے الگ ہوجائیں اور اسلام آباد میں واضح اکثریت حاصل کرنے والی نئی حکومت کو اقتدار سنبھالنے دیں۔ لیکن مسٹر خان کا ردعمل انتہائی منفی رہا ہے ۔ وہ اپنے سابق اتحادیوں کو گالیاں دے رہے ہیں۔ نیب، ایف آئی اے اور مختلف سرکاری ایجنسیوں کے ذریعے انہیں ”ٹھوکنے” کا ارادہ رکھتے ہیں۔ عمران خان تحریک انصاف کے باغیوں کو ووٹ دینے سے روکنا، اور سپیکر اسد قیصر کے دفتر کے ذریعے انہیں نااہل قرار دے کر اُن کے ووٹوں کو مسترد کرنا چاہتے ہیں۔ وہ عدم اعتماد کے عمل کو روکنے اور اپریل اور مئی تک عدالتوں میں گھسیٹنے کے لیے غیر آئینی تجاویز پر بات کر رہے ہیں، جیسا کہ سندھ میں گورنر راج، صدارتی اعلان ایمرجنسی وغیرہ ۔ سب سے ذیادہ افسوسناک بات یہ ہے کہ وہ ڈی چوک میں ہجوم کو جمع کرکے پارلیمنٹ کا گھیراؤ کرنے اور ووٹنگ کے دن اراکین پارلیمنٹ کو ڈرانے دھمکانے کی تیاری کررہے ہیں۔
نجم سیٹھی کا کہنا ہے کہ وزیراعظم کے ان غیر آئینی اقدامات نے حزب اختلاف کو مشتعل اور مجبور کر دیا کہ وہ اسی علاقے میں اتنے ہی جارحانہ مظاہرے کا اعلان کرے۔ اس سے بات تصادم اور تشدد کی طرف چلی جائے گی۔ عمران خان نے حزب اختلاف کو ناکام کرنے کے لیے ووٹنگ کے موقع پر ایک ترپ کا پتا ظاہر کرنے کی دھمکی بھی دی ہے۔ چونکہ اس طرح کے آخری مرحلے میں کوئی دھمکی یا بلیک میل حزب اختلاف کو روکتی یا کمزور کرتی دکھائی نہیں دیتی، اس لیے گمان ہے کہ اس کا مقصد اسٹبلشمنٹ کو تقسیم کرنا اور دباؤ ڈالنا ہے کہ وہ اپنی ”غیرجانبداری“کو ترک کر کے اس کی پشت پناہی کرے۔ یہ واضح نہیں کہ عمران خان یہ سب کچھ کیسے کریں گے نہ ہی کوئی اس بات کا یقین کر سکتا ہے کہ جب یہ کارڈ کھیلا جائے گا، تو وہ اپنے مقصد میں کامیاب ہو جائے گا۔ بقول نجم سیٹھی، تحریک انصاف کے دریچوں سے سرگوشیاں کرنے والوں کا کہنا ہے کہ عمران خان جنرل قمر جاوید باجوہ کو نشانہ بنا سکتے ہیں۔ وہ اُنہیں برطرف کر کے کسی سینئر غیر متنازع جنرل کا تقرر کر سکتے ہیں جو اُنہیں مشکلات کے اس گرداب سے نکالے۔ لیکن یہ ایک بہت خطرناک تجویز ہے۔ 1972 میں ذوالفقارعلی بھٹو نے فوج اور فضائیہ کے سربراہوں کو برطرف کیا تھا۔ لیکن وہ صرف اس وجہ سے بچ نکلے کہ انہوں نے یہ خنجر پس پردہ رہتے ہوئے مارا تھا۔ نیز اس وقت دونوں فورسز بنگلہ دیش کے بحران اور جنگ سے گھاؤ زدہ تھیں۔ لیکن اس نے پلٹ کر 1977 میں وارکردیا۔بھٹو کے اپنے منتخب آرمی چیف جنرل ضیاء الحق نے انہیں اقتدار سے ہٹایا اور بعد میں پھانسی دے دی۔
سیٹھی بتاتے ہیں کہ اسی طرح نواز شریف نے جنرل جہانگیر کرامت کو معمولی لغزش پر برطرف کر دیا تھا لیکن جنرل پرویز مشرف نے 1999 میں اس کا بدلہ چکا دیا اور مسٹر شریف کو ایک دہائی تک تکلیف میں مبتلا کیے رکھا۔ اس بار اگر ایسی صورتحال پیدا ہوئی تو معلوم نہیں جنرل باجوہ اور ان کے کور کمانڈرز کیا ردعمل ظاہر کریں۔ لیکن ایک بات طے ہے: آج کے کھولتے ہوئے سیاسی ماحول میں ”غیرجانبدار“رہنا اسٹیبلشمنٹ کا بطور ادارہ فیصلہ ہے نہ کہ ذاتی فیصلہ ہے۔ اس موقف کی مضبوط وجوہات ہیں۔ اسٹیبلشمنٹ نے محسوس کیا ہے کہ عمران کی قیادت میں اس کا ہائبرڈ تجربہ ناکام ثابت ہوا ہے۔ اس نے ادارے کو بہت زیادہ بدنام کیا ہے۔ اب جب عوامی جذبات کی لہر تحریک انصاف مخالف ہے، جیسا کہ رائے عامہ کے ہر سروے سے پتہ چلتا ہے، وہ خان کو گلے لگانے کے متحمل نہیں ہوسکتے۔ عمران کے لیے اسٹیبلشمنٹ کی ضمانت کے بغیر اتنا بڑا خطرہ مول لینا بہت بڑی حماقت ہوگی۔ اور شواہد بتاتے ہیں کہ ضمانت انہیں اس وقت دستیاب نہیں۔
بقول سیٹھی، کچھ قیاس آرائیاں یہ بھی ہیں کہ اس کا مطلب ڈی چوک میں فیصلہ کن دن پر افراتفری اور تشدد کو ہوا دینا ہے۔ چنانچہ اسٹیبلشمنٹ کو لازمی مداخلت کے لیے قدم بڑھانا پڑے گا۔ سوچ یہ ہے کہ ”اگر میں ڈوبوں گا تو اپنے ساتھ اپوزیشن کو بھی لے ڈوبوں گا۔
نجم سیٹھی کا کہنا ہے کہ در حقیقت عمران خان کے ہر طرف گہری کھائیاں ہیں۔اسلام آباد میں ان کے جو بھی غیر قانونی اور غیر آئینی تاخیری حربے ہوں، پنجاب میں پانی خطرے کے نشان کی طرف بڑھ رہا ہے۔ وزیراعلیٰ عثمان بزدار کے خلاف عدم اعتماد کا ووٹ لانے کے لیے سیاسی حریف مطلوبہ دستخطوں کے ساتھ آستینیں چڑھا چکے ہیں۔ یہ اقدام بروقت ہے کیونکہ پنجاب اسمبلی کے سپیکر چوہدری پرویز الٰہی اور ان کے ساتھی پہلے ہی وفاداریاں بدل چکے ہیں۔ قومی اسمبلی میں سپیکر اسد قیصر کے برعکس چوہدری پرویز الٰہی مسئلہ بننے کے بجائے مجوزہ حل کا حصہ ہیں۔ جو لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ حزب اختلاف جلد ہی آپس میں لڑنا شروع کردے گی اور خزاں رسیدہ پتوں کی طرح بکھر جائے گی وہ غلطی پر ہیں۔ عمران خان سے ذاتی نفرت اور تحریک انصاف کی بحالی کا سیاسی خطرہ اس قدر حقیقی ہے کہ وہ ایک نام نہاد ”قومی حکومت” مائنس ون میں اقتدار کی شراکت کے لیے ٹھوس سمجھوتا کرنے کے لیے تیار ہیں۔ درحقیقت، اسلام آباد اور چاروں صوبوں میں اس طرح کی طاقت کی تقسیم عام انتخابات تک ہونے کا امکان ہے۔ ہر گروپ تحریک انصاف کے خلاف تمام فریقوں کو زیادہ سے زیادہ فائدہ حاصل کرنے کے لیے اپنے اپنے طریقے سے یا ایک دوسرے کے ساتھ سیٹیں ایڈجسٹ کرکے ساتھ ملاتا دکھائی دے گا۔ کچھ ووٹر سمجھتے ہیں کہ عمران خان نے وعدے زیادہ کرلیے لیکن وہ اتنی کارکردگی نہ دکھا سکے۔ لیکن افسوسناک بات یہ ہے کہ وہ گہری فطری خامیوں کا حامل شخص ہے۔ خدشہ ہے کہ ان کی ذاتی ناکامیاں کہیں پاکستان میں جمہوریت کی ناکامی کا باعث نہ بن جائیں۔
