کیا عمران آزاد کشمیر میں بھی بزدار لانے والے ہیں؟


آزاد کشیمر کے الیکشن میں کامیابی کے بعد تحریک انصاف حکومت سازی کے آخری مراحل میں داخل ہو چکی ہے اور وزیراعظم پاکستان عمران خان دو بڑے ریاستی عہدوں یعنی وزیراعظم اور صدر کے لیے شخصیات کا انتحاب جاری انٹرویوز کے بعد خود کریں گے۔ حکومتی ذرائع کا کہنا ہے کہ عمران خان نے آزاد کشمیر کے وزیراعظم کے چناو پر اسٹیبلشمنٹ کا دباؤ لینے سے انکار کر دیا ہے اور وہ عثمان بزدار کے معاملے کی طرح یہاں بھی اپنی مرضی کے آدمی کا انتخاب کریں گے۔
ذرائع نے بتایا کہ وزیر اعظم عمران خان نے مختلف حلقوں کی جانب سے مخصوص امیدواروں کی حمایت کے لیے رابطہ کرنے پر برہمی کا اظہار کیا اور امیدواروں کو بتایا کہ وہ کسی دباؤ کے بغیر اپنا فیصلہ خود لیں گے اور سفارش کروانے والوں کو کابینہ میں بھی نہیں جائے گا۔ وفاقی وزیر اطلاعات فواد چوہدری نے کہا ہے کہ وزیر اعظم نے امیدواروں کے انٹرویو کرنے شروع کر دیے ہیں اور اب کوئی بھی اپنے آپ کو پسندیدہ نہیں کہہ سکتا۔ انہوں نے بتایا کہ وزیر اعظم امیدواروں کے تفصیلی انٹرویوز لے رہے ہیں جن میں ان سے سیاحت، معیشت، سرحدی معاملات اور مستقبل کے لائحہ عمل کے بارے میں سوالات کیے جارہے ہیں۔
ذرائع نے بتایا کہ وزیر اعظم سے ملاقات کے بعد سردار تنویر اور سلطان مسعود کی باڈی لینگویج مایوس نظر آئی جو اس بات کو ظاہر کرتی ہے کہ دیگر امیدواروں کو بھی وزارت عظمی سونپے جانے کے امکان پر سنجیدگی کے ساتھ غور کیا جارہا ہے۔ اس سے پہلے عمومی تاثر یہی تھا کہ الیکشن جیتنے کی صورت میں تحریک انصاف آزاد کشمیر کے صدر بیرسٹر سلطان محمود ہیں ریاست کے وزیر اعظم بنیں گے۔ لیکن اسی دوران اسلام آباد میں سنٹورس پلازہ کے مالک سردار تنویر الیاس کا نام بھی وزیراعظم کے مضبوط امیدوار کے طور پر سامنے آ گیا تھا۔ چنانچہ تحریک انصاف میں سلطان محمود اور تنویر الیاس کے دو واضح دھڑے بن گے تھے جنہیں توڑنے کے لئے اب یہ فارمولا دیا گیا ہے کہ ان دونوں کی بجائے کسی تیسرے شخص کو وزیراعظم بنا دیا جائے جو بزدار کی طرح صرف عمران خان کے کہنے میں ہو۔
سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ آزاد کشیمر کی وزارت عظمی ہو یا وہاں کی صدارت، کسی بھی بڑے فیصلے کا اختیار اور حق کبھی بھی پاکستان کی کسی بھی سیاسی جماعت نے آزاد کشیمر کے ممبران اسمبلی اور آزاد کشیمر میں پارٹی قیادت کو نہیں دیا۔ پاکستان کی تمام بڑی سیاسی جماعتوں میں سے جس پارٹی کی بھی اسلامی آباد میں حکومت بنتی ہے، وہی آزاد کشیمر میں بھی حکومت بناتی ہے۔ لہازا ناقدین کا کہنا ہے کہ کشمیر نام کا تو آزاد ہے لیکن اصل میں پاکستان کی حکومت کا غلام ہے۔ ناقدین مذید کہتے ہیں کہ وزیراعظم عمران خان نے بھی اپنے وعدے اور نعرے ‘کشیمر کے فیصلے کشیمر میں’ کے بالکل برعکس پاکستان کی دیگر سیاسی جماعتوں کی روایات کو برقرار رکھتے ہوے کشیمر میں حکومت سازی کے تمام اختیارات اپنے پاس رکھتے ہوے آئندہ ایک دو دن میں وہاں کی وزارت اعظمی اور صدارات کے ناموں کا اعلان کرنے والے ہیں۔
ذرائع کا کہنا یے کہ اس وقت آزاد کشیمر کے وزیر اعظم کے لیے بہت سے نام لیے جا رہے ہیں جن میں سابق وزیراعظم آزاد کشیمر بیرسٹر سلطان محمود چوہدری، چودھری تنویر الیاس، سابق سپیکر چوہدری انوارالحق، سابق وزیر ماجد خان، خواجہ فاروق۔ اظہر صادق، اور قیوم نیازی کے ناموں پر غور کیا جا رہا ہے۔ لیکن بیرسٹر سلطان محمود، تنویر الیاس، خواجہ فاروق اور چوہدری انوارالحق کے نام ذیادہ زیر بحث ہیں۔ اسوقت تحریک انصاف آزاد کشیمر میں بظاہر دو گروپوں یعنی سلطان محمود اور تنویر الیاس گروپ میں بٹی ہوئی ہے۔ لیکن عین ممکن ہے کہ ان دونوں کی جنگ میں کوئی تیسرا خوش قسمت بازی لے جاۓ۔ عام خیال ہے کہ بیرسٹر سلطان محمود چوہدری اور سردار تنویر الیاس دونوں میں سے ایک کو وزیراعظم اور دوسرا کو صدر ریاست بناۓ جانے کا امکان ہے۔ لیکن وزارت عظمی لینے والے گروپ کو بڑی وزارتوں کی قربانی دینا ہو گی۔ جب کہ صدر ریاست بناۓ جانے والے گروپ کو سینئر وزیر اور سپیکر شپ کے ساتھ بڑی وزارتیں مل سکتی ہیں۔
باخبر ذرائع کے مطابق سلطان محمود چوہدری خود صدر ریاست بن کر اپنے بیٹے یاسر سلطان کو میرپور سے ممبر اسمبلی منتحب کروا کر اسے سینئر وزیر کے ساتھ ایک پارو فل وزارت دلوانے پر سنجیدگی سے غور کر رہے ہیں تاکہ وہ اپنے سیاسی جانشین کو اپنی زندگی میں ہی کامیاب سیاستدان بنتا دیکھ سکیں۔ اس دوران وزیر اعظم عمران خان آزاد کشمیر کے وزیر اعظم کے عہدے کے لیے امیدواروں کے انٹرویوز کرنے رہے ہیں جو 30 جولائی کو مکمل ہو جائیں گے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ آزاد کشمیر کے اقتدار کا ہما کس خوش نصیب کے سر پر بیٹھتا ہے۔

Back to top button