کیا عمران اور جہانگیر ترین کی ڈیل ہو گئی؟


حکمران جماعت تحریک انصاف کے باغی رہنما جہانگیر ترین کے خلاف چینی سکینڈل اور بینکنگ فراڈ کیس میں ایف آئی اے پیچھے ہٹ گئی ہے اور اس طرح کی اطلاعات ہیں کہ بالآخر کپتان اور ان کی سابقہ اے ٹی ایم کے مابین ڈیل ہوگئی ہے۔
11 جون کو قومی اسمبلی میں بجٹ پیش ہونے کے روز اہم ترین پیش رفت یہ ہوئی کہ ایف آئی اے نے ترین کی عبوری ضمانت کے کیس میں عدالتی سماعت کے دوران بتایا کہ ’ہمیں جہانگیر ترین سے مزید تحقیقات کرنے کی ضرورت نہیں اور نہ ہی انہیں گرفتار کرنے کا ارادہ ہے’۔
یاد رہے کہ ایف آئی اے کی جانب سے عدالت میں یہ موقف پیش کرنے سے ایک روز پہلے ایف آئی اے کے ڈائریکٹر جنرل واجد ضیا کا تبادلہ کر دیا گیا تھا۔ یاد رہے کہ شوگر سکینڈل کی انکوائری واجد ضیا کے ذمہ تھی اور اس خدشے کا اظہار کیا جا رہا تھا کہ جہانگیر ترین کو آنے والے دنوں میں گرفتار کر لیا جائے گا۔ تاہم واجد ضیا کے تبادلے کے بعد یہ افواہیں گردش میں تھیں کہ انہیں جہانگیر ترین کے مطالبے پر ہٹایا گیا ہے کیونکہ انہوں نے کپتان حکومت کو بجٹ پاس کروانے میں اپنے گروپ گروپ کی حمایت کی یقین دہانی کروا دی ہے۔
11 جون کو لاہور میں جہانگیر ترین اور انکے بیٹے علی ترین کے عبوری ضمانت کیس کی سماعت دو مختلف عدالتوں میں ہوئی۔ ایک عدالت نے منی لانڈرنگ اور دوسری عدالت نے بینکنگ فراڈ کیس میں جہانگیر ترین اور ان کے بیٹے کی ضمانت منظور کی۔ عدالت میں سماعت کے دوران ایف آئی اے کی پراسیکیوشن ٹیم نے بتایا کہ ’اب ہمیں جہانگیر ترین کو گرفتار کرنے کی خوئی ضرورت نہیں ہے اور ہمارے پاس پہلے سے موجود مواد مقدمے کی مزید چھان بین کے لیے کافی ہے۔ کیس کی سماعت کے دوران جہانگیر ترین کے وکلا نے عدالت کو بتایا کہ ’ہمارا پہلے دن سے یہی موقف ہے کہ ہم کوگ تفتیش میں تعاون کر رہے ہیں اور جو ریکارڈ بھی مانگا گیا وہ مہیا کیا گیا ہے۔ اور آج ایف آئی اے نے ہمارے موقف کی تائید کر دی ہے۔‘ کیس کی سماعت کے بعد جہانگیر ترین نے عدالت کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ آج ایف آئی اے نے بھی ہمارے موقف کی تائید کردی کہ شوگر انکوائری میں ہمیں گرفتار کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔
خیال رہے کہ جہانگیر ترین کے خلاف چینی بحران میں منافع کمانے کے الزامات کی تحقیقات جاری تھیں کہ اسی دوران ان کے خلاف ایف آئی اے نے دو نئے مقدمات درج کرلیے جن میں ان کے صاحبزادے اور خاندان کے دیگر افراد پر بھی سنگین الزامات عائد کیے گئے۔ چنانچہ ردعمل کے طور پر تحریک انصاف کے 30 سے زائد اراکین اسمبلی اور دو صوبائی وزرا نے جہانگیر ترین کا ساتھ دینے کا فیصلہ کیا اور پارٹی کے اندر نیا گروپ بنا لیا۔ اس گروپ کا پہلے دن سے مطالبہ تھا کہ ترین کو پارٹی کے اندر سے ہی سیاسی انتقام کا نشانہ بنایا جارہا ہے۔ پنجاب سے ایک حکومتی ایم پی اے نذیر چوہان نے اس انتقام کی وجہ وزیراعظم کے مشیر برائے احتساب شہزاد اکبر کو قرار دیا تھا۔ نئے دھڑے کے بننے کے بعد وزیراعظم نے اس کے اراکین سے ملاقات بھی کی اور ان کا موقف سنا۔بعد ازاں وزیر اعلٰی پنجاب سردار عثمان بزدار سے بھی اس گروپ نے ملاقات کی جس کے بعد بتایا گیا کہ ’گلے شکوے دور ہو گئے ہیں اور اب کوئی دھڑے بندی نہیں۔‘
یاد رہے کہ ترین گروپ بننے کے بعد ہر پیشی پر گروپ کے تمام اراکین جہانگیر ترین کے ساتھ عدالت میں پیش ہوتے رہے۔ 11 جون کی پیشی میں بھی تمام اراکین جہانگیر ترین کے ساتھ تھے۔ ترین کے وکلا نے ایف آئی اے کی جانب سے انہیں گرفتار نہ کرنے کی یقین دہانی کے بعد ضمانت کی درخواستیں واپس لے لیں۔ قانونی ماہرین کے مطابق ’ضمانت کی درخواست اس وقت ہی واپس لی جاتی ہے جب قانون نافذ کرنے والے ادارے عدالت کو یہ بتا دیں کہ تفتیش میں آپ بے قصور پائے گئے ہیں یا پھر آپ کو گرفتار کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔‘ عدالت نے فریقین کو سننے کے بعد ضمانت کی درخواست نمٹا دی اور ایف آئی اے کو پابند کیا کہ مستقبل میں وہ جہانگیر ترین کے خلاف کسی بھی تادیبی کارروائی سے ایک ہفتہ پہلے انہیں بتائیں گے۔
سیاسی مبصرین پاکستان کے سالانہ بجٹ کے روز جہانگیر ترین اور ایف آئی اے کے درمیان سیز فائر کو ایک ڈیل کے طور پر دیکھ رہے ہیں، کیونکہ بجٹ کی منظوری بہرحال ترین گروپ کی حمایت کے بغیر ممکن نہیں تھی۔ لیکن جہانگیر ترین نے عدالت کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ ’عدالت میں ہونے والی پیش رفت کو بجٹ سے نہ جوڑا جائے۔
تاہم حکومتی ذرائع کا دعویٰ ہے کہ عمران خان اور جہانگیر ترین کے مابین کسی قسم کی کوئی ڈیل نہیں ہوئی اور بجٹ کے بعد شوگر تحقیقات تیزی سے آگے بڑھائی جائیں گی۔

Back to top button