کیا عمران اور نواز کے بعد زرداری بھی مائینس ہونے والے ہیں ؟

اگر میاں نواز شریف وزیر اعظم نہیں بن سکے تو آصف زرداری ملک کے دوبارہ صدر کیسے بن سکتے ہیں؟ اب صورتحال یہ بن گئی ہے کہ ملک کے تین بڑے سیاستدان عملی طور پر اقتدار کے کھیل سے مائنس ہو گئے ہیں۔ بانی تحریک انصاف مائنس ہو گئے ہیں۔ میاں نواز شریف مائنس ہو گئے ہیں اور اب آصف زرداری کے مائنس ہونے کی باری آگئی ہے۔ ان خیالات کا اظہار سینئر سیاسی تجزیہ نگار مزمل سہروری نے اپنے ایک کالم میں کیا ھے ۔ وہ لکھتے ہیں کہ اگرآج الیکشن کے بعد پیپلزپارٹی کو میاں نواز شریف کے وزیراعظم بننے پر اعتراض ھے تو کل کو پاکستان مسلم لیگ (ن) کو آصف زرداری کے صدر بننے پر اعتراض کیوں نہیں ہوگا ۔ یہی سیاست ہے۔ جہاں سب مناسب وقت پر جواب دیتے ہیں۔ آج خورشید شاہ کے ان بیانات کا جس میں انھوں نے میاں نواز شریف کو قبول نہ کرنے کا اعلان کیا تھا وقت پر ن لیگ کی جانب سے مناسب جواب دیا جائے گا۔ جب میاں نواز شریف کو نا اہل قرار دیا جا رہا تھا تو کہا گیا تھا کہ لڑتے لڑتے ہو جائے گی گم ایک کی چونچ ایک کی دم۔ آج بانی تحریک انصاف بھی اسی طرح مائنس ہیں جیسے انھوں نے میاں نواز شریف کو مائنس کرنے کی کوشش کی تھی۔ اس لیے اگر پیپلزپارٹی نے بھی آج میاں نواز شریف کو مائنس کرنے کی کوشش کی ہے تو کل انھیں بھی اسی عمل سے گزرنا ہے۔ یہی قانون قدرت ہے ۔
مزمل سہروری کہتے ہیں کہ بلاول بھٹو تو انتخابی مہم کے دوران نواز شریف اور مسلم لیگ نون کے خلاف اتنی تلخ تقاریر کر چکے تھے کہ اب ان کے پاس ن لیگ کے ساتھ کابینہ میں بیٹھنے کا کوئی اخلاقی جواز نہیں تھا۔ کل تک ن لیگ کو نا اہل کہنے والے بلاول آج کس منہ سے انھی کی کابینہ میں بیٹھ جاتے۔ اتنی گرم الیکشن مہم کے بعد بلاول شہباز شریف کی کابینہ میں بیٹھ کر خود کو سیاسی طور پر زیرو کر لیتے۔ اسی لیے ان کے پاس ایک ہی راستہ تھا کہ وہ باہر بیٹھ جائیں ۔ بلاول کی تقاریر کا شاید ن لیگ کو تو کوئی خاص نقصان نہیں ہوا ۔ لیکن آج بلاول اپنی انھی تقاریر کی قیمت چکارہے ہیں۔ اگر بلاول نے وہ سب تقاریر نہ کی ہوتیں تو وہ آج دوبارہ وزیر خارجہ بن سکتے تھے۔ اور اگر یہ حکومت پانچ سال چلتی تو ان کے پاس پانچ سال ملک کا وزیر خارجہ بننے کا موقع تھا۔ وہ بین الاقوامی طور پر اپنے تعلقات کتنے مضبوط اور بہتر کر سکتے تھے۔ ان کی سیاسی ساکھ کتنی مضبوط ہو جاتی۔ وہ بین الاقومی سطح پر اپنا ایک کردار بنا سکتے تھے۔ لیکن شاید یہ موقع ان کے ہاتھ سے نکل گیا ہے۔ اقتدار بہت بے رحم ہوتا ہے۔ ہاتھ سے نکل جائے تو واپس مشکل سے آتا ہے۔ اس لیے بلاول کے ساتھ کچھ ایسا ہی ہوا ہے۔
مزمل سہروری کے مطابق پیپلزپارٹی ن لیگ کو سپورٹ کرنے سے انکار نہیں کر سکتی تھی کیوں کہ وہ نظام میں ایسے بندھے ہوئے ہیں کہ نظام سے بغاوت ان کے لیے ممکن نہیں تھی۔ وہ کہہ تو رہے تھے کہ ہم تحریک انصاف کے ساتھ ملکر حکومت بنانا چاہتے ہیں۔ لیکن شائد اگر تحریک انصاف مان بھی جاتی تو پیپلزپارٹی کے لیے یہ ممکن نہیں تھا کہ وہ بانی تحریک انصاف کے ساتھ مل کر حکومت بنا لے۔ اگر بلاول کی یہ خواہش ہوتی بھی تو آصف زرداری اس کی راہ میں ایک بڑی رکاوٹ تھے۔ ان کی ساری سیاست اسٹبلشمنٹ کے ساتھ رہی ہے۔ وہ اسٹبلشمنٹ سے محاذ آرائی اور بند گلی کی سیاست نہیں کرتے۔ بلکہ بند گلی سے راستہ نکالنے کا فن جانتے ہیں۔ پیپلزپارٹی کو علم تھا کہ تحریک انصاف ان کے ساتھ نہیں آئے گی۔ اگر یہ بلاول کی خواہش تھی بھی تو تجربہ کار زرداری جانتے تھے کہ یہ ممکن نہیں۔ اور اگر فرض کریں تحریک انصاف مان بھی جاتی تو زرداری اس کو کسی نہ کسی طرح روک لیتے۔ انھیں اس کی سیاسی قیمت کا اندازہ تھا اور وہ یہ سیاسی قیمت ادا کرنے کے لیے تیار نہیں تھے ۔
مزمل سہروری کہتے ہیں کہ لگتا نہیں کہ کسی بھی موقع پر پیپلزپارٹی حکومت گرانے کا کوئی کام کرے گی۔ وہ شہباز حکومت سے ناراض تو رہے گی لیکن تعاون بھی جاری رکھے گی۔ پاکستان مسلم لیگ (ن) کے پاس ایک فری ہینڈ ہو گا۔ ان کا یہ جواز بھی ختم ہو گیا کہ اتحاد میں کام کرنا مشکل ہوتا ہے۔ کس کو منائیں اور کس کو قائل کریں۔ شہباز شریف کے وزیر اعظم بننے کے بعد ان کے خلاف کوئی عدم اعتماد آنے کا امکان بھی نہیں ہے۔ عدم اعتماد کے لیے پھر پیپلزپارٹی کو تحریک انصاف کا تعاون درکار ہو گا۔ جو ممکن نہیں ہوگا۔ اس لیے اب سوال یہی رہ گیا کہ کب بلاول دوبارہ کابینہ جوائن کرنے پر مان جائیں گے اور جب وہ مان جائیں گے تو کیا ن لیگ تیار ہو گی۔
کیونکہ ایک دفعہ ن لیگ کو بھی اکیلے حکومت چلانے کا موقع مل گیا تو وہ دوبارہ کیوں شراکت کی طرف جائیں گے۔ اس لیے جس حکومت کو لوگ غیر مستحکم کہہ رہے ہیں اس کے گرنے کا کوئی امکان نہیں۔ عدم اعتماد کے لیے ووٹ موجود نہیں ہیں۔ جو وزیر اعظم بن گیا وہ بن گیا بعد میں اسے عہدے سے اتارنے کی طاقت کسی کے پاس بھی نہیں ہوگی۔
