کیا عمران خان جہانگیر ترین کی دشمنی سہہ پائیں گے؟


ایک برس پہلے چینی سکینڈل میں نام آنے کے بعد عمران خان کی جانب سے دور کر دیے جانے والے جہانگیر خان ترین نے بالآخر اپنی خاموشی توڑتے ہوئے بالواسطہ وزیراعظم سے کہا ہے کہ وہ تحریک انصاف سے اپنے لئے انصاف مانگ رہے ہیں اور یہ سوال کرنا چاہتے ہیں کہ وہ تو دوست تھے، ان کو دشمنی کی جانب کیوں دھکیلا جا رہا ہے؟
جہانگیر ترین 7 فروری کو تحریک انصاف کے درجن بھر وزراء اور اراکین قومی اور صوبائی اسمبلی کے ہمراہ بینکنگ کورٹ سے اپنی ضمانت میں 10 اپریل تک توسیع کروانے کے بعد میڈیا سے گفتگو کر رہے تھے۔ ترین کی میڈیا سے گفتگو کے بعد سیاسی حلقوں میں یہ سوال کیا جا رہا ہے کہ کیا عمران خان واقعی جہانگیرترین سے دشمنی کر رہے ہیں اور اگر ایسا ہے تو کیا وہ اس دشمنی کو نبھانے کی پوزیشن میں ہیں خصوصا جب تحریک انصاف میں ترین کے حامی وزرا اور ممبران قومی اور صوبائی اسمبلی کی ایک بڑی تعداد موجود ہے۔
بینکنگ کورٹ کے باہر اپنی گفتگو میں جہانگیر ترین نے کہا کہ شوگر کمیشن انکوائری کے بعد سے میں خاموش ہوں، ایک برس گزر چکا ہے لیکن میں کبھی ایک لفظ نہیں بولا، لیکن پھر بھی میری وفاداری کا امتحان لیا جا رہا ہے، لہٰذا میں جاننا چاہتا ہوں کہ میری وفاداری کا ثبوت کس کو اور کیوں چاہیئے۔ انہوں نے کہا کہ وہ اب بھی تحریک انصاف کا پوری طرح حصہ ہیں اور ان کی راہیں جدا نہیں ہوئیں۔ انھوں نے کہا کہ وہ تو صرف اپنے لیے انصاف کا مطالبہ کر رہے ہیں کیوں کہ شوگر کمیشن انکوائری میں 80 سے زائد شوگر مل مالکان کا نام آیا ہے لیکن اھتساب صرف میرا کیا جا رہا ہے اور ایف آئی اے کو میرے پیچھے لگا دیا گیا ہے۔ انھوں نے کہا کہ ان کے خلاف انتقامی کارروائی کی جا رہی ہے اور وقت آ گیا ہے کہ اسکے پیچھے موجود لوگوں کو بے نقاب کیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ ان پر تین ایف آئی آرز درج کی گئیں اور کیس شروع ہونے سے پہلے ہی اُن کے بینک اکاؤنٹس منجمد کر دیے گئے ہیں جس کی ماضی میں کوئی مثال نہیں ملتی۔
ایک سوال کے جواب میں جہانگیر ترین کا کہنا تھا کہ ایسے لوگوں کو بےنقاب کرنا بہت ضروری ہو گیا ہے جو انھیں عمران خان سے دور کرنے کی سازشیں کر رہے ہیں۔ انکا کہنا تھا کہ ایسا کرنے سے تحریک انصاف کو کوئی فائدہ نہیں پہنچے گا۔ جماعت سے وابستگی کے سوال پر جہانگیر ترین نے کہا کہ انھوں نے دس سال پارٹی کے لیے خون پسینہ ایک کیا ہے اور وہ پارٹی کا ہی حصہ ہیں اور رہیں گے۔ جہانگیر ترین سے جب پاکستان پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین آصف زرداری سے ملاقات کے بارے میں چلتی افواہوں کے بارے میں پوچھا گیا تو انھوں نے ہنستے ہوئے اس کی تردید کی اور کہا کہ وہ ان سے ملاقات کے لیے نہیں جا رہے ہیں۔
یاد رہے کہ تحریک انصاف کے قیام اور عمران خان کے وزیراعظم بننے میں ترین کا سیاسی کردار کافی اہمیت کا حامل رہا ہے۔ حتی کہ جب پارٹی اقتدار میں آئی تو انہیں ’ڈیفیکٹو وزیر اعظم‘ سمجھا جاتا تھا۔ لیکن گذشتہ ایک سال سے وہ خاموش ہیں خاص طور پر جب مئی 2020 میں چینی بحران پر وزیر اعظم کے حکم سے بنائی گئی فرانزک رپورٹ سامنے آئی جس میں انکا نام بھی شامل تھا۔
تاہم اسکے بعد وہ برطانیہ چلے گئے اور پاکستان میں اپوزیشن کی جانب سے یہ تنقید ہوتی رہی کہ چینی بحران کے ذمہ داروں کو سزا نہیں دی جا رہی کیونکہ اس میں جہانگیر ترین بطور مرکزی کردار شامل ہیں۔ لیکن گذشتہ ہفتے جہانگیر ترین اور ان کے بیٹے علی ترین کے خلاف وفاقی تحقیقاتی ایجنسی کی جانب سے مالیاتی فراڈ اور منی لانڈرنگ جیسے سنگین جرائم کے تین مختلف مقدمات درج کر لیے گئے۔ اس معاملہ میں ان سمیت شوگر ملز پر سٹہ بازی کے ذریعے چینی کی قیمتیں بڑھانے کا الزام بھی عائد کیا گیا اور وزیر اعظم نے سٹہ کے ذریعے قیمتیں بڑھانے والوں کے خلاف سخت کارروائی کا اعلان بھی کیا۔ اسی دوران پیپلز پارٹی رہنما شہلارضا نے ایک ٹویٹ میں دعویٰ کیا کہ جہانگیر ترین کی پی پی پی رہنما مخدوم احمد محمود سے ملاقات ہوئی ہے اور چند دن میں وہ کراچی آصف علی زرداری سے ملاقات کر کے پی ٹی آئی چھوڑنے اور پیپلز پارٹی میں شمولیت کا اعلان کریں گے۔ تاہم ترین نے اس خبر کی تردید کر دی اور کچھ دیر بعد یہ ٹویٹ بھی ڈیلیٹ کر دی گئی۔
حکومتی ذرائع کا کہنا ہے کہ جہانگیر خان ترین کی جانب سے بینکنگ کورٹ میں پیشی کے وقت سخت گفتگو کرنے اور اپنے ساتھ درجن بھر وزراء اور اراکین قومی اور صوبائی اسمبلی لے جانے کا مقصد حکومت پر دباؤ ڈالنا ہے تاکہ ان کے خلاف کارروائی روک دی جائے، لیکن ایسا نہیں ہوگا۔
7 اپریل کو جہانگیر ترین کے ساتھ عدالت جانے والے اراکین اسمبلی میں راجہ ریاض ،نعمان لنگڑیال، نذیر بلوچ ،سلیمان نعیم،غلام بی بی بھروانہ، خرم لغاری، چوہدری افتخار گوندل ، اسلم بھروانہ،طاہر رندھاوا اور امیر محمد خان شامل تھے اور ان سب کا تعلق عمران خان کی جماعت سے یے۔ اس موقع پر ترین نے طویل خاموشی توڑ ڈالی اور کئی سوال اٹھائے۔ پیشی کے بعد انہوں نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کھل کر گلے شکوے کیے اور پوچھا کہ کون لوگ ہیں جنہوں نے مجھے خان صاحب سے دور کر دیا ہے؟ ان سے پوچھا گیا کہ کیا آپ حکومتی اراکین کو اپنی سیاسی طاقت ظاہر کرنے کے لیے ساتھ لائے ہیں تو انہوں نے جواب دیا کہ سب اراکین اسمبلی خود ان کے ساتھ آئے ہیں اور انہوں نے کسی کو دعوت نہیں دی۔
اس موقع پر جہانگیر ترین کے ساتھی اور رکن اسمبلی راجہ ریاض نے کہا کہ حال ہی میں وزیر اعظم عمران خان نے اسمبلی سے اعتماد کا جو ووٹ حاصل کیا ہے اس میں بڑا کردار جہانگیر ترین کا تھا۔ راجہ ریاض کا کہنا تھا کہ اگر جہانگیر ترین اپنا مثبت کردار ادا نہ کرتے تو عمران خان اعتماد کا ووٹ نہ لے سکتے۔ انہوں نے کہا کہ آپ جانتے ہیں کہ پنجاب کی حکومت بھی جہانگیر ترین نے بنوائی۔ اس کے بعد وفاق کی حکومت بھی انھی کی محنت سے بنی ہے۔ لیکن آج عمران خان کے ارد گرد جو لوگ جہانگیر ترین کے خلاف سازش کر رہے ہیں، یہ انتقامی کارروائی ہے اور یہ سخت زیادتی ہے جس کے خلاف وزیر اعظم کو ایکشن لینا چاہیے۔‘ ان کا کہنا تھا کہ ایسا کرنے سے نقصان پی ٹی آئی کو پہنچ رہا ہے، جہانگیر ترین کو نہیں۔
یاد رہے کہ سپریم کورٹ کی جانب سے نااہل کیے جانے سے پہلے جہانگیر خان ترین پارٹی کے جنرل سیکرٹری کی حیثیت سے عمران خان کے سب سے قریبی آدمی سمجھے جاتے تھے اور تمام اہم فیصلوں میں ان کی رائے اہم ترین سمجھی جاتی تھی۔ جب الیکشن 2018 میں حصہ لینے کے لیے امیدواروں کا چناؤ کیا گیا تو ٹکٹوں کے اجرا اور الیکٹ ایبلز کی پارٹی میں شمولیت کے موقع پر بھی جہانگیر ترین پیش پیش رہے۔ اپوزیشن کی جانب سے تنقید بھی کی جاتی رہی کہ ترین کے جہاز پر حکومت تشکیل دی جارہی ہے۔ آزاد اراکین کی پی ٹی آئی میں شمولیت ہو یا اتحادی جماعتوں سے معاملات طے کرنا ہوتے، تب بھی کپتان کی جانب سے ترین کو ہہ ذمہ داری سونپی جاتی تھی۔
عمران کے وزیر اعظم بننے کے بعد پارٹی میں ترین کی نمایاں حیثیت پر اپوزیشن تنقید کرتی تھی کہ وہ کس حیثیت میں حکومتی اجلاسوں میں بیٹھتے ہیں جبکہ ان کے پاس کوئی سرکاری عہدہ نہیں، دوسرا یہ کہ انہیں سپریم کورٹ نااہل قرار دے چکی ہے پھر بھی وہ کیوں اتنے اہم سمجھے جاتے ہیں؟ وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے تو شروع سے ہی ترین کے خلاف علیحدہ گروپ بنا رکھا ہے مگر جب اسد عمر وزارت خزانہ کے عہدے سے الگ ہوئے تب بھی جہانگیر ترین کو اس کا موجب قرار دیا گیا۔ اس کے علاوہ وزیر اعظم کے پرنسپل سیکرٹری اعظم خان سے بھی جہانگیر ترین کے اختلافات کی خبریں عام ہیں اور وہ یہ سمجھتے ہیں کہ ان کو وزیراعظم سے دور کرنے میں بڑا کردار انکے پرنسپل سیکرٹری نے بھی ادا کیا۔
تاہم اب دیکھنا یہ ہے کہ جہانگیر ترین اپنی ضمانت ختم ہونے کے بعد گرفتار ہوتے ہیں یا بچ جاتے ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button