کیا عمران نے امریکا کا نام لینے کی غلطی جان بوجھ کر کی؟

30 مارچ کو قوم سے آخری خطاب کے دوران عمران خان نے اپنے خلاف اپوزیشن کی تحریک عدم اعتماد کو غیر ملکی طاقتوں کی سازش قرار دیتے ہوئے امریکہ کا نام بھی لے لیا لیکن پھر یہ تاثر دینے کی کوشش کی کہ وہ ایسا غلطی سے کہہ بیٹھے ہیں۔ تاہم اب یہ الزام عائد کیا جارہا ہے کہ عمران نے سوچ سمجھ کر اور جان بوجھ کر امریکا کا نام لیا اور پھر اسے ایک غلطی قرار دے دیا۔ ان کا بنیادی مقصد جاتے جاتے امریکہ مخالف سیاسی کارڈ کھیلنا تھا جو انھوں نے کھیل دیا، اب چاہے اس کا خمیازہ پاکستان اور اس کے عوام کو ہی کیوں نہ بھگتنا پڑے۔
یاد رہے کہ جب سے مبینہ دھمکی آمیز خط کا معاملہ کھڑا کیا گیا ہے، باضابطہ طور پر کسی بھی حکومتی عہدے دار نے واضح طور پر امریکہ کا نام نہیں لیا تھا۔ بتایا جاتا ہے کہ وزیراعظم کا یہ خطاب پہلے ریکارڈ ہونا تھا لیکن پھر ان کے اصرار پر انہیں قوم سے لائیو خطاب کی اجازت مل گئی۔ اس دوران انہوں نے طاقتور حلقوں کو یہ یقین دہانی بھی کروائی کہ وہ اپنی تقریر کے دوران ایسا کوئی غیر ذمہ دارانہ بیان نہیں دیں گے جس کا خمیازہ پاکستان کو بھگتنا پڑے۔ لیکن خان نے اپنی طبیعت کے عین مطابق اہنی کمٹ منٹ سے یوٹرن لیتے ہوئے قوم سے لائیو خطاب کے دوران امریکا پر اپنی حکومت الٹانے کی سازش میں ملوث ہونے کا الزام عائد کر دیا۔ ایسا کرنے کے بعد انہوں نے یہ تاثر دینے کی غلطی کی کہ جیسے امریکہ کا نام انہوں نے غلطی سے لے لیا ہے ۔وزیر اعظم کی بظاہر اس غلطی کے بعد سوشل میڈیا پر ایک طوفان برپا ہو گیا جہاں ان کے حامیوں نے عمران کی تعریفوں کے پُل باندھ دیے وہیں ناقدین نے ان پر تنقید کے نشتر برسانے شروع کر دیے۔
لیکن سوشل میڈیا پر چلنے والی بحث سے قبل پہلے یہ جان لیتے ہیں کہ وزیر اعظم نے اپنے براہ راست کیے جانے والے خطاب میں کیا کہا اور اس خط کے بارے میں پس منظر کیا ہے۔ اپنی تقریر میں اس موقع پر پہنچنے سے پہلے انھوں نے لمبی سانس لی اور پھر بات کرتے ہوئے کہا: ‘میں آج جو آپ کے پاس ساری بات کرنے اس لیے آیا ہوں، ابھی ہمیں آٹھ مارچ، سات مارچ کو ہمیں امریکہ نے، پھر انہوں نے جھینپتے ہوئے مسکراہٹ کے ساتھ ہاتھ لہرایا، اور کہا کہ ایک باہر کے ملک نے، مطلب باہر کسی اور ملک سے ہمیں پیغام آتا ہے۔ میں اس لیے آپ کے سامنے اس پیغام کی بات کرنا چاہتا ہوں اور میں اسی لیے لائیو بات کر رہا ہوں کہ یہ ہمیں جس طرح کا پیغام آیا ہے، یہ ہے تو صرف وزیر اعظم کے خلاف، لیکن یہ ہماری قوم کے خلاف بھی ہے۔’
واضح رہے کہ سب سے پہلے وزیر اعظم عمران خان نے 27 مارچ کو اسلام آباد جلسے میں انکشاف کرتے ہوئے کہا کہ ‘ہمیں لکھ کر دھمکی دی گئی’ تاہم انھوں نے کہا کہ قومی مفاد میں وہ اس خط پر مزید بات نہیں کریں گے تاہم کوئی اگر دیکھنا چاہے تو وہ انھیں آف دا ریکارڈ دکھا سکتے ہیں۔ بعد ازاں وفاقی وزرا فواد چوہدری اور اسد عمر نے بھی اس خط کے بارے میں بات کرتے ہوئے کہا تھا کہ اس خط میں عمران خان کے خلاف بات کی گئی ہے اور یہ کہ ابھی حکومت یہ نہیں بتا سکتی کہ خط کہاں سے آیا ہے کیوں کہ ‘اس خط کو صرف اعلیٰ ترین سول ملٹری قیادت تک محدود رکھا گیا ہے اور کابینہ کے بھی دو یا تین اراکین کو معلوم ہے کہ مراسلے میں کیا لکھا ہوا ہے۔’
اس کے بعد بدھ کو وزیر اعظم نے پہلے کہا کہ وہ چند صحافیوں کو مدعو کر رہے ہیں تاکہ انھیں خط دکھایا جائے تاہم بعد میں انھوں نے خط تو نہیں دکھایا تاہم انھیں اس کے مندرجات اور متن سے آگاہ کیا۔
یاد رہے کہ اس اثنا میں تحریک عدم اعتماد کے حوالے سے سیاسی پہیہ وزیر اعظم کے خلاف گھوم رہا تھا اور جہاں ایک جانب عمران خان کے اتحادی ان کا ساتھ چھوڑ کر اپوزیشن میں شمولیت اختیار کر رہے تھے، وہیں عمران خان اور ان کے ساتھیوں کا بیانیہ سخت سے سخت تر ہوتا جا رہا تھا کہ یہ سب ان کی حکومت کو گرانے کے لیے ‘بیرون ملک سے برآمد کی گئی’ ایک گھناؤنی سازش ہے۔ 31 مارچ کو خط موصول ہونے کے تین ہفتے بعد وزیر اعظم کے خطاب سے کچھ گھنٹے قبل قومی سلامتی کمیٹی کے اجلاس میں یہ معاملہ زیر بحث آیا جہاں وزیر اعظم، مسلح افواج کے سربراہان سمیت اہم حکومتی عہدے دار موجود تھے اور اس ملاقات کے بعد جاری کیے گئے اعلامیے میں بھی دھمکی آمیز مراسلہ بھیجنے والے ملک کا نام نہیں لیا گیا تھا۔ تاہم اس اعلامیے میں بھی نہ ‘دھمکی’ کا ذکر کیا گیا اور نہ ہی کسی ‘سازش’ کا اور کہا گیا کہ پاکستان سفارتی آداب کو ملحوظ خاطر رکھتے ہوئے اس پر اپنا احتجاج درج کرائے گا، لیکن اس کے علاوہ اعلامیہ میں کسی غیر ملکی فنڈنگ یا ملک میں عدم استحکام کرنے کے منصوبے کا کوئی ذکر نہیں تھا۔
تقہم جب عمران خان نے اپنی تقریر میں امریکہ کا ذکر کیا اور بظاہر اپنی غلطی کو چھپاتے ہوئے کہا کہ وہ کسی غیر ملک کی بات کر رہے ہیں تو جیسے ٹائم لائن پر کوئی بھونچال سا آ گیا۔ صحافی احتشام الحق نے ٹوئیٹر پر۔لکھا کہ یہ ‘سلپ آف ٹنگ’ ہی ان کی ساری تقریر کا مقصد تھی اور وہ دراصلکہنا بھی یہی چاہتے تھے۔ ایک اور صارف خورشید کمال نے بھی کہا کہ وزیر اعظم کی یہہہ غلطی ان کی پوری تقریر تھی کیونکہ باقی سب تو وہ تھا جو وہ ہمیشہ دہراتے آئے ہیں۔ وہ صرف یہی کہنے کے لیے آئے تھے اور بغیر کہے بھی انھوں نے یہ کر دکھایا۔
ایک اور صارف عدیل لکھتے ہیں کہ عمران خان نے امریکہ کا نام لیا اور پھر درستگی کر لی لیکن لیکن کیا یہ انھوں نے انجانے میں کہا تھا یا جان کر۔
صحافی بینظیر شاہ نے بھی اس موقع پر ٹویٹ کرتے ہوئے پوچھا کہ کیا وزیر اعظم نے اس ملک کا غلطی سے نام لے لیا ہے، تو جواب میں صحافی عنبر رحیم شمسی نے اپنی رائے کا اظہار کرتے ہوئے لکھا کہ یہ غلطی نہیں تھی، یا جان بوجھ کر کیا گیا ہے۔
گلوکار ہارون شاہد نے بھی اس پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھا کہ ایسی تقاریر کی نشریات میں کچھ سیکنڈز کا وقفہ ہوتا ہے اور یہ ایڈٹ ہو سکتا تھا لیکن کیونکہ ایسا نہیں ہوا۔ ‘بہت شرارتی خان صاحب، بہت شرارتی۔’ ایک اور صارف مہرین لکھتی ہیں کہ وزیر اعظم نے امریکہ کا نام لے لیا۔ ‘جو لوگ امریکی ذہنیت کو سمجھتے ہیں وہ جانتے ہیں کہ امریکہ کسی ایسے ملک پر حملہ نہیں کرے گا جو اپنا دفاع کرنا جانتا ہے۔ امریکی سفارتکار شاید عمران کا امتحان لینا چاہتے تھے تاکہ ان کا رد عمل دیکھ سکیں۔ یہ نہ بھولیں کہ ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی پاکستان کے خلاف ٹویٹ کی تھی لیکن عمران نے ڈٹ کر جواب دیا اور پھر انھی ٹرمپ نے عمران کو وائٹ ہاؤس مدعو کر لیا۔’ ایک اور صارف طحہٰ نے عمران خان کی مسکراہٹ پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھا کہ ’وہ معنی خیز مسکراہٹ۔۔۔ اور پھر لوگ کہتے ہیں کہ عمران خان سیاست کرنا نہیں جانتے۔’ ایک اور صارف اویس نے اس پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھا کہ ‘آسان اردو میں اسے ڈیڑھ ہوشیار کہتے ہیں’ جبکہ صحافی شہریار مرزا نے وزیر اعظم کی اس تقریر پر سوال اٹھایا کہ کیا عمران خان اپنی حکومت بچانے کے لیے پاکستان کی سفارتکاری کو تباہ کرنا چاہتے ہیں؟ ‘انکی تقریر سن کر ایسا نہیں لگتا کہ یہ کوئی ایسا شخص ہے جسے اپنے ملک کے مفاد کی پروا ہو۔’
