کیا عمران واقعی وقت سے پہلے الیکشن کروانا چاہتے ہیں؟


اسلام آباد میں افواہیں گرم ہیں کہ کپتان حکومت وقت سے پہلے عام انتخابات کروانے کے منصوبے پر کام کر رہی ہے اور اسی لیے بڑی اپوزیشن جماعتوں نے بھی ابھی سے الیکشن کے لیے پرتولنا شروع کر دئیے ہیں۔
اگلے الیکشن کے انعقاد میں لگ بھگ دو برس کا عرصہ باقی ہے تاہم نا صرف حزبِ اختلاف کی جماعتیں بلکہ حکمراں جماعت کی چند اہم شخصیات بھی وقت سے پہلے عام انتخابات کے امکانات پر غور کرتی دکھائی دے رہی ہیں۔ وجہ یہ ہے کہ پاکستان میں آج تک کوئی بھی برسر اقتدار حکومت جس نے اپنے پانچ برس پورے کیے ہیں دوبارہ الیکشن نہیں جیت پائی۔ سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ پانچ برس پوری کرنے والی حکومت کے خلاف عوامی لاوہ لازمی پھٹتا ہے اور وہ شکست سے دوچار ہو جاتی ہے لہذا عمران خان پانچ برس پورے کرنے کے بعد الیکشن کروانے کا رسک لینے کے موڈ میں نہیں ہیں۔ تجزیہ کار کہتے ہیں کہ کپتان حکومت اپنے اقتدار کے تیسرے برس ہی نہایت غیر مقبول ہو چکی ہے اور موجودہ فوجی اسٹیبلشمنٹ کے لیے دوبارہ دھاندلی کرکے عمران کو اقتدار میں لانا اب ممکن نہیں ہوگا۔ لہٰذا ضروری ہے کہ پانچ برس مکمل ہونے کا انتظار کیے بغیر 2022 میں الیکشن کروا دیے جائیں۔
دوسری جانب اپوزیشن جماعتوں کو بھی حکومت کے ان ارادوں کی بھنک پڑ چکی ہے اور وہ بھی الیکشن موڈ میں جاتی نظر آتی ہیں۔ حال ہی پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے اپنی جماعت کے کارکنان سے خطاب کرتے ہوئے انتخابات کی تیاری کی ہدایت کی کیونکہ ان کے خیال میں ’انتخابات جلد ہونے جا رہے ہیں۔‘ پی پی پی اور عوامی نیشنل پارٹی کے علاوہ حزبِ اختلاف کی دیگر بڑی جماعتوں نے حال ہی میں اسلام آباد میں پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ کے پلیٹ فارم سے ایک اجلاس منعقد کیا جس میں مسلم لیگ (ن) کے قائد نواز شریف سمیت جماعت کی اعلیٰ قیادت نے شرکت کی۔ اجلاس کے بعد ذرائع ابلاغ کے ساتھ بات چیت میں پی ڈی ایم کی قیادت کی جانب سے روایتی بیانات سامنے آئے لیکن کیا درحقیقت پی ڈی ایم میں بھی وقت سے پہلے انتخابات کی تیاری کے حوالے سے بات چیت ہو رہی ہے اور کیا پی ڈی ایم میں شامل جماعتیں کسی انتخابی اتحاد کے بارے غور کر رہی ہیں؟
سیاسی تجزیہ کار کہتے ہیں کہ موجودہ حکومت کی جانب سے اپنی معیاد پوری ہونے سے پہلے الیکشن کروانے کا بنیادی مقصد اپنا فائدہ ح
کرنا ہو سکتا ہے۔ ان کے خیال میں حکمران جماعت ایک سیاسی حکمتِ عملی کے تحت ایسا کرنا چاہے گی۔ یہ سیاسی حکمتِ عملی اگلے عام انتخابات کے سال یعنی سنہ 2023 میں ممکنہ طور پر پائے جانے والے حالات کے گرد گھومتی ہے۔ ملک کی دو بڑی حزبِ اختلاف کی سیاسی جماعتیں یعنی ن لیگ اور پی پی پی بھی یہ سمجھتی ہیں کہ عام انتخابات وقت سے پہلے ہوں گے اور انھوں نے اس کے لیے تیاریوں کا آغاز بھی کر دیا ہے۔
مسلم لیگ ن کے رہنما رانا ثناءاللہ نے بتایا کہ یہ تاثر درست ہے کہ ان کی جماعت وقت سے پہلے انتخابات کی تیاریاں کر رہی ہے۔ ‘ہمیں باوثوق ذرائع سے یہ معلوم ہوا ہے کہ وزیرِاعظم عمران خان نے بھی اپنی جماعت کو وقت سے پہلے انتخابات کی تیاری کی ہدایات دے دی ہیں۔’ ان کے خیال میں عمران خان کی طرف سے مبینہ طور پر ایسی ہدایات جاری کرنے کی وجہ یہ ہو سکتی ہے کہ ‘انھیں معلوم ہے کہ ملک کے حالات کیسے ہیں، ملک تو ان سے چل نہیں رہا اور ایسے حالات میں اس طرح زیادہ دیر نہیں چلے گا۔’ ان کا کہنا تھا کہ ان کی جماعت اس کے لیے تیار تھی۔ ‘ہم نے ضلعی اور یونین سطح تک تنظیم سازی کا عمل مکمل کر لیا ہے۔ تیاری سے ہماری مراد یہ ہے کہ ہمارے کارکنان متحرک ہیں۔ باقی جو انتخابی معاملات ہیں وہ وقت آنے پر طے کر لیے جائیں گے۔’
دوسری جانب پیپلز پارٹی کے پنجاب اسمبلی کے ممبر اور پارلیمانی لیڈر حسن مرتضٰی نے بھی بتایا کہ ان کی جماعت کے چیئرمین کی طرف سے ہدایات کے بعد ان کی جماعت بھی وقت سے پہلے انتخابات کی تیاری میں مصروف ہے۔ ’ہمارے خیال میں پاکستان میں انتخابات وقت سے پہلے ہوں گے۔ ہمارے چیئرمین نے جو بات کی ہے وہ ایک دور اندیش رہنما کی بات ہے۔ لیڈر وہی ہوتا ہے جو موجودہ صورتحال ہی سے بھانپ لے کہ آگے کیا ہونے جا رہا ہے۔’ ان کا کہنا تھا کہ پیپلز پارٹی ایسی جماعت نہیں ہے جو کسی کے اشاروں میں آئے یا اس کو کسی طرف سے اشارے ملتے ہوں۔ حسن مرتضٰی کے مطابق ان کی جماعت نے وقت سے پہلے انتخابات کے امکانات کے پیشِ نظر سیاسی سرگرمی کا آغاز کر دیا ہے۔
تاہم سوال یہ ہے کہ وقت سے پہلے انتخابات کیوں ہوں گے؟ کہیں ایسا تو نہیں کہ حزبِ اختلاف کی جماعتیں اس بارے میں بات کر کے حکمراں جماعت کو یہ پیغام دینا چاہتی ہیں کہ اگر وہ وقت سے پہلے انتخابات کی طرف گئی تو حزبِ اختلاف بھی تیار ہے؟ تاہم سوال یہ ہے کہ حکمراں جماعت کیوں چاہے گی کہ اپنی بظاہر مستحکم حکومت کو ختم کر کے جلد انتخابات کا راستہ اختیار کرے؟ تجزیہ کار سہیل وڑائچ کے مطابق اسکی وجہ الیکشن کے سال میں پائے جانے والے ممکنہ حالات ہو سکتے ہیں۔
’سیاسی جماعتیں انتخابات کے سال میں ہونے والے ممکنہ حالات پر نظر رکھتی ہیں۔ 2023 میں قاضی فائز عیسٰی سپریم کورٹ کے چیف جسٹس ہوں گے اور موجودہ آرمی چیف بھی معلوم نہیں اس وقت ہوں یا نہ ہوں۔ اس لیے تحریک انصاف چاہے گی کہ اس سے قبل ہی انتخابات ہو جائیں۔‘ قاضی فائز عیسٰی اگدت 2023 میں سپریم کورٹ کے چیف جسٹس بن سکتے ہیں۔ ان سے قبل لگ بھگ 19 ماہ کے لیے یہ عہدہ جسٹس عمر عطا بندیال کے پاس رہے گا۔ سہیل وڑائچ کے مطابق لہازا یہی وہ وقت ہے جس کے دوران موجودہ حکمراں جماعت چاہے گی کہ وہ عام انتخابات کروا لے۔ ‘یہی وجہ ہے کہ حکمراں جماعت کے اندر بھی کچھ لوگوں کو لگتا ہے کہ وقت سے پہلے انتخابات کروانے سے انھیں فائدہ ہو گا۔’
لیکن تجزیہ کار مجیب الرحمٰن شامی کے خیال میں حکمراں جماعت بظاہر ایسا کوئی ارادہ نہیں رکھتی۔ انکا۔کہنا تھا کہ ‘میری تحریکِ انصاف میں جتنے لوگوں سے بات چیت ہوئی ہے، اُن میں سے کوئی بھی اس کا حامی نہیں ہے۔’ ان کے خیال میں اس وقت حالات بھی ایسے نہیں ہیں کہ حکومت کو وقت سے پہلے انتخابات کی طرف جانے کی ضرورت محسوس ہو۔ ‘افغانستان کی صورتحال سے بھی موجودہ حکومت کو کوئی خطرہ نہیں ہے اور اندرونی طور پر بھی اسے بظاہر کوئی خطرہ نظر نہیں آتا۔’ مجیب الرحمٰن شامی کے مطابق حزبِ اختلاف کی جماعتیں محض حکومت پر دباؤ بڑھانے کے لیے اس قسم کے بیانات کا استعمال کر رہی ہیں جن سے یہ بیانیہ بنے کہ حکمراں جماعت وقت سے پہلے انتخابات چاہتی ہے، حالانکہ ایسا ہے نہیں۔
‘اور سیاسی جماعتیں ایسی باتوں سے اپنے انتخابی حلقوں کو متحرک بھی کرتی ہیں کیونکہ عام انتخابات میں اب ویسے بھی کچھ زیادہ وقت نہیں رہ گیا تو تیاری تو انھیں کرنی ہی ہے۔’ لیکن مجیب الرحمٰن شامی کے خیال میں آنے والے انتخابات میں پی ڈی ایم کوئی زیادہ مؤثر کردار ادا نہیں کر پائے گی کیونکہ اس میں شامل سیاسی جماعتیں انفرادی حیثیت میں ایک دوسرے کا مقابلہ کرنے کو ترجیح دیں گی۔ دوسری جانب سہیل وڑائچ سمجھتے ہیں کہ ‘اگر سیاسی جماعتوں کو تحریک انصاف کو انتخابات میں ہرانا ہے تو انھیں کسی نہ کسی قسم کا اتحاد تو بنانا پڑے گا۔ پی ٹی آئی انتخابی حیثیت سے مضبوط ہو رہی ہے حال ہی میں اس نے سیالکوٹ کے ضمنی اور کشمیر کے عام انتخابات جیتے ہیں۔’ سہیل وڑائچ کے خیال میں اس وقت پی ڈی ایم کے اندر جو جماعتیں شامل ہیں ان کے درمیان انتخابی اتحاد ہو سکتا ہے۔
تاہم سوال یہ ہے کہ کیا پیپلز پارٹی بھی اس اتحاد کا حصہ بننے کے لیے واپس پی ڈی ایم میں آ سکتی ہے؟ مجیب الرحمٰن شامی کے مطابق اس کے امکانات بہت کم ہیں۔ ان کے خیال میں پی پی پی اور ن لیگ دونوں کی قیادت یہ سمجھتی ہے کہ دوسری جماعت نے حکمراں جماعت سے گٹھ جوڑ کر لیا ہے۔ تاہم سہیل وڑائچ سمجھتے ہیں کہ پی پی پی کے پی ڈی ایم میں دوبارہ شمولیت یا کسی قسم کے سیاسی اتحاد کا دارومدار اس بات پر ہے کہ ‘پی پی پی کو صوبہ پنجاب میں کیا کچھ ملتا ہے۔ اگر پنجاب میں اسے کچھ نہیں دیا جاتا تو وہ کیوں صوبہ سندھ میں کچھ دینا چاہے گی۔’ یاد رہے کہ صوبہ سندھ میں پیپلز پارٹی کی حکومت ہے جبکہ صوبہ پنجاب میں ن لیگ چند نشستوں کے فرق سے دوسری بڑی جماعت ہے اور پی پی پی کی محض سات نشستیں ہیں۔ سہیل وڑایچ وقت سے پہلے انتخابات کے امکانات کو رد نہیں کرتے تاہم ان کے خیال میں بھی ‘حکمراں جماعت ایسا نہیں کرے گی کیونکہ اس سے پہلے پی پی پی نے اور ن لیگ نے بھی ایسا نہیں کیا کیونکہ اس خدشے کو بھی رد نہیں کیا جاسکتا کہ فوجی اسٹیبلشمینٹ پیچھے ہٹ جائے اور عوام کو حکومت وقت کو ووٹ آوٹ کرنے کا موقع فراہم کر دے۔

Back to top button