کیا عمر اکمل کی سزا معاف ہو جائے گی؟

میچ فکسنگ کے الزامات پر تین سال کی پابندی کا شکار بلے باز عمر اکمل کی سزا کے خلاف اپیل کا فیصلہ 26 مئی کو متوقع ہے لیکن کرکٹ ماہرین کے مطابق پابندی کے خاتمے کا کوئی امکان اس لیے نہیں کہ عمر نے اپنے غلطی تسلیم کرنے اور معافی مانگنے سے صاف انکار کر دیا تھا۔
واضح رہے کہ مسلسل تنازعات کا شکار رہنے والے بلے باز کو پاکستان سپر لیگ کے دوران میچ فکسنگ کی پیش کش کی بروقت اطلاع نہ دینے کے جرم میں تین سال کی پابندی کا سامنا ہے۔ عمر اکمل اپنے کیریئر کو بچانے کے لیے ہاتھ پاؤں مار رہے ہیں اور انھوں نے پی سی بی حکام کے پابندی کے فیصلے کو چینج بھی کر رکھا ہے جسکا فیصلہ 26 مئی کو کرکٹ بورڈ کی ڈسپلنری کمیٹی سنائے گی۔ اپنی اپیل میں عمر اکمل نے سزا معافی کی درخواست کر رکھی ہے۔ عمر اکمل پر عائد کردہ پابندی کے حوالے سے پاکستان کے سابق کپتان رمیز راجہ کا کہنا ہے کہ انہیں ایسے باصلاحیت کھلاڑی کو ضائع ہوتے دیکھ کر بہت تکلیف ہے۔ تاہم کرکٹ میں اس طرح کے برتاؤ کی معافی نہیں مل سکتی اور شائقین کو یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ داغ دار کھلاڑیوں کی جڑیں دراصل پاکستان کرکٹ کو نقصان پہنچا رہی ہوتی ہیں۔ عمر اکمل پر عائد پابندی کے حوالے سے سابق کوچ مکی آرتھر کا کہنا ہے کہ مجھے عمر اکمل جیسے لڑکوں کے لیے افسوس اسلیے نہیں ہوتا کہ یہ لوگ اپنی صلاحیتوں کو خود ضائع کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اپنے کرکٹ کیرئیر کو تباہ کرنے کے عمرخود ذمہ دار ہیں اس لئے انہیں دوسروں پر الزام تراشی کرنے کی بجائے اپنے کیریئر کی تباہی کی ذمہ داری قبول کرنی چاہیے۔’
واضح رہے کہ عمر اکمل کے ٹیسٹ کیریئر کا 2009 میں نیوزی لینڈ میں پہلی سنچری کے ساتھ شاندار آغاز ہوا تھا۔ یہ ایک ایسا کارنامہ تھا جس کی وجہ سے مبصرین انہیں ‘مستقبل کا ستارہ’ قرار دے رہے تھے لیکن جلد ہی نظم و ضبط کی خلاف ورزیوں نے ان کے کیریئر پر بد نما دھبے لگا دیے۔ ان کے دو بھائی کامران اور عدنان بھی پاکستان کی طرف سے کھیلے لیکن وہ کبھی تنازعات کا شکار نہیں ہوئے۔
بین الاقوامی سطح پر پہلی بار کھیلنے کے چند ماہ بعد عمر اکمل مبینہ طور پر اپنے بھائی کو ڈراپ کیے جانے پر انجری کا بہانہ کرتے ہوئے آسٹریلیا کے خلاف ٹیسٹ سے دستبردار ہو گئے۔چھ ماہ کے مقدمے کی سماعت کے بعد ان پر جرمانہ عائد کیا گیا تھا۔ یہاں تک کہ پاکستان کے کامیاب ٹیسٹ کپتان مصباح الحق بھی عمر کو کنٹرول کرنے میں ناکام رہے۔ زمبابوے میں 2011 کے ٹیسٹ میں غیر ذمہ دارانہ شاٹ کے بعد انہوں نے پھر کبھی عمر کو طویل فارمیٹ کے لیے منتخب نہیں کیا۔ 2012 میں عمر اکمل پر سری لنکا میں ہونے والے ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کے دوران امپائروں سے ہاتھا پائی کرنے پر جرمانہ کیا گیا۔
میدان سے باہر بھی تنازعات نے ان کا پیچھا نہیں چھوڑا۔ 2014 میں انہیں اپنے آبائی شہر لاہور میں ٹریفک وارڈن کے ساتھ جھگڑا کرنے کے الزام میں گرفتار کیا گیا۔رات گئے تک جشن منانے کے لیے وہ بار بار اخباروں کی سرخیاں بنتے رہے اور جرمانے اور سرزنشیں سمیٹتے رہے۔اس دوران ایک درجن سے زائد کپتانوں اور کوچز نے عمر کو ٹریک پر رکھنے کی کوششیں کی لیکن سب بے سود رہیں۔
یاد رہے کہ 20 فروری 2020 کو پاکستان سپر لیگ کے آغاز کے موقع پر پاکستان کرکٹ بورڈ نے عمراکمل کو میچ فلسنگ الزامات پر عبوری طور پر معطل کیا تھا اور بعدازاں ان پر تین برس کی پابندی عائد کردی گئی۔
