کیا غنوی بھٹو کا بیٹا ذوالفقارجونئیر ہم جنس پرست ہے؟

مردانگی نزاکت ہے، نسوانیت ہے اور نرم بھی ہو سکتی ہے۔ یہ زرین خیالات ہیں میر مرتضی بھٹو اور غنویٰ بھٹو کے صاحبزادے ذوالفقار علی بھٹو جونیئر کے۔ پاکستانیوں کی اکثریت کے خیال میں سابق وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو کے پوتے ذوالفقار علی بھٹو جونیئر نے گذشتہ چند برسوں کے دوران جو حرکتیں کی ہیں، ان کے ذریعے بھٹو جونیئر نے اپنے ہم جنس پرست ہونے کا اعلان کر دیا ہے۔ تاہم دوسری جانب بہت سے لوگوں کا یہ بھی خیال ہے کہ ذوالفقار جونیئر ایک فنکار ہیں اور ماضی کی طرح اب بھی چیلنجنگ اور مشکل موضوعات کو اپنے فن کا موضوع بناتے ہیں لہٰذا ان کے آرٹ کو ان کی جنسی شناخت کا ذریعہ نہیں سمجھنا چاہیے۔
ذوالفقار جونیئر کے نزدیک تاریخ بہت اہم ہے کیونکہ ہم جو آج بنا رہے ہیں، وہ کل کی بنیاد پر ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ میں نے اپنا بچپن بہت پرامن طریقے سے گزارا مگر تشدد ہر جگہ ہے۔ اپنے ایک انٹرویو میں انہوں نے کہا تھا کہ میرے والد میر مرتضیٰ بھٹو کو کراچی میں ہمارے گھر کے سامنے قتل کر دیا گیا تھا، میں اس وقت چھ برس کا تھا۔ میرے دادا کو بھی قتل کیا گیا تھا۔ میری پھوپھی بینظیر بھٹو کو بھی قتل کیا گیا، میرے چچا شاہنواز بھٹو کو بھی قتل کیا گیا۔ جب میرے تمام خاندان کو قتل کیا گیا تو میری شناخت بھی تشدد کے ذریعے بنی، طاقت کے ذریعے بنی۔
شاید یہی وجہ ہے کہ بھٹو جونئیر سیاست میں آنے سے واضح انکار کر چکے ہیں، وہ کہتے ہیں کہ ہمارے خاندان کی سیاسی شخصیات کو چن چن کر قتل کیا گیا اور مجھے مرنے کا کوئی شوق نہیں۔ جونیئر بھٹو کو کوئی پرواہ نہیں کہ لوگ ان کے بارے میں کیا سوچتے ہیں، وہ اپنے جنسی نظریات پر کھل کر بات کرتے ہیں۔ وہ جب بھی اپنی کوئی ویڈیو بناتے ہیں تو ابتداء کچھ اس طرح سے کرتے ہیں۔ ہائے! میں ذوالفقار علی بھٹو جونئیر ہوں۔ میں ایک جنوبی ایشیائی فنکار ہوں جس میں لبنانی اور پاکستانی خون شامل ہے اور میں ’کوئیر‘ موضوع پر کام کر رہا ہوں۔ خیال رہے کہ انگریزی لفظ کوئیر کا مطلب ایسا مرد ہے جو بیک وقت جنسی رجحانات میں مخالف اور ہم جنس دونوں میں دلچسپی رکھتا ہو۔ ذوالفقار خود کو پراوڈ کوئیر مسلم کہتے ہیں۔ جونیئر بھٹو کی کئی ایسی ویڈیوز موجود ہیں جن میں انھوں نے ایک ڈریگ یا مخنث کا روپ دھارا ہوتا ہے۔ ذوالفقار نے چند سال قبل ایک ویڈیو کے آغاز میں اپنا تعارف کروایا تو یہ ویڈیو اور اس میں کی گئی باتیں سوشل میڈیا پر موضوع ِ بحث بن گئیں اعر ان کی ذات اور ان کے جنسی رجحانات کے حوالے سے طرح طرح کے تبصرے کیے گئے۔
دراصل آجکل ذوالفقار جونیئر ‘ٹرمیرک پراجیکٹ’ کے تحت ‘مسلمان مسل مین’ یعنی مسلمان اور مردانگی کے عنوان پر ایک تعلیمی پراجیکٹ پر کام کر رہے ہیں جس کے ذریعے وہ پاکستان میں مردانگی کے بارے میں تصورات کو فن کے ذریعے سمجھنے اور سمجھانے کی کوشش میں ہیں۔ مگر اس پراجیکٹ اور اس کا مقصد کسی کے ذہن میں نہیں بلکہ بحث کا موضوع ان کے کپڑے، ناخنوں پر لگی نیل پالش اور انٹرویو کے دوران کشیدہ کاری کے مناظر ہیں۔ ذوالفقار علی بھٹو جونیئرکے مطابق ان کا مقصد ہی یہی ہے کہ چونکہ ایک کوئیر مسلمان کے موضوع پر کام کرنا بہت مشکل ہے۔ کون سنتا ہے؟ انہیں بالکل پروا نہیں ہے۔ نہ ہی وہ دلچسپی رکھتے ہیں۔ مگر جب آپ اس میں مزاح ڈالتے ہیں تو وہ اپنے خیالات پر نظر ڈالتے ہیں اور سوچنے پر مجبور ہوتے ہیں۔ اور پھر آپ سٹیریو ٹائپس پر بات کرنا شروع کرتے ہیں۔ اوہ! یہ تو کوئیر مسلمان ہے اور یہ مخنث کا روپ دھار کر اس بارے میں پرفارم کر رہا ہے۔ اس سے لوگ دلچسپی لینا شروع کرتے ہیں اور آپ اس طرح اپنے دیکھنے والوں کو رِجھا رہے ہوتے ہیں۔
پاکستان میں اب تک پیدائشی مردانہ اور زنانہ خصوصیات کے افراد کو قبول نہیں کیا گیا ہے، اس پر ہم جنس پرستوں، آدھا مرد آدھی عورت اور اب کوئیر کی چومکھی بحث مسائل کو صرف بڑھا سکتی ہے۔ تاہم من موجی طبیعت کے مالک ذوالفقار جونیئر مردانگی کے بارے میں جنوبی ایشیاء میں پائے جانے والے تصورات سے متفق نہیں اور کہتے ہیں کہ پاکستان یا ایسی بہت سی ریاستیں جو قومیت کے نظریے پر بنی ہیں وہاں ایسا تصور قائم کیا گیا ہے ریاست کا نمائندہ ایک طاقتور مرد ہے لیکن یہ احمقانہ تصور ہے۔ وہ بتاتے ہیں کہ انکے نزدیک مردانگی کیا ہے؟ مردانگی نزاکت ہے، نسوانیت ہے اور یہ نرم بھی ہو سکتی ہے۔
