کیا فضل الرحمان کے ساتھ دوبارہ ہاتھ ہونے جارہا ہے؟

اکتوبر 2019 میں اسلام آباد میں دھرنا دینے والے مولانا فضل الرحمن کے ساتھ تب ہاتھ ہو گیا تھا جب اپوزیشن کی دو بڑی جماعتیں پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ان کا ساتھ چھوڑ گئیں اور مجبور انہیں گجرات کے چوہدریوں کے ساتھ فیس سیونگ کے لیے ایک معاہدہ کر کے دھرنے سے اٹھنا پڑا. لیکن پھر ایک برس بعد انہی دونوں اپوزیشن جماعتوں نے دوبارہ مولانا فضل الرحمن کو یقین دہانیاں کروا کر اس بات پر آمادہ کر لیا کہ اس مرتبہ وہ حکومت گرانے کے لیے سنجیدہ ہیں اور لانگ مارچ کے بعد اسمبلیوں سے استعفے دینے کو بھی تیار ہیں۔ چنانچہ اپوزیشن اتحاد نے وزیراعظم عمران خان کو 31 جنوری تک اپنے عہدے سے استعفی دینے کی ڈیڈ لائن دے دی جس کے بعد اسلام آباد کی طرف لانگ مارچ اور پھر اسمبلیوں سے استعفوں کا اعلان ہونا تھا۔ تاہم 31 جنوری گزر چکی ہے لیکن ابھی تک نہ تو لانگ مارچ کی تاریخ کا اعلان کیا گیا ہے اور نہ ہی استعفوں کے حوالے سے کوئی فیصلہ ہوتا نظر آتا ہے۔ ان حالات میں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا مولانا فضل الرحمن کے ساتھ ان کی اتحادی جماعتوں نے ایک مرتبہ پھر ہاتھ کردیا ہے۔
موجودہ صورتحال مولانا فضل الرحمن کے لیے سب سے زیادہ پریشان کن ہے جنہوں نے پی ڈی ایم کے پلیٹ فارم سے وزیراعظم کو 31 جنوری کی ڈیڈ لائن دی تھی جس کے بعد اپوزیشن نے لانگ مارچ شروع کرنا تھا۔ یکم فروری کا سورج طلوع ہوتے ہی سوشل میڈیا پر مولانا فضل الرحمان اور پی ڈی ایم کے خلاف طنزیہ پوسٹیں، جگت نما سٹیٹس اور مزاحیہ میمز نظر آنا شروع ہوگئیں، ان تمام میں ایک نکتہ مشترک تھا کہ پی ڈی ایم نے حکومت کو 31 جنوری کی جو ڈیڈلائن دی ہے، وہ گزر گئی مگر اپوزیشن اپنے انتشار پر قابو پا کر کوئی متفقہ لائحہ عمل نہ بنا سکی۔ دوسری طرف لوگوں نے مولانا فضل الرحمٰن کو ٹی وی سکرین پر اپنی فیس سیونگ کے لیے یہ کہتے بھی دیکھا کہ ’ہماری لڑائی اسٹیبلشمنٹ سے نہیں بلکہ حکومت سے ہے۔‘ مولانا فضل الرحمٰن کا یہ بیان اس لیے حیران کن تھا کہ ابھی چند دن پہلے تک وہ اور ان کے اتحادی بار بار یہ کہتے رہے ’ہماری اصل لڑائی حکومت سے نہیں بلکہ انہیں لانے والوں سے ہے۔ یہ حکومت تو کٹھ پُتلی ہے، اس کی کوئی حیثیت نہیں اور ہم اسے لانے والوں کے خلاف احتجاج کر رہے ہیں۔‘ مولانا نے چند ہفتے پہلے ایک اور چونکا دینے والا بیان بھی دیا تھا کہ ’ہم فیصلہ کریں گے کہ ہمارا لانگ مارچ پنڈی کی طرف ہو گا یا اسلام آباد کی جانب۔ ظاہر ہے اس میں یہ واضح اشارہ موجود تھا کہ وہ اور ان کے اتحادی جی ایچ کیو کے باہر جمع ہو کر احتجاج کرنے کی دھمکی دے رہے ہیں۔
سوال یہ ہے کہ اب اچانک ایسا کیا ہوگیا کہ مولانا نے اپنا پورا موقف ہی تبدیل کر لیا۔ عمران خان جسے وہ کمزور اور کٹھ پتلی کہتے تھے، ان کے خیال میں جس کی کوئی حیثیت ہی نہیں، اب وہ ان کا ہدف کیسے بن گیا؟ سیاسی تجزیہ کار کہتے ہیں کہ دراصل مولانا فضل الرحمان سے اندازے کی ایک اور سنگین غلطی ہوگئی۔ بدقسمتی سے یہ پہلی غلطی نہیں۔ جولائی 2018 کے الیکشن میں شکست کے بعد مولانا فضل الرحمٰن نے پہلی غلطی یہ کہ پوائنٹ آف نو ریٹرن پر چلے گئے۔ انہوں نے نہایت جارحانہ انداز میں اسمبلی کا پہلا اجلاس نہ ہونے کی دھمکی دی اور کہا کہ ہم حکومت نہیں چلنے دیں گے۔ لیخن مولانا کے کہنے کا کسی پر اثر نہیں ہوا۔ مسلم لیگ ن، پیپلزپارٹی اور دیگر اپوزیشن جماعتوں نے نومنتخب اسمبلی کے پہلے سیشن میں شرکت کی اور یوں نئی حکومت کو پریشان کرنے کی مولانا کی پلاننگ ابتدا ہی میں ناکام ہوگئی۔
تجزیہ کاروں کے مطابق مولانا سے دوسری غلطی یہ ہوئی کہ مناسب ہوم ورک اور حالات کے سنجیدہ تجزیے کے بغیر ہی انہوں نے اکتوبر 2019 میں آزادی مارچ اور اسلام آباد میں دھرنا دینے کا فیصلہ کر لیا۔ پیپلزپارٹی انہیں اس وقت بھی روکتی رہی، جبکہ نون لیگ نے بھی کچھ زیادہ جوش نہیں دکھایا۔ لیکن مولانا کے پاس نہ جانے کیا اطلاعات آئی تھیں کہ انہوں نے آﺅ دیکھا نہ تاﺅ، ملک بھر سے اپنے ہمدردوں اور کارکنوں کو اکٹھا کیا اور اسلام آباد پر چڑھ دوڑے۔ اب یا تو ان کے پاس اطلاع درست نہیں تھی یا انہیں دھوکہ دیا گیا۔ نتیجہ یہ نکلا کہ انہیں کہیں سے موثر سپورٹ نہ مل سکی۔ پھر مولانا کو پتہ چلا کہ نواز شریف تو علاج کے لئے بیرون ملک جانے کی تیاری میں ہیں۔
مولانا کے اسلام آباد دھرنے میں اپوزیشن لیڈروں نے علامتی شمولیت تو کی مگر انکے دھرنے میں بڑی جماعتوں نے ساتھ نہ دیا۔ اے این پی نے البتہ اسے عوام رابطہ مہم کا حصہ سمجھتے ہوئے اپنے کارکنوں کو موبلائز کر ڈالا۔ مولانا کے پاس کوئی اور آپشن نہیں بچا تھا۔ وہ اسلام آباد چند دن تک پڑے رہے، مگر حکومت نے تدبر سے کام لیتے ہوئے کسی بھی قسم کی اشتعال انگیزی سے گریز کیا۔ حکومت نے مولانا کو فیس سیونگ کا موقعہ بھی نہیں دیا، ان کے ساتھ کسی بھی قسم کا معاہدہ نہیں کیا گیا۔ اسلام آباد میں بارشیں شروع ہو گئیں، سردی بڑھنے لگی۔ مجبور ہوکر مولانا کو گجرات کے چوہدریوں کے ساتھ ایک ملاقات کے بعد اپنا دھرنا اور مارچ ختم کرنے کا اعلان کرنا پڑا۔ اس موقع پر انہوں نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ معاملہ ہو چکے ہیں اور حکومت جلد ختم ہو جائے گی۔
اسلام آباد دھرنا ختم کرنے کے بعد مولانا نے پلان بی، اور سی کا ذکر بھی کیا، مگر دو چار دن میں یہ تمام پلان اپنی موت آپ مر گئے، اور مولانا کے حصے میں صرف ناکامی آئی۔
سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق مولانا کی تیسری بڑی غلطی اپوزیشن کے اتحاد پی ڈی ایم کی ہائپ اور رفتار ضرورت سے زیادہ تیز رکھنا ہے۔ ناقدین کہتے ہیں کہ دراصل عام انتخابات میں دھاندلی کی وجہ سے علی امین گندا پور جیسے شخص سے شکست کھا جانے کے بعد مولانا اتنے اشتعال میں ہیں کہ اپنی روایتی سیاسی فراست، ہوشیاری اور توازن کھو بیٹھے۔ مسکراتے ہوئے صحافیوں کے جواب دینا ان کا وطیرہ تھا۔ اب ایک دو سوالات کے بعد ہی وہ چڑ جاتے ہیں اور جھنجھلاہٹ لہجے میں اتر آتی ہے۔ ان کی عمران خان حکومت سے نجات پانے کی خواہش اتنی شدید ہے کہ مولانا معروضی حقائق اور زمینی حالات کا اندازہ بھی نہیں کر پا رہے۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ مولانا کو یہ بات سمجھنا چاہیے تھی کہ پاکستان میں سول حکومت اور اسٹیبلشمنٹ کو بیک وقت نشانہ نہیں بنانا چاہیے کیون کہ ایسی کوئی بھی کوشش حکومت اور اسٹیبلشمنٹ کو ایک ہی پیج پر کھڑا کر دیتی ہے۔ لیکن مولانا اور ان کے اتحادیوں نے یہی غلطی کی۔ مولانا اگر چاہتے تو وہ فوجی قیادت پر نوازشریف کے ضرورت سے زیادہ جارحانہ حملوں کو نرم کر سکتے تھے۔ لیکن انہوں نے ایسا نہیں کیا بلکہ خود بھی ریس پر پاوں رکھ دیا۔ ناقدین کہتے ہیں کہ پی ڈی ایم قیادت نے اپنے پہلے جلسے میں فوجی قیادت پر تنقید کرتے ہوئے جس انتہا کو چھو لیا، وہاں تک سیاسی مہم کے اختتام تک جانا چاہیے تھا۔
ابتدا ہی میں اتنی جارحیت کا نتیجہ یہ ہوا کہ اپوزیشن کی حکمتِ عملی میں سرپرائز کا عنصر ختم ہوگیا۔ ہر ایک کو اندازہ ہوگیا تھا کہ اگلے جلسے میں کیا کچھ کہا جائے گا۔ جب یہ معلوم ہو کہ کیا بولا جائے گا، تب جلسہ سننے صرف پارٹی کارکن ہی جائیں گے، عوامی حلقے نہیں۔
سیاسی تجزیہ کار کہتے ہیں کہ مولانا کا شاید خیال تھا کہ عوامی سطح پر اگر اپوزیشن لیڈران جرنیلوں کا نام لیں گے تو فوج میں اندرونی دباﺅ پیدا ہوگا اور مقتدر حلقے پریشان ہو کر وزیراعظم عمران خان سے جان چھڑانے اور اپوزیشن کو اکاموڈیٹ کرنے کی کوشش کریں گے۔ تاہم ایسا نہ ہو سکا جس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ اس وقت پاکستانی فوجی اور انٹیلیجنس اسٹیبلشمنٹ میں بھی دراڑ کی خبریں آ رہی ہیں اور ملکی سیاست گھمانے والے آئی ایس آئی کے موجودہ سربراہ لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید ڈٹ کر وزیراعظم عمران خان کے ساتھ کھڑے ہیں۔ لہذا ان حالات میں اگر فوجی قیادت اپوزیشن کے ساتھ کوئی ڈیل کرنا بھی چاہے تو کامیاب نہیں ہوگی۔ اور پچھلے چند ماہ میں کچھ ایسا ہی دیکھنے میں آیا ہے۔ یعنی آرمی چیف کی جانب سے جب بھی اپوزیشن کو گڈ ویل کا کوئہ پیغام دیا گیا، کوئی نہ کوئی ایسا واقعہ رونما ہوگیا جس نے اپوزیشن اور فوجی قیادت کے مابین خلیج کو اور بھی وسیع کردیا۔ کراچی میں مریم نواز کے ہوٹل کے کمرے کا دروازہ توڑنا بھی ایسا ہیں ایک واقعہ تھا جس کی آرمی چیف نے انکوائری کروائی اور آئی ایس آئی کے سیکٹر کمانڈر کو فارغ کر دیا۔
سیاسی تجزیہ کار سوال کرتے ہیں کہ موجودہ حالات میں اسٹیبلشمنٹ ایک ایسے وزیر اعظم کو ہٹا کر اپوزیشن کو اقتدار کیوں دیں گے جو ان کی ہاں میں ہاں ملاتا ہے اور نہ میں نہ ملاتا ہے۔ سوال یہ بھی یے کہ ایک برخوردار قسم کے وزیر اعظم کی جگہ اسٹیبلشمنٹ اس اپوزیشن اتحاد کو کیدے قبول کیسے کرے گی، جس کے جلسوں میں فوجی قیادت کا نام لے کر تنقید کی جاتی ہو؟
لہذا ان حالات میں تو یہی محسوس ہو رہا ہے کہ مولانا فضل الرحمٰن ایک اور سیاسی بازی ہارنے جا رہے ہیں۔ پچھلی بار انہوں نے مارچ اور دھرنے کا ایڈونچر کیا، مگر ناکام رہے۔ لیکن اس مرتبہ تو وہ مارچ اور دھرنے تک بھی نہیں پہنچے، اور اپوزیشن اتحاد کے غبارے سے ہوا نکل گئی۔ اب مولانا اور ان کے ساتھیوں کے لیے اصل مسئلہ اب بھرم بچانا ہے اور وہ اسی صورت میں بچ پائے گا اگر وہ اپنے دو بڑے اتحادیوں کو ساتھ رکھ کر پی ڈی ایم اتحاد کو بچا لیتے ہیں۔
