کیا فوجی عدالت سویلینز کا کورٹ مارشل کر سکتی ہے؟

پاکستانی تاریخ میں پہلی مرتبہ سپریم کورٹ یہ فیصلہ کرنے جا رہی ہے کہ کیا فوجی عدالتیں سویلینز کا کورٹ مارشل کر سکتی ہیں یا نہیں؟ یہ فیصلہ سپریم کورٹ چند ماہ قبل ایجنسیوں کے ہاتھوں اغوا ہونے والے کرنل ریٹائرڈ انعام الرحیم کے کیس میں کرنے جا رہی ہے۔
سپریم کورٹ نے کرنل ریٹائرڈ انعام الرحیم کو رہا کردیا تھا جس کے بعد حکومت نے اس فیصلے کو چیلنج کیا۔ کرنل انعام رحیم کی رہائی کیخلاف حکومتی درخواست کی سماعت کے دوران سپریم کورٹ پہلے ہی قرار دے چکی ہے کہ انعام کا کورٹ مارشل اس لئے نہیں ہو سکتا کہ ایسا کرنا سپریم کورٹ کے فیصلوں کی خلاف ورزی ہوگا کیونکہ سپریم کورٹ پہلے ہی کہہ چکی ہے کہ کسی سویلین کا فوجی عدالت کے ہاتھوں کورٹ مارشل نہیں ہو سکتا اور سویلین کے کورٹ مارشل کےلیے آئینی ترمیم درکار ہوگی۔
یاد رہے کہ کرنل انعام رحیم کو 17 دسمبر 2019 کو ایک خفیہ ایجنسی نے راولپنڈی میں ان کے گھر سے اغوا کیا تھا۔ بعد ازاں سپریم کورٹ میں ریاست پاکستان نے یہ الزام لگایا کہ کرنل رحیم دشمن ایجنسیوں کے لیے کام کر رہے تھے اور ان کے لیپ ٹاپ سے ملک کے اہم ترین جوہری راز برآمد ہوئے ہیں. چنانچہ انکا کورٹ مارشل کیا جائے گا۔ تاہم بعد ازاں ریاست انکے خلاف کوئی ثبوت سامنے لانے میں ناکام رہی اور یہ بھی انکشاف ہوا کہ کرنل رحیم کا لیپ ٹاپ تو پاس ورڈ نہ ہونے کی وجہ سے کھل ہی نہیں پایا تھا۔ چنانچہ عدالت نے ان کو ضمانت پر رہا کر دیا جس کو حکومت نے چیلنج کر رکھا ہے۔
تاہم اب سپریم کورٹ نے اعلان کیا ہے کہ وہ فیصلہ کرے گی کہ کیا ملٹری کورٹس سویلینز کا ٹرائل کر سکتی ہیں یا نہیں۔
یاد رہے کہ قبل ازیں 4 مارچ 2020 کے روز کرنل انعام رحیم کی رہائی کیخلاف دائر حکومتی درخواست کی سماعت کے دوران سپریم کورٹ کے جسٹس منیب اختر نے ریمارکس دئیے تھے کہ سول نوعیت کے جرم پر فوجی افسران کا بھی کورٹ مارشل نہیں ہوسکتا اور یہ کہ انعام الرحیم کا کورٹ مارشل سپریم کورٹ کے فیصلوں کی خلاف ورزی ہوگا۔ ان کا کہنا تھا کہ سویلین کے کورٹ مارشل کے لیے آئینی ترمیم درکار ہوگی،
دوسری طرف لاہور ہائی کورٹ کی جانب سے کرنل (ر) انعام الرحیم کی حراست کو غیر قانونی قرار دینے کے خلاف حکومتی اپیل کی سپریم کورٹ میں سماعت سے ایک روز قبل کرنل ریٹائرڈ انعام رحیم نے سپریم کورٹ میں جمع کرائے گئے بیان حلفی میں کہا ہے کہ آفیشل سیکڑیٹ ایکٹ 1923 کے تحت عسکری حکام کسی سویلین شہری کو صرف اس وقت گرفتار کرسکتے ہیں جب وہ ممنوعہ فوجی علاقے میں موجود ہو۔ ان کا کہنا ہے کہ انکو گزشتہ برس 17 دسمبر کو کسی ممنوعہ علاقے سے نہیں بلکہ زبردستی ان کی رہائش گاہ سے اٹھایا گیا۔ لہذا عسکری حکام کا یہ اقدام آفیشل سیکریٹ ایکٹ 1923 کے سیکشن 12 کی خلاف ورزی ہے۔ کرنل انعام الرحیم کا کہنا ہے کہ ان کی غیر قانونی حراست کے تمام 37 دنوں کے دوران انہیں کوئی چارج شیٹ، الزامات کی تفصیلات یا وہ وجوہات فراہم نہیں کی گئیں جس کی بنیاد پر انہیں حراست میں لیا گیا تھا۔ انہیں حراست کے دوران کوئی مواد یا کوئی وارنٹ نہیں دیا گیا اور نہ ہی کوئی چارج شیٹ یا مواد لاہور ہائی کورٹ میں پیش کیا گیا۔ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ وزارت دفاع نے 2 جنوری کو لاہور ہائی کورٹ میں سماعت کے دوران یہ بات تسلیم کی تھی کہ ریٹائرڈ کرنل ان کی حراست میں ہیں لیکن وزارت کی جانب سے یہ تفصیلات نہیں بتائی گئیں کہ انہیں کس الزام کےتحت حراست میں لیا گیا تھا۔
خیال رہے کہ ایڈووکیٹ انعام الرحیم نے اپنی گرفتاری سے پہلے لاپتہ افراد کی بازیابی اور مسلح افواج کے انتظامی احکامات کے خلاف متعدد درخواستیں عدالتوں میں دائر کر رکھی تھیں۔ اس کے علاوہ وہ جنرل ہیڈ کوارٹرز راولپنڈی پر حملے کے کیس اور نیوی افسران کے کورٹ مارشل کے کیس میں بھی وکیل تھے جس وجہ سے انکو دشمن کا ایجنٹ قرار دے کر گرفتار کرلیا گیا لیکن بعد میں ریاست عدالت میں اپنا کیس ثابت نہ کر پائی۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button