کیا فوج ہائوسنگ سوسائٹی سکینڈل میں جنرل فیض کا احتساب کرے پائے گی؟

سپریم کورٹ کے حکم پر قائم فیض آباد دھرنا کمیشن کی جانب سے کلین چٹ ملنے کے بعد اب پاک فوج نے خود زمینوں پر قبضے اور لوٹ مار کے الزامات پر سابق ڈی جی آئی ایس آئی جنرل فیض حمید کے خلاف انکوائری کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ سینئر صحافی عبدالقیوم صدیقی کی ایک رپورٹ کے مطابق پاک فوج نے خود احتسابی کا سلسلہ شروع کرتے ہوئے اسلام آباد ائیرپورٹ کے قریب بڑی نجی ہاؤسنگ سوسائٹی کے معاملے پر کمیٹی بنادی ہے جس کے سربراہی حاضر سروس میجر جنرل کریں گے۔
خیال رہے کہ اس حوالے سے درخواست گزار نے موقف اپنایا تھا کہ سابق ڈی جی آئی ایس آئی لیفٹیننٹ جنرل (ر) فیض حمید کی ہدایت پر خفیہ ادارے کے اہلکاروں نے رینجرز کے ساتھ مل کر ٹاپ سٹی ہاؤسنگ سوسائٹی کے مالک کے گھر پر چھاپہ مارا، چھاپے کے دوران نہ صرف بھاری رقم لوٹی بلکہ ہاؤسنگ سوسائٹی اپنے نامزد نمائندے کو منتقل کرنے کیلئے بھی دباؤ ڈالا جبکہ سوسائٹی مالک کےاہل خانہ پر دباؤ ڈالنے کیلئے جھوٹے مقدمات بھی دائر کئے۔
ذرائع کے مطابق ٹاپ سٹی ہاؤسنگ سوسائٹی کے مالک کنور معیذ نے گزشتہ سال نومبر میں فوج کے سابق اعلی عہدے پر فائز اہلکاروں کے خلاف سپریم کورٹ میں داد رسی کے لیے آئین کے آرٹیکل 184/3کے تحت آئینی درخواست دائر کی تھی جس میں خفیہ ادارے کے سابق سربراہ جنرل فیض حمید سمیت چھ افراد کو فریق مقدمہ بنایا گیا تھا۔11نومبر 2023ء کو چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی سربراہی میں جسٹس امین الدین خان اور جسٹس اطہر من اللّٰہ پر مشتمل بنچ نے کیس کی سماعت کی تھی۔نجی ہاؤسنگ سوسائٹی کے وکیل نے عدالت میں موقف اختیار کیا تھا کہ جنرل فیض حمید کی ہدایت پر خفیہ ادارے کے اہلکاروں نے اس کے خلاف جرائم کا ارتکاب کیا، خفیہ ادارے کے اہلکاروں نے رینجرز کے ساتھ کنور معیز کے گھر اور دفتر پر چھاپہ مارا درخواست گزار اور اہل خانہ کو حراست میں رکھا زیورات اور بھاری رقم لوٹ لی، ہاؤسنگ سوسائٹی اپنے نامزد نمائندے کو منتقل کرنے کے لیے دباؤ ڈالا اور درخواستگزار اور اس کے اہل خانہ پر دباؤ ڈالنے کے لیے ان کیخلاف جھوٹے مقدمات دائر کئے۔
درخواست میں مزید کہا گیا کہ لیفٹیننٹ جنرل (ر) فیض حمید کے بھائی سردار نجف نے ثالثی کی اور مسئلہ حل کرنے کی کوشش کی، بریت کے بعد جنرل (ر) فیض حمید نے معیز خان سے ان کے کزن کے ذریعے ملاقات کا بندوبست کرنے کے لیے رابطہ کیا جوکہ فوج میں ایک بریگیڈیئر ہیں۔درخواست میں دعویٰ کیا گیا کہ ملاقات کے دوران جنرل (ر) فیض حمید نے درخواست گزار کو کہا کہ وہ چھاپے کے دوران چھینا گیا 400 تولہ سونا اور نقدی کے سوا کچھ چیزیں واپس کردیں گے۔درخواست میں کہا گیا کہ آئی ایس آئی کے ریٹائرڈ بریگیڈیئر نعیم فخر اور ریٹائرڈ بریگیڈیئر غفار نے مبینہ طور پر درخواست گزار کو 4 کروڑ نقد ادا کرنے اور کچھ مہینوں کے لیے ایک نجی چینل ’آپ ٹی وی نیٹ ورک‘ کو اسپانسر کرنے پر مجبور کیا۔درخواست کے مطابق آئی ایس آئی کے سابق عہدیدار ارتضیٰ ہارون، سردار نجف، وسیم تابش، زاہد محمود ملک اور محمد منیر بھی ہاؤسنگ سوسائٹی کے غیر قانونی قبضے میں ملوث تھے۔
دوران سماعت ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے کہا کہ درخواست گزار کے پاس اپنی شکایت کے ازالہ کے لیے دیگر قانونی راستے موجود ہیں تاہم درخواست گزار کوخدشہ ہے کہ چونکہ متعلقہ اہلکاروں کا تعلق فوج سے ہے اس لئے کوئی داد رسی نہیں کرے گا جس پر اٹارنی جنرل نے عدالت کو یقین دہانی کرائی کہ اگر کنور معیز وزارت دفاع کو درخواست دے گا تو اس پر قانون کے مطابق کارروائی کی جائے گی اس یقین دہانی پر عدالت نے ازخود نوٹس نمٹا دیا تھا۔ سماعت کے جاری تحریری حکمنامے میں سپریم کورٹ کا کہنا تھا کہ آئی ایس آئی کے سابق سربراہ لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ فیض حمید کے خلاف انتہائی سنگین نوعیت کے الزامات کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا کیونکہ اگر یہ الزامات درست ثابت ہو گئے تو تو بلاشبہ وفاقی حکومت، مسلح افواج، آئی ایس آئی اور پاکستان رینجرز کی ساکھ کو نقصان پہنچائیں گے۔عدالت نے پٹیشن کو نمٹاتے ہوئے کہا کہ اگر درخواست گزار وزارت دفاع کو کوئی شکایت پیش کرتا ہے تو اس سے قانون کے مطابق نمٹا جائے گا۔
ذرائع کے مطابق کیس کی سماعت کے بعد جنوری 2014 میں کنور معیز نے وزارت دفاع سے رجوع کیا جس پر کارروائی کرتے ہوئے میجر جنرل کی سربراہی میں انکوائری کمیٹی تشکیل دے دی گئی ہے۔ جو اپنی تحقیقات مکمل کر کے متعلقہ حکام کو رپورٹ کرے گی۔
