کیا فیض حمید کے جانے سے لیگی اقتدار کا راستہ ہموار ہو گیا؟


معروف صحافی اور تجزیہ کار نجم سیٹھی نے کہا ہے کہ لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید کی آئی ایس آئی سے رخصتی پر نواز شریف اور مریم نواز کی خوشی قابل فہم ہے لیکن ابھی یہ نہیں کہا جاسکتا کہ اُن کا وزیر اعظم ہاؤس تک کا راستہ صاف ہوگیا ہے اور وہ جب چاہیں عمران خان کا تختہ الٹ سکتے ہیں۔ تاہم مسلم لیگ ن کے لیے اقتدار حاصل کرنے کے لیے درکار حالات اب سازگار ہو سکتے ہیں۔ اگر عوامی سطح پر یہ مذید تاثر تقویت پکڑ گیا کہ اب اسٹیبلشمنٹ عمران خان کو تحفظ دینے اور ہر قیمت پر بچانے کے ارادے سے پھر چکی ہے تو بڑی تعداد میں تحریک انصاف کے اراکین اسمبلی یہ اشارہ پڑھ لیں گے جس کے بعد حکومتی شاخ پر بیٹھے ہوئے پرندے اُڑنا شروع ہو جائیں گے اور وہ مسلم لیگ ن کے پرچم تلے الیکشن میں حصہ لیتے ہوئے اگلی حکومت کا حصہ بننے کی تیاری کرتے دکھائی دیں گے۔ ایسے میں اگر خارجہ پالیسی کی ناکامی یا معاشی بحران کی سنگینی اور بھی شدت اختیار کرلیتی ہے تو فوجی اسٹیبلشمنٹ یقینا تحریک انصاف کی حکومت کو قربانی کا بکرا بنا تے ہوئے حزب اختلاف کی طرف ہاتھ بڑھائے گی۔

ہفت روزہ فرائیڈے ٹائمز کیلئے اپنے تازہ ایڈیٹوریل میں نجم سیٹھی کہتے ہیں کہ لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید کو ڈی جی آئی ایس آئی سے کور کمانڈر پشاور بنانا ایک اہم پیش رفت ہے۔ 6 اکتوبر کو آئی ایس پی آر نے اس کا اعلان کردیا تھا لیکن وزیر اعظم کے دفتر سے اس کے نوٹی فی کیشن کا تاحال انتظار ہے جو کہ ایک آئینی ضرورت ہے۔ اگرچہ فیض حمید کا تبادلہ غیر متوقع نہیں کیوں کہ ان کے مستقبل کے پیشہ ور عزائم کی تکمیل کے لیے کسی کور کی کمانڈ کرنا ضروری تھا لیکن یہ بھی کوئی راز نہیں کہ وزیر اعظم عمران خان اُنہیں جب تک ممکن ہوتا، آئی ایس آئی کا ڈی جی رکھنا چاہتے تھے۔ شاید یہی وجہ ہے کہ فیض کے جانے اور ندیم کے آنے کے اعلان میں ہونے والی تاخیر پر چہ می گوئیاں ہورہی ہیں۔

نجم سیٹھی سوال کرتے ہیں کہ کیا اس کی وجہ وزیر اعظم اور آرمی چیف کے درمیان کسی قسم کی غلط فہمی تھی؟ انکا کہنا ہے اگر اس معاملے کو جلد از جلد طے نہ کیا گیا تو ہمیں کچھ سنگین مسائل کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے۔ جنرل فیض حمید کے حوالے سے عمومی تاثرپایا جاتا ہے کہ اُنہوں نے عمران خان کو اپوزیشن لیڈر سے وزیر اعظم بننے کے لیے مبینہ طور پر اہم معاونت فراہم کی۔ بدقسمتی سے مشترکہ فوائد کے لیے وضع کردہ بندوبست نے دونوں کا دامن داغ دار کردیا۔ اس کی وجہ سے ادارے کی ساکھ مجروع ہوئی اور جی ایچ کیو کی طرف سے ردعمل آیا جو بالآخر اس پیش رفت کا باعث بنا۔

نجم کہتے ہیں کہ یہ بات تسلیم کی جانی چاہیے کہ نواز شریف اورمریم نواز نے سیاسی آنچ بلند رکھنے میں اہم کردارادا کیا۔ اسٹیبلشمنٹ کو ہدف بناتے اور تواتر سے جنرل فیض کو مبینہ غیر آئینی اقدامات پر نام لے کر تنقید کرتے ہوئے عوامی بیانیہ تبدیل کردیا۔ روایتی طور پر عوامی بیانیہ  اسٹبلشمنٹ نواز ہوتا ہے لیکن اب عوام کے تیوربدل رہے ہیں۔ چناں چہ اسٹیبلشمنٹ کو اپنے سیاسی متبادل پر نظر ثانی کرنا پڑ رہی ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ مریم نواز کی اسلام آبادہائی کورٹ میں دی گئی درخواست بھی ایک کاری ضرب تھی جس میں جنرل فیض حمید کے مبینہ کردار کا حوالہ دے کر کہا گیا کہ اُنہوں نے نواز شریف اور مریم نواز، دونوں کو بے بنیاد الزامات کے باوجود سزائیں دلانے کے لیے عدلیہ پر دباؤ ڈالا تھا۔ پھر ایک دن بعد جب جنرل قمر جاوید باجوہ اور عمران خان کی ملاقات کے دوران جنرل فیض کے تبادلے اور اُنکی جگہ لیفٹیننٹ جنرل ندیم انجم کو ڈی جی آئی ایس آئی نامزد کرنے پر بات کر رہے تھے، مریم نواز نے جنرل فیض حمید پر پوری شدت سے تنقیدی حملے شروع کردیے۔ شاید اس کی وجہ سے جنرل فیض کو آئی ایس آئی میں رکھنے یا اُن کا جانشین خود چننے کی عمران خان کی ممکنہ کوشش کو جنرل باجوہ نے ناکام بنا دیا ہو۔

نجم سیٹھی کا کہنا ہے کہ اب قیاس کیا جارہا ہے کہ نئے ڈی جی آئی ایس آئی، لیفٹیننٹ جنرل ندیم انجم من وعن اپنے پیش رو کے سیاسی نقش قدم پر نہیں چلیں گے۔ اس کی دو وجوہ ہیں:  پہلی یہ کہ وہ وزیرا عظم کی بجائے جنرل باجوہ کے نامزد کردہ ہیں، اگرچہ یہ نامزدگی وزیر اعظم کے دفتر کی طرف سے آئی تھی۔ دوسری، آرمی چیف آئی ایس آئی کو اپنے اہداف اور ترجیحات کے لیے استعمال کرتے ہیں۔ وہ وزیر اعظم یا جنرل فیض حمید کے اہداف کی تکمیل اُن کی ممکنہ ترجیح نہیں ہوگی۔وہ کہتے ہیں کہ ریاست کے ایک طاقت ورعنصر کی تائید سے محروم ہوتے ہوئے عمران خان اپنے قدم مضبوط کرنے اور دیگر ذرائع سے اپنا تحفظ کرنے کی کوشش میں ہیں۔

نجم سیٹھی کے مطابق یہ بات قابل فہم ہے کہ جنرل فیض کی رخصتی سے نواز شریف اور مریم، دونوں خوش ہیں۔ اسٹیبلشمنٹ تو مسلم لیگ ن میں اپنے حامیوں اور مخالفین کے درمیان دراڑ ڈالنے میں کامیاب نہیں ہوئی لیکن باپ اور بیٹی نے اپنے ناقدین کی سرکوبی ضرور کرڈالی ہے۔ ابھی یہ نہیں کہا جاسکتا کہ اُن کا وزیر اعظم ہاؤس تک کا راستہ صاف ہوگیا ہے اور وہ جب چاہیں عمران خان کا تختہ الٹ سکتے ہیں۔لیکن اقتدار حاصل کرنے کے لیے درکار حالات اب سازگار ہوسکتے ہیں۔ اگر عوامی سطح پر یہ تاثر تقویت پاتا گیا کہ اب اسٹبلشمنٹ عمران خان کو تحفظ دینے اور ہر قیمت پر بچانے کے ارادے سے پھر چکی ہے تو ایک بڑی تعداد میں تحریک انصاف کے اراکین اسمبلی یہ اشارہ پڑھ لیں گے۔ اگر خارجہ پالیسی کی ناکامی یا معاشی بحران کی سنگینی مزید شدت اختیار کرلیتی ہے۔۔۔ جس کے خدشات موجود ہیں۔۔۔ تو اسٹیبلشمنٹ یقینا تحریک انصاف کی حکومت کو قربانی کا بکرا بنا تے ہوئے حزب اختلاف کی طرف ہاتھ بڑھائے گی۔

سیٹھی کہتے ہیں کہ مسلم لیگ ن کے قد آور راہ نما۔۔۔ شاہد خاقان عباسی، رانا ثنا اللہ، احسن اقبال، جاوید لطیف اور دیگر کے چہرے پر مسکراہٹ نمایاں ہوتی جارہی ہے۔ان کی آنکھوں میں اعتماد کی جھلک واضح دکھائی دیتی ہے۔ اُن کا کہنا ہے:  ”اس دسمبر میں نواز شریف لاہور میں ہوں گے۔“ ان کے کہنے کا مطلب ہے کہ وہ اگلے عام انتخابات، جو جلد ہونے جارہے ہیں، میں پارٹی کی قیادت خود کریں گے۔ ممکن ہے کہ یہ اعتماد قبل ازو قت اور انتہائی خوش فہمی ہو۔ لیکن پارٹی کی صفوں میں اعتماد بھرنے کے لیے یہ ایک اچھی حکمت عملی ہے کیوں کہ پارٹی میں دونوں بھائیوں کے مختلف بیانیے ابہام پھیلارہے تھے،ا ور ابہام مایوسی کا باعث بنتا ہے۔

اس دوران مولانا فضل اللہ اور نواز شریف ایک مشترکہ پارٹی کانفرنس کا انعقاد کرنے جارہے ہیں۔ اس میں حکومت کو عدم استحکام سے دوچار کرنے کے لیے جلسے، جلسوں کا پروگرام طے کیا جائے گا۔ وہ دیکھنا چاہتے ہیں کہ اسٹیبلشمنٹ عمران خان کو بچانے کے لیے کس حد تک جاسکتی ہے؟ سیٹھی سوال کرتے ہیں کہ اس کے عزائم کیا ہیں؟ کیا ملکی حالات دیکھتے ہوئے اس سے چھٹکارا پانے کا ارادہ کرلیا گیا ہے؟ سیاسی پنڈٹ ایک سرد موسم سرما کی پیش گوئی کررہے ہیں۔ اشیائے ضروریہ کی قلت واقع ہوگی۔ توانائی اور اشیائے خورد نوش کی بڑھتی ہوئی قیمتیں، بے روزگاری، مایوسی، جرائم، عالمی تنہائی، قرضے، صنعتی ہڑتالیں، دھشت گردی، غیر ملکی دھمکیاں اور پابندیاں۔ اس عالم میں ایک چنگاری بھی سرد موسم کو جوالا مکھی میں تبدیل کرسکتی ہے۔

Back to top button