کیا لانگ مارچ کا اختتام ملٹری ٹیک اوور پر ہوگا ؟

1977 میں 9 مذہبی جماعتوں پر مبنی پاکستان قومی اتحاد کی بھٹو حکومت کے خلاف چلائی گئی احتجاجی تحریک کا اختتام جنرل ضیاء الحق کے مارشل لاء پر ہوا تھا۔ چناچہ 2019 میں 9 عدد اپوزیشن جماعتوں پر مبنی رہبر کمیٹی کی حکومت مخالف تحریک شروع ہونے کے بعد یہ سوال شدت پکڑتا جارہا ہے کہ کہیں اس تحریک کا اختتام بھی تو ملٹری ٹیک اور پر نہیں ہوگا۔
مولانا فضل الرحمٰن کا آزادی مارچ کراچی سے براستہ لاہور اپنی منزل اسلام آباد میں خیمہ زن ہے۔ یہ وہ مقام ہے جہاں سے کچھ ہی فاصلے پر ایوان اقتدار ہے۔ آزادی مارچ کے جم غفیر کے رنگ ڈھنگ سے عیاں ہے کہ مارچ والے ڈی چوک سے آگے وزیراعظم ہاؤس پر نگاہیں مرکوز کئے ہوئے ہیں۔ پاکستان کی سیاسی تاریخ اقتدار اور اختیار کی رسہ کشی سے بھری پڑی ہے، حکومت بنانے اور گرانے کےلیے اتحاد بنتے ٹوٹتے رہے ہیں۔ چار دہائیوں قبل کی بات ہے جب 1977 میں بانی پاکستان پیپلز پارٹی ذوالفقار علی بھٹو نے ملک میں عام انتخابات کروائے اور نتائج کا اعلان ہوتے ہی اپوزیشن جماعتوں نے انتخابی عمل میں بڑے پیمانے پر دھاندلی کا الزام عائد کرتے ہوئے از سر نو انتخابات کا مطالبہ کردیا لیکن ذوالفقار بھٹو نے ان کا مطالبہ یکسر مسترد کردیا۔
حزب اختلاف کی جماعتوں نے ذوالفقار بھٹو کو زیر کرنے کےلئے ’پاکستان قومی اتحاد‘ ( پاکستان نیشنل الائنس)کے نام سے ایک اتحاد تشکیل دیا یہ تحریک پی این اے کے نام سے بھی جانی جاتی ہے۔ اس تحریک نے اس قدر زور پکڑا کہ ملک میں پرتشدد واقعات رونما ہونے لگے۔ بھٹو نے بڑے شہروں میں فوج تعینات کردی اور حزب اختلاف کے سیاست دانوں کو پابند سلاسل کردیا ۔ گزرتے وقت کے ساتھ حالات معمول پر آنے کے بجائے مزید خراب ہوتے چلے گئے۔ بالآخر ذوالفقار بھٹو نے مذاکرات پر آمادگی ظاہر کردی۔ مذاکرات شروع ہوئے اور ایک مرحلے پر جب ذوالفقار بھٹو نے دوبارہ انتخابات کا عندیہ دیا ہی تھا کہ آرمی چیف جنرل ضیاء الحق نے ملک میں مارشل لاء نافذ کردیا اور 90 دن کے اندر انتخابات منعقد کرکے اقتدار منتخب حکومت کے حوالے کرنے کا وعدہ کرلیا۔ تاہم یہ وعدہ وفا نہ ہوا۔
موجودہ سیاسی صورت حال اور پی این اے کی تحریک میں بیشتر باتیں مشترک ہیں، 1977 میں بھی حزب اختلاف کی جماعتوں نے متفقہ طور پر الیکشن کو دھاندلی زدہ قرار دے کر ازسرنو انتخابات کا مطالبہ کیا تھا اور آج کی اپوزیشن نے بھی 2018 کے انتخابات کے فوری بعد اس کو ’سلیکشن‘ کہہ کر مسترد کردیا۔ مولانا فضل الرحمٰن نے تو ایک قدم آگے بڑھاتے ہوئے حلف نہ اٹھانے کی تجویز دی تاہم دیگر جماعتوں نے ان کی تجویز سے اتفاق نہیں کیا۔ پاکستان قومی اتحاد کی سربراہی مولانا فضل الرحمان کے والد مفتی محمود کر رہے تھے اور آج اپوزیشن کی قیادت مولانا فضل الرحمان کر رہے ہیں۔ پاکستان قومی اتحاد میں لبرل، سیکولر اور مذہبی جماعتیں شامل تھیں اور آج اپوزیشن اتحاد میں ایک طرف جمعیت علمائے اسلام جیسی کٹر مذہبی جماعت شامل ہے تو دوسری جانب عوامی نیشنل پارٹی جیسی کٹر سیکولر اور پیپلز پارٹی جیسی لبرل جماعت بھی اس کا حصہ ہے۔
ذوالفقار علی بھٹو کی حکومت کے خلاف اتحاد 9 جماعتوں پر مشتمل تھا اور آج بھی اپوزیشن کی رہبر کمیٹی 9 جماعتوں کے ارکان پر مشتمل ہے۔ ان جماعتوں میں جمعیت علمائے اسلام، مسلم لیگ ن، پاکستان پیپلز پارٹی ، عوامی نیشنل پارٹی، پختونخوا ملی عوامی پارٹی، قومی وطن پارٹی، نیشنل پارٹی، جمعیت علمائے پاکستان اور عوامی راج پارٹی شامل ہیں۔
پاکستان قومی اتحاد کی تحریک کے دوران ایک نعرہ بہت مشہور ہوا تھا۔ نو ستارے سب کو پیارے۔ ان نو ستاروں میں مفتی محمود، اصغر خان، مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی، مولانا شاہ احمد نورانی، پیر صاحب پگارا، خان عبدالولی خان، نوابزادہ نصراللہ خان، عطاء اللہ مینگل اور خان عبدالقیوم خان شامل تھے۔ ذوالفقار علی بھٹو نے بہت سارے سنیئر فوجی افسران کو نظر انداز کرکے قدرے جونیئر اور اپنے پسندیدہ افسر جنرل ضیاالحق کو آرمی چیف مقرر کیا تھا جب کہ وزیراعظم عمران خان نے پسندیدہ افسر جنرل قمر جاوید باجوہ کو عہدے میں توسیع دے دی۔
اس وقت پیپلز پارٹی نے پاکستان قومی اتحاد پر ’بیرونی اشاروں‘ پر چلنے کا الزام عائد کیا تھا جب کہ آج بھی تحریک انصاف کی حکومت مولانا فضل الرحمٰن کو ’بھارتی ایجنٹ‘ ثابت کرنے کی بھرپور کوشش کررہی ہے۔ مگر ساتھ ہی سیکیورٹی ادارے یہ خدشہ بھی ظاہر کر رہے ہیں کہ بھارتی خفیہ ایجنسی ’را‘ مولانا فضل الرحمٰن پر حملہ کرسکتی ہے۔ یہاں دلچسپ صورت حال یہ ہے کہ اس وقت اپوزیشن جماعتوں کا نشانہ بلاول بھٹو کے نانا ذوالفقار علی بھٹو تھے اور آج بھٹو کا نواسا خود نشانہ بازوں میں شامل ہے۔ تب مولانا مفتی محمود ذوالفقار علی بھٹو کے خلاف تحریک کی قیادت کر رہے تھے اب مفتی محمود کا بیٹا مولانا فضل الرحمان ذوالفقارعلی بھٹو کے نواسے بلاول کی سیاسی مدد لیے ہوئے ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button