کیا مارشل لاء کے علاوہ بھی الیکشن ملتوی ہونے کا کوئی راستہ ہے؟

8 فروری کو عام انتخابات ملتوی کرنے کی سینیٹ کی بے وقعت قرارداد اور سیکرٹری الیکشن کمیشن کے استعفے نے انتخابات کے ملتوی ہونے کا ماحول تو بنا دیا۔۔ مگر اس وقت ایسی کوئی آئینی صورتحال نہیں کہ آئین کے تحت الیکشن روکے جا سکیں۔ سردست آئین کے آئین سے تصادم کا کوئی منظر نامہ نہیں ہے۔ سینیٹ کی قراداد کی آئین میں کوئی حیثیت نہیں۔ کسی سرکاری ملازم یا عہدیدار کے استعفیٰ دینے سے آئینی عمل نہیں رک سکتا ۔ اب کوئی غیر آئینی قدم ہی الیکشن روک سکتا ہے۔ جو غیر آئینی قدم اٹھانے کی طاقت وصلاحیت رکھتے ہیں، وہ نگرانوں کے لیے تو یہ انتہائی قدم نہیں اٹھائیں گے، ان کے خود آئے بغیر انتخاب رکنا ممکن نظر نہیں آرہا۔ ان خیالات کا اظہار سینئر صحافی اور کالم نگار مزمل سہروری نے اپنے ایک کالم میں کیا ھے ۔ وہ لکھتے ہیں کہ کیا عام انتخابات ملتوی ہو رہے ہیں۔ ہر کوئی ایک دوسرے یہ سوال پوچھ رہا ہے۔ پہلے سینیٹ کی بے وقعت قرارداد نے انتخابات کے ملتوی ہونے کا ماحول بنا دیا۔ حالانکہ چند سینٹرز کی پاس کردہ اس قرارداد کی حیثیت ایک ایسے مشورے سے زیادہ نہیں جس کا مقدر ردی کی ٹوکری ہے۔ لیکن کچھ لوگ بضد ہیں کہ قرارداد کے پیچھے بہت بڑی کہانی ہے، بہرحال اس قرارداد کے اثرات ابھی ختم نہیں ہوئے تھے کہ الیکشن کمیشن کے سیکریٹری کے مستعفی ہونے کی خبریں پھیل گئیں اور ایک چہ مگوئیوں اور افواہوں کا طوفان اٹھ کھڑا ہوا۔ ماحول بن گیا کہ الیکشن کمیشن کے سیکریٹری مستعفی ہو گئے ہیں، اس لیے اب انتخابات ملتوی ہو جائیں گے۔ اس سے پہلے ملک میں معاشی ایمر جنسی کے ذریعے انتخابات ملتوی کرانے کی خبریں زیر گردش تھیں کہ صدر مملکت پر بہت دباؤ ہے کہ وہ ملک میں معاشی ایمرجنسی لگا دیں۔جس کے بعد عام انتخابات ملتوی کرنے کی راہ ہموار ہو جائے گی۔ تب بھی واضح کیا گیا تھا کہ معاشی ایمرجنسی ملک میں انتخابات نہیں روک سکتی۔بلکہ اگر آئین کے سیکشن 234 کو دیکھیں تو صاف نظر آتا ہے کہ آئین معاشی ایمرجنسی کے دوران انتخابات کے انعقاد کی راہ ہموار کرتا ہے، اس لیے معاشی ایمرجنسی سے انتخابات کا راستہ نہیں رک سکتا۔
مزمل سہروری کہتے ہیں کہ سیکریٹری الیکشن کمیشن کی طبعیت خراب ہے۔ وہ خرابی صحت کی وجہ سے مستعفیٰ ہو رہے ہیں۔ لیکن ان کی خراب طبعیت نے پورے ملک کی طبیعت خراب کر دی ہے۔ ہر اس بندے کی طبیعت خراب نظر آرہی ہے۔ جو الیکشن ملتوی کرانا چاہتے ہیں، انھیں سیکریٹری الیکشن کمیشن کا استعفیٰ ڈوبتے کو تنکے کے سہارے کی مانند امید کی ایک کرن نظر آرہا ہے۔لیکن جو الیکشن بروقت کرانا چاہتے ہیں انھیں سیکریٹری الیکشن کمیشن کا استعفیٰ ایک بے وقت کی راگنی سے زیادہ کچھ نہیں لگ رہا ہے۔ سیکریٹری الیکشن کمیشن کے استعفیٰ سے پہلے تو پورے الیکشن کمیشن کے استعفیٰ کی افواہیں بھی گردش کر رہی تھیں۔ تاھم اس کا بھی آئین میں حل موجود ہوگا۔جس طرح کے پی کے نگران وزیر اعلیٰ کے انتقال کے بعد نیا نگران وزیر اعلیٰ آگیا، اسی طرح نیا ا لیکشن کمیشن بھی بن جائے۔اگر سابق وزیر اعلیٰ اور سابق اپوزیشن لیڈر مل کر نیا نگران وزیر اعلیٰ لگا سکتے ہیں تو پھر سابق وزیر اعظم اور سابق اپوزیشن لیڈر مل کر نیا الیکشن کمیشن کیوں نہیں لگا سکتے۔ اس لیے اگر سارا الیکشن کمیشن بھی مستعفی ہوجائے تب بھی الیکشن ملتوی ہوتے نظر نہیں آتے۔
مزمل سہروری کا کہنا ھے کہ ایک موقف یہ بھی پیش کیا جا رھا ھے کہ پنجاب اور کے پی کے انتخابات کونسے آئین کے تحت ملتوی ہوئے تھے، جو ۔ اب آئین کی بات کی جا رہی ہے۔ لیکن سمجھنے کی بات یہ ھے کہ پنجاب میں الیکشن کے وقت بھی آئین ہی آئین سے متصادم تھا۔ اس لیے انتخابات رک گئے۔ پیسے دینے کا اختیار قومی اسمبلی کے پاس ہے۔ جب قومی اسمبلی نے پیسے دینے سے انکار کر دیا تو سب بے بس ہو گئے۔
اگر حکومت پیسے دینے سے انکار کرتی تو اس کے خلاف توہین عدالت کی کارروائی ہو سکتی تھی۔ آئین توڑنے کی کارروائی بھی ہو سکتی تھی۔ لیکن جب قومی اسمبلی نے انتخابات کے لیے پیسے دینے کا فنانس بل مسترد کر دیا تو پھر قومی اسمبلی کے خلاف توہین عدالت کی کارروائی ہو سکتی تھی اور نہ ہی قومی اسمبلی کے خلاف آئین توڑنے کی کارروائی ہو سکتی تھی۔ اس لیے ایک ڈیڈ لاک ہوگیا اور سپریم کورٹ بے بس نظر آیا۔ لوگ کہتے ہیں کہ پھرقومی اسمبلی کے ڈپٹی اسپیکر قاسم سوری کی رولنگ کو عدالت نے کیسے مسترد کر دیا، عدالت اگر قاسم سوری کی رولنگ کو مسترد کر سکتی ہے تو پھر پیسے نہ دینے کی قومی اسمبلی کی رولنگ کو بھی مسترد کر سکتی تھی۔ لیکن لوگ یہ نہیں سمجھتے کہ قاسم سوری کی رولنگ کے پیچھے قومی اسمبلی کی اکثریتی طاقت نہیں تھی۔ جب کہ پنجاب کے صوبائی الیکشن روکنے کے لیے قومی اسمبلی کی اکثریت نے ووٹ دیا، یہ کسی اسپیکر کی اپنی رولنگ نہیں تھی۔ آپ کہہ سکتے ہیں کہ قومی اسمبلی نے غیر آئینی کام کیا۔ لیکن آئین میں یہ حیثیت بھی صرف قومی اسمبلی کو ہی حاصل ہے کہ وہ غیر آئینی کام کرے تو روکنے کا طریقہ نہیں۔
مزمل سہروری بتاتے ہیں کہ سپریم کورٹ اپنے حکم سے پیسے نہیں دے سکتی تھی۔ قومی اسمبلی کی منظوری ضروری تھی۔آئین اور عدالت دونوں بے بس تھے۔اس وقت ایسی کوئی آئینی صورتحال نہیں کہ آئین کے تحت ہی الیکشن روکے جا سکیں۔ آئین کے آئین سے دوبارہ تصادم کا کوئی منظر نامہ سامنے نہیں ہے۔ سینیٹ کی قراداد کی آئین میں کوئی حیثیت نہیں۔ کسی سرکاری ملازم یا عہدیدار کے استعفیٰ دینے سے آئینی عمل نہیں روک سکتا، ایک ملازم جاتا ہے تو دوسرے کو ذمے داری دے دی جاتی ہے۔ مولانا فضل الرحمنٰ کے مطالبے کی آئین میں کوئی حیثیت نہیں، ان کا مطالبہ محض ایک بیان ہے، اس کے پیچھے آئین یا قانون کی طاقت نہیں ہے، سینیٹ بھی الیکشن روکنے کا اختیار رکھتا نہ پیسے روکنے کا، عام انتخابات روکنے یا ملتوی کرنے کے حوالے کوئی بھی اختیار نہیں رکھتا۔ سمجھنے کی بات یہ ہی ھے کہ الیکشن کا بگل بج چکا ھے ۔

Back to top button