کیا متنازعہ نعروں کی وجہ سے عورت مارچ پر تنقید ہوتی ہے؟

گزشتہ برسوں میں عورت مارچ کے دوران خواتین شرکا کی جانب سے میرا جسم میری مرضی اور اپنا کھانا خود گرم کرو، میں بستر گرم کر دوں گی جیسے متنازعہ نعروں کی وجہ سے رواں مہینے ہونے والا مجوزہ عورت مارچ اپنے انعقاد سے پہلے ہی متنازعہ ہوکر شدید ترین تنازعات کی زد میں ہے۔
غیر جانبدار حلقوں کا یہ ماننا ہے کہ اگر عورت مارچ کی منتظمین میرا جسم میری مرضی اور کھانا اور بستر گرم کرنے جیسے متنازعہ اور غیر ضروری نعرے لیکر نہ چلتیں تو اس حوالے سے کوئی تنازعہ ہی کھڑا نہیں ہونا تھا۔ ایک لائیو ٹی وی پروگرام میں ڈرامہ نگار خلیل الرحمٰن قمر اور سماجی کارکن ماروی سرمد کے مابین بھی جو بدتمیزی کا میچ چلا اس کی بنیادی وجہ بھی خاتون کی جانب سے میرا جسم میری مرضی کا متنازع نعرہ بار بار بلند کرنا تھی۔
پاکستان میں حقوق نسواں کے تحفظ کے لیے گزشتہ کئی عشروں سے تحریکیں چل رہی ہیں جن کی قیادت خواتین نے کی ۔مگر ایسا پہلی مرتبہ ہوا ہے کہ عورتوں کے عالمی دن کے حوالے سے عورت مارچ پر اس قدر تنازعہ کھڑا ہوجائے کہ اسے رکوانے کے لیے عدالت کا دروازہ تک کھٹکھٹایا گیا۔ عورت مارچ کے مخالفین کو سب سے بڑا اعتراض یہی ہے کہ اس مارچ میں مردوں سے متعلق غلط زبان استعمال کی جاتی ہے اور عورت کی آزادی کو اس انداز میں بیان کیا جاتا ہے کہ جیسے پاکستانی عورت پابند سلاسل ہے اور یہ مغربی عورتوں کی طرح مادرپدر آزادی کی خواہاں ہے۔
خیال رہے کہ پاکستان میں رواں ماہ آٹھ مارچ کو ہونے والا عورت مارچ اس عنوان سے ہونے والا تیسرا سالانہ مارچ ہے جس کی حمایت اور مخالفت کی بحث نے ملک بھر کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے۔ عورت مارچ کے حامیوں کا کہنا ہے کہ اس مارچ کے ذریعے خواتین کے سیاسی مسائل کے بجائے سماجی مسائل منظر عام پر لائے جا رہے ہیں لہٰذا یہ کہنا غلط ہے کہ عورت مارچ غیر ملکی ایجنڈے کو لے کر آ رہا ہے۔ عورت مارچ نے پاکستان میں کلچر کو تبدیل کیا ہے اور اب خواتین کے مسائل کے حوالے سے مرد زیادہ توجہ دے رہے ہیں۔
مارچ 2018 کو خواتین کے عالمی دن کے موقع پر پاکستان میں پہلی بار عورت مارچ کا انعقاد کیا گیا۔ عورت مارچ خواتین کے حقوق کی جدوجہد کا ایک نیا موڑ تھا جب نوجوان خواتین کی بڑی تعداد اپنے حقوق کے لیے پلے کارڈز اور بینرز لے کر ملک کے بڑے شہروں میں نکلیں۔ خواتین کے ہاتھوں میں موجود بینرز ان کے متعدد مسائل جیسے ہراسیت، صنفی امتیاز اور معاشرتی رویوں کی عکاسی کر رہے تھے۔ ان پر درج نعرے جارحانہ تھے تاہم وہ میڈیا اور عوام کی توجہ حاصل کرنے میں کامیاب رہے۔ سوشل میڈیا پر شروع ہونے والی بحث گھر گھر میں چھڑ گئی۔ اگلے سال 2019 میں مارچ نے مزید توجہ حاصل کی اور اس سال کا مارچ انعقاد سے قبل ہی سب کی توجہ کا مرکز بن چکا ہے۔
خواتین کے حقوق کے لیے سرگرم سماجی کارکن طاہرہ عبداللہ کہتی ہیں کہ پاکستان میں سات دہائیوں سے خواتین اپنے حقوق کے لیے سرگرم عمل ہیں۔ جنگ آزادی میں بھی خواتین نے شانہ بشانہ حصہ لیا۔ طاہرہ عبداللہ کے خیال میں نئی نسل کے مسائل مختلف ہیں اور نعرے بھی مختلف ہیں۔ پچھلے چالیس سال سے خواتین پورے پاکستان کے شہروں میں آٹھ مارچ کو جلسے جلوس اور مارچ کرتی چلی آ رہی ہیں۔ 2018 سے عورت مارچ زیادہ جوش اور جذبے سے منعقد ہو رہا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ عورت مارچ کا باقاعدہ چارٹر آف ڈیمانڈ موجود ہے۔ اس حوالے سے بحث اور تنازعات پر طاہرہ عبد اللہ کا کہنا تھا کہ صرف کچھ مرد عورت مارچ کو متنازع بنا رہے ہیں کیوں؟ کہتی ہیں کہ بحث تو اچھی بات ہے لیکن گالی گلوچ نہیں۔ مردوں کو عورت سے اتنی زیادہ نفرت کیوں؟ عورت تو مردوں کو جنم دیتی ہے۔ مرد عورت کو کنٹرول کیوں کرنا چاہتا ہے؟
یاد رہے کہ عورت مارچ کو رکوانے کے لیے قدامت پسند حلقوں نے لاہور ہائی کورٹ میں ایک پٹیشن بھی دائر کی تھی جسے مسترد کردیا گیا۔ عدالت نے اپنے فیصلے میں عورت مارچ کے انعقاد کو جائز قرار دیا تاہم عورت مارچ کے شرکاء کو ہدایت کی کہ وہ مرد ذات کے مخالف نعرے لگانے سے پرہیز کریں۔
