کیا مریم کے ہتک عزت قانون کے پیچھے چڑیا گھر والے ہیں؟

معروف لکھاری اور تجزیہ کار حماد غزنوی نے مریم نواز کی پنجاب حکومت کی جانب سے میڈیا کو قابو کرنے کے لیے اسمبلی سے پاس کردہ ہتک عزت قانون کی سخت مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ دراصل اس کے پیچھے چڑیا گھر والوں کا ہاتھ ہے اور پنجاب حکومت کو استعمال کیا جا رہا یے۔ روزنامہ جنگ کے لیے اپنے تازہ سیاسی تجزیے میں حماد غزنوی کہتے ہیں کہ پچھلے ہفتے پنجاب حکومت کی ایک مرکزی شخصیت نے انہیں بتایا کہ گریڈ 18 کے کونسے افسر ’’چڑیا گھر‘‘ والوں کے حکم پر اس ٹریبیونل کے جج بنائے جا رہے ہیں جو صحافیوں کے خلاف ہتک عزت کے کیسز سن کرسزا سنا دے گا۔ حماد کے بقول اگر گریڈ 18 کی جونیئر ترین پوسٹ پر بھی حکومت پنجاب کے اختیارات کا یہ عالم ہے، تو ایسے میں ٹربیونل کا جج ہتک عزت کے کیسز سنتے ہوئے کن کے مفادات کا تحفظ کرے گا یہ سب پر واضح ہے؟ ہتکِ عزت کے نئے قانون کے تحت جھوٹی خبروں پر کارروائی کے لیے خصوصی ٹربیونل بنائے جائیں گے۔ جج حتمی فیصلہ ہونے سے پہلے ہی ’ملزم‘ کو تیس لاکھ روپے جرمانہ ڈال دینے کا پابند ہو گا۔

حماد غزنوی کہتے ہیں کہ ویسے انہیں یہ بھی سمجھ نہیں آئی کہ کیا فیک نیوز کا مسئلہ صرف پنجاب حکومت کا مسئلہ ہے؟ کیا باقی صوبوں میں جھوٹی خبریں دینے کی آزادی برقرار رہے گی؟ اگر یہ قانون بنانا مجبوری تھی تو وفاقی سطح پر بننا چاہیے تھا جب کہ وہاں حکومت بھی اغیار کی نہیں ہے۔ بات کچھ سمجھ نہیں آئی۔سچ تو یہ ہے کہ ہمارا مسئلہ نئے قوانین حل نہیں کر سکتے، ہمارا مسئلہ قانون کی حکم رانی حل کر سکتی ہے، ہمارا مسئلہ کوئی آئینی ترمیم بھی حل نہیں کر سکتی، ہمارا مسئلہ آئین کی بالا دستی حل کر سکتی ہے۔ پاکستان میں آج تک کوئی قانون ناکام نہیں ہوا، قانون نافذ کرنے والے ناکام ہوئے ہیں۔ ہماری بدنیتی نے ہمیں نامراد کر دیا۔

حماد غزنوی کہتے ہیں لیکن ہم اپنے تمام تر تحفظات اور اعتراضات کے باوجود ہتکِ عزت کے اس قانون کی حمایت کرنے پر تیار ہیں۔ ہمیں صرف ایک ضمانت دے دیجیے کہ ایک بار جب یہ جامع اور ہمہ گیر قانون نافذالعمل ہو جائے گا اور ہر جھوٹے اور گستاخ سے نپٹنے کا قانونی اور سریع راستہ مل جائے گا تو اس کے بعد کبھی کوئی شخص ’’لاپتا‘‘ نہیں ہو گا، اور نہ ہی کبھی کسی دریدہ دہن صحافی کو گولی ماری جائے گی۔ بس یہ گارنٹی دے دیجیے۔

سینیئر صحافی کے بقول پاکستان میں سینکڑوں اچھے قوانین موجود ہیں، اور انہیں توڑنے کے ہزاروں طریقے بھی۔ ایسے میں کیا ہمیں مزید اچھے قوانین بنانے کی ضرورت ہے یا خوش نیتی سے موجودہ قوانین کو نافذ کرنے کی؟ ہمارے پاس تو اسلامی جمہوریہ پاکستان کا آئین بھی موجود ہے، ایسے میں کیا ہمیں کسی آئینِ نو کی تلاش میں سرگرداں رہنا چاہیے؟ یا 1973ءکے آئین کو اس کی روح سمیت نافذ کرنے کی کم از کم ایک سنجیدہ سعی کرنی چاہئے؟ حماد غزنوی کا کہنا ہے کہ مسئلہ خوش نیتی سے موجودہ قوانین پر عمل درآمد کا ہے۔ 1973 کے آئین میں آرٹیکل 6 بھی شامل کیا گیا تھا اور اپنے تئیں مارشل لا کا راستہ ہمیشہ ہمیشہ کے لیے بند کر دیا گیا تھا، مگر پھر ہوا کیا؟کیا اس ملک میں آزادیء اظہارِ رائے کے قوانین موجود نہیں ہیں؟ بالکل ہیں، بلکہ یہ تو آئین کی 19 ویں شق میں محفوط ہیں، تو کیا ہم اس ریاست میں اس آزادی کا اہتمام کر پائے ہیں؟ سوال یہ یے کہ کیا لا پتا افراد کا معاملہ حل کر نے کے لیے ہمیں کسی نئے قانون کی ضرورت ہے؟ کیا موجودہ قوانین اغواکاروں کی حوصلہ افزائی کرتے نظر آتے ہیں؟ یہی وجہ ہے کہ جب بلند بانگ دعووں کے ساتھ کوئی ’’نیا قانون‘‘ نافذ کیا جاتا ہے تو ہمیں منٹو کا افسانہ یاد آ جاتا ہے۔

حماد غزنوی بتاتے ہیں کہ پنجاب حکومت نے ہتکِ عزت کا جو نیا قانون پاس کیا ہے وہ تمام ذرائع ابلاغ و ما فیہا پر لاگو ہو گا، یعنی بڑے ٹی وی چینل سے ٹک ٹاک تک۔اس قانون کی ضرورت روز افزوں ’’فیک نیوز‘‘ کی وجہ سے ضروری سمجھی گئی ہے، یعنی پگڑیوں سے فٹ بال کھیلنے کے رجحان پر قابو پانے کے لیے۔ یہ بات تو درست ہے کہ ففتھ جنریشن وار نے ایک نئے انداز کی ’’صحافت‘‘ کو ملک میں فروغ دیا، جس کا پہلا شہید نواز شریف تھا۔ دستور کچھ یوں تھا کہ سال ہا سال تک شام سات سے دس بجے تک ہر نیوز ٹی وی چینل کا ٹینٹوا پکڑ کر ’’چور ڈاکو، چور ڈاکو‘‘ کی گردان کروائی جاتی، نفرت انگیز جھوٹ بولا جاتا، اور پھر ہزاروں سوشل میڈیا جنگجوئوں کے ذریعے ’فیک نیوز‘ کو چہار دانگ میں پھیلایا جاتا۔ آپ اس سے اندازہ لگائیے کہ اس دور میں ہمارے ٹی وی چینل جھوٹی خبریں نشر کرنے کی پاداش میں انگلستان میں کروڑوں روپے جرمانے میں ادا کر چکے ہیں جب کہ پاکستان میں انہیں فیک نیوز کی مکمل آزادی حاصل رہی۔ خیر، پھر وہ تاریخی ’سیم پیج‘ پھٹ گیا، منظر بدل گیا۔اب صورتِ واقعہ کچھ یوں ہے کہ وہ طاقت ور لوگ اور ادارے جنہوں نے پاکستان میں ایک منظم منصوبے کے تحت ’فیک نیوز‘ کی آبیاری کی اب وہ خود اس کی زد میں ہیں، یعنی انگریزی کے ایک محاورے کے مطابق ’ مرغیاں اب استراحت فرمانے گھر کو لوٹ رہی ہیں‘۔

Back to top button