کیا مفاہمت پسند اپوزیشن سے دوبارہ دھوکہ ہونے والا ہے؟

سینئر صحافی اور تجزیہ کار حامد میر کا کہنا ہے کہ صرف چھ مہینے پی ڈی ایم کے پلیٹ فارم سے اکٹھے سیاست کرنے کے بعد ایک دوسرے سے دست و گریباں ہونے والے بلاول بھٹو اور مریم نواز مت بھولیں کہ 2006 میں بے نظیر بھٹو اور نواز شریف میں میثاقِ جمہوریت کے بعد مشرف جنتا نے این آر او کی آڑ میں محترمہ کو شہید کردیا تھا۔ اسی طرح شہباز شریف نے ہمیشہ مفاہمت کی سیاست کی لیکن اسکے باوجود جھوٹے مقدمات میں جیل بھجوا دیے گئے۔ حامد میر کہتے ہیں کہ دونوں جماعتوں کے ساتھ مفاہمت کے نام پر دھوکہ ہوا ہے۔ محترمہ بے نظیر بھٹو کی آخری کتاب کا نام ہی ’’مفاہمت‘‘ تھا۔ اس کتاب میں انہوں نے واضح الفاظ میں لکھا کہ پرویز مشرف نے این آر او کے نام پر ان کے ساتھ دھوکہ کیا۔ لیکن افسوس کہ بار بار دھوکہ کھانے کے باوجود ان بڑی جماعتوں نے سبق نہیں سیکھا کیوں کہ اب انکی قیادت عوامی سیاست کے ذریعہ تبدیلی لانے پر نہیں بلکہ پاور پارلیٹکس سے عہدے حاصل کرنے پر یقین رکھتی ہے۔ حامد میر کہتے ہیں کہ نواز لیگ اور پیپلزپارٹی نے ابھی تک اپنی جماعتوں کے اندر جمہوریت قائم نہیں کی اور جب تک ان کے اندر جمہوریت نہیں آئے گی یہ مضبوط نہیں ہوں گی اور بیک ڈور چینل سے ہی اقتدار میں آنے پر مجبور ہوں گی۔ ان جماعتوں کو حقیقی تبدیلی کے لئے پہلے اپنے اندر جمہوریت قائم کرنا ہوگی۔
اپنے تازہ تجزیے میں حامد میر کا کہنا ہے کہ
محترمہ بےنظیر بھٹو کا بیٹا اور نواز شریف کی بیٹی ستمبر 2020 میں پاکستان ڈیمو کریٹک موومنٹ کے پلیٹ فارم پر اکٹھے ہوئے تو اقتدار کے ایوانوں میں بھونچال آگیا تھا۔ پی ڈی ایم ایک طرف عمران خان کی حکومت کے لئے ایک چیلنج بن کر ابھرا تو دوسری طرف بلاول بھٹو زرداری اور مریم نواز شریف کے لئے امتحان بن گیا۔ اپوزیشن جماعتوں کے اس اتحاد کا مقصد عمران خان کی حکومت کو گرانا تھا لیکن ابھی اس اتحاد کے دو تین جلسے ہوئے تھے کہ بلاول بھٹو زرداری ایک ماہ کے لئے گلگت بلتستان چلے گئے اور انہوں نے گلگت کی انتخابی مہم میں کلین سویپ کے دعوے شروع کردیے۔ گلگت بلتستان کا الیکشن قریب آیا تو مریم نواز بھی وہاں پہنچ گئیں۔ پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن نے ایک دوسرے کے خلاف الیکشن لڑا اور آخر کار گلگت میں تحریک انصاف کی حکومت بن گئی۔ بلاول نے کچھ دن دھاندلی کا شور مچایا اور ایک دفعہ بھر پی ڈی ایم کے جلسوں میں شرکت شروع کر دی۔
حامد میر یاد دلاتے ہیں کہ مارچ 2021 میں سینیٹ کے الیکشن میں پی ڈی ایم نے اسلام آباد سے سابق وزیراعظم یوسف رضا گیلانی کو اپنا مشترکہ امیدوار بنایا۔ گیلانی صاحب اچھی طرح جانتے تھے کہ ان کی کامیابی میں مسلم لیگ (ن) کا کردار بہت اہم تھا لیکن انہوں نے ہر قیمت پر سینیٹ میں اپوزیشن لیڈر بننے کی کوشش میں پی ڈی ایم کو توڑ دیا۔ یوں محترمہ بےنظیر بھٹو کا بیٹا اور نواز شریف کی بیٹی بمشکل چھ ماہ بھی ایک ساتھ نہ چل سکے۔ دونوں طرف سے ایک دوسرے پر ’’سلیکٹڈ‘‘ کے آوازے کسے گئے اور معاملہ یہاں تک پہنچا کہ پیپلز پارٹی والے جنرل ضیا الحق کو نواز شریف کا سیاسی باپ اور مسلم لیگ (ن) والے جنرل ایوب خان کو ذوالفقار علی بھٹو کا سیاسی باپ قرار دینے لگے۔ حامد میر کہتے ہیں کہ پی ڈی ایم کے ٹوٹنے کی کہانی بڑی دلچسپ ہے۔ چند دن پہلے یوسف رضا گیلانی نے اپنے حامی سینیٹروں کو ظہرانے پر بلایا۔ ان میں بلوچستان عوامی پارٹی یعنی باپ کے سینیٹرز بھی شامل تھے۔ انہی میں سے ایک سینیٹر نے بڑے مزے لے کر مجھے ظہرانے میں ہونے والی باتیں سنائیں اور کہا کہ میں نے کبھی سوچا بھی نہ تھا کہ میں حکومت اور اپوزیشن دونوں کے مزے لوں گا۔
ہمارے اس سینیٹر دوست کا دن گیلانی کے ساتھ اور شام سنجرانی کے ساتھ گزرتی ہے۔
حامد میر کہتے ہیں کہ فی الحال میرا موضوع یہ نہیں ہے کہ ’’باپ‘‘ کے سینیٹرز نے کس کے حکم پر گیلانی کی حمایت کی؟ میرا موضوع یہ ہے کہ ہمارے کچھ سیاست دان نسل در نسل غلطیاں کرتے ہیں لیکن غلطیوں سے سبق نہیں سیکھتے۔ ستم ظریفی دیکھیے کہ ایک طرف بلاول صاحب فرماتے ہیں کہ مسلم لیگ (ن) کے کچھ لوگوں کو گیلانی صاحب کی کامیابی ہضم نہیں ہوئی حالانکہ گیلانی صاحب مسلم لیگ (ن) کے بغیر سینیٹر نہیں بن سکتے تھے۔ دوسری طرف مسلم لیگ (ن) نے اسمبلیوں سے استعفوں کے معاملے پر پیپلز پارٹی کے ساتھ پھڈا کیا اور اب مستعفی ہونے کی بجائے ڈسکہ اور کراچی سے ضمنی الیکشن لڑ رہی ہے۔ دونوں جماعتیں اس اعلامیے کو فراموش کر چکی ہیں جو ستمبر 2020میں آل پارٹیز کانفرنس نے منظور کیا تھا۔ اس اعلامیے کا مقصد پاکستان میں آئین و قانون کی بالادستی قائم کرنا اور غیرسیاسی طاقتوں کی سیاست میں مداخلت بند کرنا تھا۔ اس اعلامیے کی منظوری کے بعد کبھی پیپلز پارٹی اور کبھی مسلم لیگ ن بیک چینل سے انہی طاقتوں سے مذاکرات کرتی رہی ہیں جن پر اپنے جلسوں میں تنقید کیا کرتی تھیں۔ ان بڑی اپوزیشن جماعتوں کےپیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) مت بھولیں کہ میثاقِ جمہوریت کے بعد محترمہ بےنظیر بھٹو نے پرویز مشرف کے ساتھ این آر او کیا لیکن این آر او کے بعد بھی محترمہ کو شہید کردیا گیا۔ شہباز شریف نے ہمیشہ مفاہمت کی سیاست کی لیکن اس سیاست کے باوجود جھوٹے مقدمات میں جیل بھجوا دیے گئے۔
حامد میر کہتے ہیں کہ قول و فعل کا تضاد ہی وزیراعظم عمران خان کی بقا کا راز ہے۔ میں نے اپنی صحافتی زندگی میں اتنی نااہل حکومت نہیں دیکھی جتنی نااہل عمران خان کی حکومت ہے لیکن اس کے باوجود عمران خان کی حکومت قائم ہے کیونکہ اپوزیشن ان سے زیادہ نااہل ہے۔ مسلم لیگ (ن) کی ایک خاتون رکن قومی اسمبلی کو اس ناچیز نے ایک ٹی وی چینل پر یہ کہتے سنا کہ ذوالفقار علی بھٹو جنرل ایوب کو ڈیڈی کہتے تھے۔ اگلے روز ان صاحبہ سے پارلیمنٹ میں ملاقات ہو گئی۔ میں نے پوچھا کہ کیا آپ جانتی ہیں کہ بھٹو صاحب نے معاہدہ تاشقند کے بعد ایوب خان کی حکومت چھوڑ دی تھی اور 1967 میں پیپلز پارٹی بنا کر ایوب خان کے خلاف تحریک میں حصہ لیا تھا؟ موصوفہ نے معصوم سی شکل بنا کر کہا نہیں مجھے ’’اتنی پرانی بات‘‘ کا نہیں پتہ۔ میں نے پوچھا آپ کو یہ تو پتہ ہوگا کہ آپ کے سارے بزرگ کسی زمانے میں پیپلز پارٹی کے ساتھ تھے؟ کہنے لگیں جی ہاں یہ تو پتہ ہے لیکن آپ کیوں پوچھ رہے ہیں؟ میں نے کہا کہ کل رات آپ قوم کو بھٹو اور ایوب خان کا تعلق سمجھا رہی تھیں۔ یہ سن کر وہ مسکرائیں اور بولیں اگر بلاول ہمیں سلیکٹڈ کہے گا تو ہم بھی تو اسے کچھ یاد دلائیں گے۔
حامد میر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) دونوں کو یہ یاد نہیں رہا کہ 2006 میں بےنظیر بھٹو اور نواز شریف نے میثاقِ جمہوریت پر دستخط کئے تھے اور اس میثاق کا مقصد وہی تھا جو ستمبر 2020 میں اے پی سی کے جاری کردہ اعلامیے کا تھا۔ 2006 کے میثاقِ جمہوریت کی وجہ ماضی کی آمر حکومتوں کا سیاستدانوں کے ساتھ سلوک تھا۔ اس حقیقت میں کوئی شک نہیں کہ ذوالفقار علی بھٹو کو ایوب نے پہلی دفعہ وزیر بنایا اور نواز شریف کو ضیا نے وزیر بنایا لیکن دونوں مقبول عوامی رہنما اس وقت بنے جب انہوں نے فوجی اسٹیبلشمنٹ کے خلاف بغاوت کی۔ بھٹو اور نواز نے کبھی بغاوت کی، کبھی مفاہمت کی لیکن طاقتور اداروں کے ساتھ نہ چل پائے۔ بھٹو نے ایوب خان کے خلاف بغاوت کی لیکن شیخ مجیب کے خلاف جنرل یحییٰ خان کا ساتھ دیا۔ اقتدار ملنے کے بعد حمود الرحمٰن کمیشن رپورٹ شائع کرنے سے گریز کیا، طاقتوروں کے دبائو پر معراج محمد خان جیسے لیفٹسٹ وزیروں کو کابینہ سے نکال دیا لیکن پھر پھانسی چڑھا دیے گئے۔ وہ چاہتے تو جنرل ضیا سے سمجھوتہ کر کے اپنی جان بچا سکتے تھے لیکن انہوں نے اصولوں پر سمجھوتے سے انکار کردیا۔ نواز شریف بھی کبھی بغاوت اور کبھی مفاہمت کرتے رہے۔ وہ مشرف کے ہاتھوں برطرف ہوئے اور جب مشرف پر آئین سے غداری کا مقدمہ شروع ہوا تو نواز شریف حکومت نے مشرف کو پاکستان سے بھگا دیا اور انہوں نے طاقتوروں کے دبائو پر کبھی پرویز رشید اور کبھی مشاہد اللہ کو کابینہ سے فارغ کیا، لیکن اسکے باوجود انہیں خود بھی وزارتِ عظمیٰ سے فارغ کر دیا گیا۔
