کیا مولانا بالآخر اقتدار کے سوئمنگ پول میں ہی ڈبکی لگانے جا رہے ہیں؟

عمران خان کی جانب سے مولانا ڈیزل اور فضلو کے خطابات پانے والے مولانا فضل الرحمٰن نے شہباز حکومت کی جانب سے عدالتی ریفارمز پر مبنی آئینی ترامیم کا پیکج سامنے لانے کے بعد سے نون لیگ، پیپلزپارٹی اور تحریک انصاف، سے چن چن کر بدلے لیے ہیں۔ آج بھی پی ٹی ائی اور اتحادی جماعتیں ان کے گھر کے چکر لگا رہی ہیں اور منت ترلا سیشن جاری ہے، لیکن مولانا نے نے دونوں کو لٹکا کر رکھا ہے۔ تاہم سیاسی تجزیہ کار سمجھتے ہیں کہ فیصلہ نہ کرنے اور لٹکا کر رکھنے کی پالیسی زیادہ دیر نہیں چلے گی اور جلد یا بدیر مولانا کو کسی ایک فریق کے ساتھ جانا پڑے گا کیوں کہ حکومت اکتوبر میں ہی ترامیم منظور کرانے کی کوشش کرنے والی ہے۔ اس کے علاوہ مولانا کو طالبان کی جانب سے جان کے خطرات بھی درپیش ہیں اور وہ حکومت کا حصہ بن کر ہی خود کو زیادہ محفوظ بنا سکتے ہیں۔ مولانا حکومت کے ساتھ چلے جائیں یا پی ٹی آئی کے ساتھ، ہر دو صورت میں نتیجہ یہ نکلے گا کہ دوسرا فریق ان کا مخالف ہو جائے گا۔

سیاسی تجزیہ کار کہتے ہیں کہ اگر مولانا حکومت کے ساتھ جاتے ہیں تو انہیں اقتدار میں حصہ ملنے کا واضح امکان موجود ہے، یوں انکی زندگی کو درپیش خطرات بھی ختم ہو جائیں گے اور ان کی انا کی بھی تسکین ہو جائے گی، دوسری جانب اگر وہ پی ٹی آئی کے ساتھ کھڑے رہتے ہیں تو پھر انہیں پانچ برس تک اپوزیشن میں رہنا پڑے گا جو سراسر گھاٹے کا سودا یے اور ان کے سیاسی مزاج سے مطابقت نہیں رکھتا۔ تجزیہ کار کہتے ہیں کہ مولانا صاحب کے تابناک سیاسی کیریئر پر نظر ڈالی جائے تو وہ گناہ بے لذت کے قائل نہیں اور اسی لیے زیادہ عرصہ اپوزیشن میں نہیں رہ پاتے۔ وہ جنرل پرویز مشرف کے دور سے ہمیشہ اقتدار کا حصہ رہے ہیں اور اسکے مزے لیتے آئے ہیں۔ چنانچہ آگے بھی کوئی بعید نہیں کہ وہ کچھ نخرے دکھانے کے بعد ای بار پھر سے حکومت کا حصہ بن جائیں کیونکہ سپریم کورٹ کی جانب سے آرٹیکل 63 اے کا فیصلہ آ گیا تو ویسے بھی حکومت کو مولانا کی حمایت درکار نہیں رہے گی۔ ایسے میں انکے پاس اب مذید نخرے اٹھوانے کا وقت کم رہ گیا ہے۔

لیکن دوسری جانب سینئیر صحافی اور تجزیہ کار سلیم صافی سمجھتے ہیں کہ مولانا ابھی دونوں فریقین کو مذید کھلائیں گے اور ترلے منتیں کروائیں گے۔ ان کے مطابق اتحادی حکومت کو خوش گمانی تھی کہ مولانا سے خاص لوگوں کی بات ہو چکی ہو گی اور انہیں منانے میں زیادہ زور نہیں لگے گا۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ الیکشن کے بعد خاص لوگوں اور مولانا کے تعلقات کافی کشیدہ ہیں اور انہیں آئینی ترامیم کے مسودے کا بھی کوئی علم نہیں تھا۔ پیپلز پارٹی کی قیادت ان کے پاس گئی اور ان کی منت کی کہ پلیز مان جائیں۔ لیکن مولانا نے کہا کہ وہ ترمیمی مسودہ تو دکھا دیں جس کی منظوری کے لیے آپ تعاون مانگ رہے ہیں۔ تب پتہ چلا کہ خود ان کے پاس بھی مسودہ موجود نہیں تھا۔ پھر جب وزیراعظم شہباز شریف ان سے ملنے گئے تو خیال یہ تھا کہ وہ بل کا مسودہ لے کر گئے ہوں گے اور مولانا سے شق وار انکی حمایت مانگیں گے، لیکن حیرت ہے کہ وہ بھی بغیر کسی مسودے کے گئے تھے اور صرف منت ترلے کے ذریعے مولانا کو قائل کرنا چاہ رہے تھے لیکن مولانا ماننے کو تیار نہیں تھے ۔ رات گئے مولانا کے پاس کالے ایک لفافے میں مسودہ بھیجا گیا جسے دن کو انہوں نے اپنے وکلا کے ساتھ ڈسکس کیا۔ بقول مولانا کے ان کے وکلا نے بتایا کہ مسودے میں صرف آئینی عدالت کے قیام کا ذکر نہیں بلکہ اس میں ایک کالا ناگ بھی چھپا ہوا ہے، چنانچہ مولانا نے بل کی حمایت نہ کرنے کا عندیہ دیا اور یوں اراکین پارلیمنٹ قید سے آزاد ہوکر اپنے اپنے گھروں کو چلے گئے۔

منصور شاہ چیف جسٹس بن گئے تو حکومت پریشان کیوں نہیں ہو گی؟

سلیم صافی کا کہنا ہے کہ مولانا کا پی ٹی آئی کے ساتھ اتحاد ناممکن نظر آتا ہے لیکن وہ دروازہ مکمل بند نہیں کر رہے اور روزانہ پی ٹی آئی کے رہنماؤں کو اپنی چوکھٹ پر بلوا کر اپنی اقتدا میں نماز پڑھواتے ہیں۔ ڈیزل اور فضلو کے آوازے کسنے والے عمران خان اور انکی پی ٹی آئی نے مولانا کو جتنا رسوا کیا تھا اس کے اب وہ چن چن کر بدلے لے رہے ہیں، اب پی ٹی آئی والے انہیں حضرت مولانا فضل الرحمٰن کہہ کر پکار رہے ہیں۔ مسلم لیگ (ن) نے بھی مولانا کے ساتھ بڑی بے وفائی کی تھی۔ مولانا پی ڈی ایم کے صدر تھے لیکن الیکشن کے بعد نون لیگ حکومت سازی کےلیے پیپلزپارٹی کے ساتھ بیٹھ گئی اور مولانا کو پوچھا تک نہیں۔ حتیٰ کہ نواز شریف یا شہباز شریف نے انہیں فون تک بھی نہیں کیا۔ نون لیگ گزشتہ چھ ماہ حکومت کے مزے لوٹتی رہی اور مولانا مجبوری میں اپوزیشن کرتے رہے۔ اب جب کہ حکومت کو ترامیم منظور کروانے کےلیے پارلیمنٹ میں مولانا کی ضرورت محسوس ہوئی تو انہوں نے پے درپے ان کے گھر کے پھیرے لگانے شروع کر دیے۔ ایسا وقت بھی آیا کہ مولانا سے ایک پارٹی کا وفد ایک کمرے میں ملاقات کررہا ہے تو دوسری جماعت کی قیادت کا دوسرے کمرے میں انکا انتظار کر رہی ہے۔ یوں مولانا نے خوب اپنا انتقام لے لیا لیکن حکومتی آئینی ترامیم کے بل کی حمایت پھر بھی نہیں کی۔

سلیم صافی اپنے تازہ تجزیے میں کہتے ہیں کہ مولانا کا کمال دیکھئے کہ ان حالات میں بھی سب کے لیے بات چیت کے دروازے کھلے رکھے ہیں۔ ان کی بلاول کے ساتھ ملاقات میں یہ طے ہوا کہ پچھلا ترامیم کا مسودہ گیا بھاڑ میں۔ اب ایک نیا مسودہ پیپلز پارٹی بنائے گی اور ایک مسودہ جے یو آئی بنائے گی۔ پھر ان میں سے ایک مشترکہ مسودہ نکالا جائے گا۔ واضح رہے کہ مولانا کو آئینی عدالت بنانے پر اعتراض نہیں کیوں کہ چارٹر آف ڈیموکریسی کی رو سے وہ بھی ماضی میں اس کی حمایت کر چکے ہیں، لیکن انہیں فوجی عدالتوں کے قیام پر اعتراض ہے۔ دوسری طرف پی ٹی آئی کے ساتھ ان کی یہ انڈر اسٹینڈنگ ہے کہ چونکہ ماضی کی دونوں متحارب جماعتوں کا اتحاد نہیں ہوا اس لئے دونوں ہی کوئی حتمی فیصلہ کرتے وقت ایک دوسرے کے پابند نہیں، لیکن مولانا کا وعدی تھا کہ میں کوشش کروں گا کہ پی ٹی آئی کے زیادہ سے زیادہ نکات کو حکومتی مسودے میں جگہ دلوا دوں۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ حکومت کونسا نیا مسودہ سامنے لے کر آتی ہے اور مولانا دونوں فریقین سے اپنے گھر کے اور کتنے چکر لگواتے ہیں؟ لیکن ایک بات واضح ہے کہ مولانا گناہ بے لذت کے قائل نہیں اور نہ ہی زیادہ عرصہ اقتدار سے باہر رہ سکتے ہیں۔

Back to top button