کیا مولانا شیرانی کو اسرائیل کے حق میں اسٹیبلشمنٹ نے کھڑا کیا ہے؟

پاکستانی اسٹیبلشمنٹ کے ایما پر یہودی ریاست اسرائیل کو وسیع تر قومی مفاد میں تسلیم کرنے کے حق میں کامران خان اور مبشر لقمان جیسے سرکاری اینکرز کے بیانات آنے کے بعد اب مولانا فضل الرحمن کے خلاف حال ہی میں بغاوت کرنے والے فوجی اسٹیبلشمینٹ کے ایک اور گماشتے مولانا محمد خان شیرانی نے بھی اپنے آقاوں کی زبان بولتے ہوئے اسرائیل کو تسلیم کرنے کی تجویز دے دی یے۔
یاد رہے کہ حال ہی میں ایک اسرائیلی اخبارت میں یہ خبر شائع ہوئی تھی کہ ’برٹش پاسپورٹ رکھنے والے پاکستان کے ایک اعلیٰ حکومتی مشیر نے نومبر 2020 میں اسرائیل کا دورہ کیا اور دونوں ملکوں کے مابین سفارتی تعلقات بحال کرنے کے امکانات پر بات چیت کی۔ تاہم وزیراعظم کے معاون خصوصی زلفی بخاری نے تردید کی ہے کہ انہوں نے اسرائیل کا دورہ کیا۔ لیکن اسٹیبلشمینٹ کے قریب سمجھے جانے والے اینکرز مبشر لقمان اور کامران خان کے بعد اب اسٹیبلشمنٹ کے ایما پر مولانا فضل الرحمن کے خلاف کھڑے ہو جانے والے مولانا شیرانی کی جانب سے بھی اسرائیل کو تسلیم کرنے کی تجویز اس بات کی غماز ہے کہ دال میں ضرور کچھ کالا ہے اور دھواں بلاوجہ نہیں اٹھ رہا۔
پاکستانی میڈیا میں اب یہ بحث زوروں پر ہے کہ اسرائیل کو تسلیم کرنے کے لئے گراؤنڈ ورک کرنے کی ’کوشش‘ کے پیچھے اصل میں کون ہے۔ حالانکہ وزیراعظم عمران خان نے ایک ٹی وی انٹرویو میں سختی سے تردید کی ہے کہ ان کی حکومت اسرائیل کو تسلیم کرنے سے حوالے سے سوچ بچار کر رہی ہے۔ لیکن عمران خان کے بارے میں عمومی رائے یہی ہے کہ وہ جو کام نہ کرنے کے عزم۔کا اظہار کرتے ہیں، کچھ عرصے بعد وہی کام وہ ضرور کرتے ہیں۔ ویسے بھی عام عوام اس بات کو سمجھتی ہے کہ اگر اسرائیل کو تسلیم کرنے کی بات کی جا رہی ہے تو یہ جرات عمران خان نہیں کر سکتا۔ ظاہر ہے کہ ملک کی قسمت کے تمام بڑے فیصلے وہی ادارہ اور وہی لوگ کرتے ہیں جن کے کندھوں پر بیٹھ کر عمران خان اقتدار میں آئے۔
اقتدار میں آنے سے پہلے عمران خان نے مسئلہ کشمیر حل کرنے کا وعدہ کیا تھا۔ آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کے عہدے کی معیاد میں تین سال کی توسیع کرتے وقت بھی وزیر اعظم نے یہی موقف اختیار کیا کہ وہ کشمیر کے معاملے ذہن میں رکھتے ہوئے جنرل باجوہ کو توسیع دے رہے ہیں۔ لیکن پھر پاکستانی عوام نے دیکھا کہ بھارت کی مودی سرکار نے کشمیر کو باقاعدہ انڈیا کا حصہ بنا لیا اور پاکستان کی سیاسی اور فوجی قیادت اس حرکت کی زبانی کلامی مذمت سے آگے نہ بڑھی۔ لہذا اگر ہماری اسٹیبلشمنٹ اسرائیل کو تسلیم کرنے کا فیصلہ کرتی ہے تو اس بات کا کم ہی امکان ہے کہ پاکستان میں کوئی بہت بڑا عوامی رد عمل آئے گا۔ ویسے بھی ماضی میں سیاسی حکومتوں کو دباؤ میں لانے کے لیے بنائے گئے قومی دفاع کونسل ٹائپ کے مذہبی اتحاد آج بھی انہی کے قابو میں ہیں جو مولویوں اور جہادیوں کو موقع کی مناسبت سے بے قابو ہونے کو کہہ دیتے ہیں۔
کچھ ایسا ہی معاملہ اسلامی نظریاتی کونسل کے سابق سربراہ مولانا محمد شیرانی کا بھی ہے جنہوں نے اسرائیل کو تسلیم کرنے کے حق میں بیان داغ دیا یے اور ابھی تک کسی مذہبی جماعت کی طرف سے اس حوالے سے کوئی باقاعدہ رد عمل نہیں آیا۔ ظاہر ہے اس ملک میں زیادہ تر مذہبی جماعتیں اسٹیبلشمنٹ کے ٹٹو کا کردار ادا کرتی ہیں لہذا ابھی وہ اس معاملے کو سمجھنے کی کوشش میں مصروف ہوں گی۔
سابق رکن قومی اسمبلی اور اسلامی نظریاتی کونسل کے سابق سربراہ مولانا شیرانی ہمیشہ اپنے متنازع بیانات کے باعث تنقید کی زد میں رہے ہیں۔ ایک سعودی ویب سائیٹ کو خصوصی انٹرویو دیتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ’مغربی حصے میں اسرائیلی اور مشرقی حصے میں فلسطینی ریاست ہونی چاہیے۔‘ مولانا شیرانی کا کہنا تھا کہ فلسطین خلافت عثمانیہ کی ملکیت تھی اس نے اسرائیل کو تسلیم کرلیا ہے، عربوں کا مقدمہ تھا انہوں نے بھی مان لیا ہے لیکن ہزاروں کلومیٹر دور اس مسئلے پر خوامخواہ کی جذباتی باتیں کی جارہی ہیں جو غیر معقول ہیں۔ مولانا شیرانی کا کہنا تھا کہ اسرائیل کے ساتھ تنازع عرب کا ہے یا عجم کا؟ ’اگر دو فریق آپس میں بیٹھ رہے ہیں تو پھر کسی اور کو شرائط رکھنے کی کیا ضرورت ہے۔‘ مولانا محمد خان شیرانی کا کہنا تھا کہ ’بے مقصد کی خون ریزی اور جنگ کا خاتمہ ہونا چاہیے۔ میں اس بات کے حق میں ہوں کہ اسرائیل کو تسلیم کیا جانا چاہیے کیونکہ اسرائیل کو تسلیم کرنے کا مسئلہ مذہبی نہیں بلکہ سیاسی اوربین الاقوامی ہے۔‘
مولانا شیرانی نے تاریخ بیان کرتے ہوئے کہا کہ حضرت داؤد نے ایک ہزار قبل مسیح میں فلسطین کو فتح کیا تھا۔ انہوں نے ہیکل سلیمانی کی بنیاد رکھی اور حضرت اسماعیل نے اسے پایہ تکمیل تک پہنچایا۔ مولانا شیرانی سمجھتے ہیں کہ جس طرح اس سے قبل یہ تجویز سامنے آئی تھی کہ مشرقی علاقے میں اسرائیل اور مغربی حصے میں فلسطین کی ریاست قائم کی جائے۔ بعد میں اسرائیل اسی پر ریاست قرار دیا گیا، لیکن فسلطینوں نے دوسرا راستہ اختیار کیا۔ ان کا کہنا ہے کہ ’اسرائیل کو تسلیم کر کے فلسطین کو اپنا حصہ لے لینا چاہیے اور باقی اپنے حصے کے لیے دعویٰ برقرار رکھنا چاہیے۔‘ ساتھ ہی انہوں نے کہا: ’کیا فلسطین کی زمین اسرائیل پر نہیں بیچی گئی۔ فلسطین نے اپنا حصہ پہلے نہیں لیا جس پر اسرائیل نے آس پاس کے علاقوں پر قبضہ کرلیا۔‘ مولانا شیرانی نے مزید کہا کہ ’آج کی دنیا اقوام متحدہ کے چارٹر اور معاہدوں کے ساتھ جڑی ہے۔ ہمیں بھی انہی کے ساتھ چلنا ہوگا۔‘
اسکے بعد انہوں نے مولانا فضل الرحمان پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ انکی پی ڈی ایم تحریک کا کوئی نتیجہ نکلتا نظر نہیں آرہا ہے اور عمران خان کو سلیکٹڈ کہنے والے خود اپنے گریبان میں جھانک کر دیکھیں وہ سلیکٹڈ ہیں یا منتخب ہیں؟ یاد رہے کہ اسلامی نظریاتی کونسل کے چیئرمین کی حیثیت سے مولانا شیرانی نے ایک مرتبہ کہا تھا کہ ’نافرمانی کرنے پر مرد عورت کی پٹائی کرسکتا ہے،‘ جس پر خواتین کے حقوق کے لیے کام کرنے والی تنظیموں نے ان پر شدید تنقید کی تھی۔ اب ایک مرتبہ پھر ان کی ایک ویڈیو وائرل ہوئی ہے، جس میں وہ پشتو زبان میں کہتے نظر آئے کہ ’اسرائیل کو تسلیم کرنے کا معاملہ بین الاقوامی مسئلہ ہے۔ میں اس کے حق میں ہوں کہ اسے تسلیم کر لینا چاہیے۔‘
تاہم جماعت اسلامی بلوچستان کے امیر مولانا عبدالحق ہاشمی سمجھتے ہیں کہ پاکستان کے لیے اسرائیل کو تسلیم کرنا اپنے پاؤں پر خود کلہاڑی مارنے کے مترادف ہے۔ مولانا عبدالحق ہاشمی کا کہنا تھا کہ اسرائیل کے تسلیم کرنے کے حق میں اگر کوئی بیان دیتا ہے تو اس کی سیاسی وجوہات ہوسکتی ہیں، لیکن کوئی بھی پاکستانی اس موقف کا حامی نہیں ہے۔ ان کے بقول ’اگر ہم نے اسرائیل کو بحیثیت ریاست تسلیم کرلیا تو ہم کشمیر سے دستبردار ہو جائیں گے۔ کیوں کہ پھر کوئی بھی ہمیں مضبوط موقف پیش کرنے نہیں دے گا۔‘ مولانا ہاشمی نے کہا کہ مولانا محمد شیرانی جو بھی موقف اختیار کریں یہ ان کا حق ہے، لیکن عالمی سیاست کا ادراک رکھنے والوں کو اس بارے میں احتیاط سے گفتگو کرنی چاہیئے۔
دوسری جانب مولانا شیرانی کے بیان پر سوشل میڈیا پر بھی صارفین مختلف تبصرے کر رہے ہیں۔ ایک صارف محمود شاہ نے مولانا شیرانی کی اسرائیل کے حق میں ویڈیو پر تبصرہ کرتے ہوئے اپنی ٹویٹ میں کہا کہ ’مولانا شیرانی اسٹیبلشمنٹ کے پرانے رابطہ کار ہیں۔ مشرف دور میں بھی ان کی خدمات سے فائدہ اٹھایا گیا۔ اب لوہا گرم ہے۔ اسی لیے مولانا فضل الرحمٰن اور شیرانی کے درمیان اختلافات تیز تر۔کر دیے گئے ہیں۔ اب شیرانی اور اسٹیبلشمنٹ دونوں کو مولانا فضل کے خلاف اور اسرائیل کے حق میں ایکدوسرے کی ضرورت ہے اور یقینا معاوضے کے طور پر مولانا شیرانی کے ساتھ کچھ نہ کچھ وعدہ ضرور کیا گیا ہوگا۔
