کیا مولانا واقعی اپنے مخالف عمران خان کی گاڑی کا ڈیزل بنیں گے؟

مولانا فضل الرحمٰن نے قیدی نمبر 804 کی ہچکولے کھاتی گاڑی کو ڈیزل فراہم کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے اور اپنی رہی سہی ساکھ کو داؤ پر لگاتے ہوئے سربراہ جے یو آئی مولانا فضل الرحمٰن نے تحریک انصاف کے ساتھ ہاتھ ملا لیا ہے۔ماضی میں ایک دوسرے مولانا ڈیزل اور یہودی ایجنٹ قرار دینے والے عمران خان اور مولانا فضل الرحمٰن شہباز حکومت اور اسٹیبلشمنٹ کیخلاف ایک پیج پر آ گئے ہیں۔ مولانا کی جانب سے اپنی سخت سیاسی مخالف سے ہاتھ ملانے پر جہاں سوشل میڈیا پرانھیں تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے وہیں ناقدین اس اتحاد کو مجبوری کی شادی قرار دے رہے ہیں۔تاہم یہاں سوال پیا ہوتا ہے کہ پی ٹی آئی اور جے یو آئی کے مل کر حکومت مخالف احتجاج سے زیادہ فائدہ کس پارٹی کو ہوگا اور کیا یہ احتجاج شہباز حکومت کو ٹف ٹائم دینے مین کامیاب ہو گا؟

سینیئر تجزیہ کار مجیب الرحمان شامی کے مطابق اگر پی ٹی آئی اور جے یو آئی مل کر احتجاج کرتے ہیں تو اس کا زیادہ فائدہ پی ٹی آئی کو ہوگا اور اس کی طاقت میں بھی اضافہ ہو گا، اس کی بڑی وجہ یہ ہے کہ وہی احتجاج کامیاب تصور کیا جاتا ہے جس میں لوگوں کی بڑی تعداد شریک ہو، جے یو آئی کے پاس اگرچہ اسٹریٹ پاور زیادہ ہے  تاہم وہ اس کا مظاہرہ نہیں کرے گی تاکہ پی ٹی آئی والے اسے کیش نہ کروا سکیں۔مجیب الرحمان شامی کا مزید کہنا ہے کہ اگر جے یو آئی پاکستان تحریک انصاف کے ساتھ مل کر احتجاج کرے گی تو ایک دلچسپ چیز سامنے آئے گی کہ جے یو آئی کا عام انتخابات میں جن نشستوں پر دھاندلی کا الزام ہے اس میں سے بیشتر نشستیں خیبرپختونخوا کی ہیں اور وہاں پی ٹی آئی کامیاب ہوئی ہے، تو جے یو آئی کیسے پی ٹی آئی کے ساتھ مل کر احتجاج کرے گی؟

مجیب الرحمان شامی کا کہنا تھا کہ اگر مولانا فضل الرحمان اس اتحاد کو وسیع کرتے ہیں اور ایک بڑی سیاسی مفاہمت کی بنیاد رکھتے ہیں تو اس کا فائدہ پورے ملک کو ہوگا، اس طرح دیگر پارٹیاں بھی اس میں شامل ہوسکیں گی، اگر سیاسی جماعتیں یہ طے کر لیں کہ آئندہ ملک میں صاف اور شفاف انتخابات کا انعقاد کرانا ہے تو یہ ایک مثبت عمل ہوگا اور اس سے ملک میں سیاسی استحکام آئے گا۔

اپوزیشن کے مل کر احتجاج کرنے اور حکومت کو ٹف ٹائم ملنے سے متعلق سوال پر مجیب الرحمان شامی نے کہا کہ جب حکومت ایک مرتبہ قائم ہوجاتی ہے تو اسے صرف پارلیمنٹ میں تحریک عدم اعتماد لانے، مارشل لاء نافذ کرنے یا عدلیہ کے ذریعے ختم کیا جاسکتا ہے، اس وقت عدلیہ میں اتنی طاقت نہیں ہے کہ وہ منتخب حکومت کو گھر بھیجے، اگر احتجاج کرنے والوں کو فوج کی سپورٹ نہ ہو تو کیسے منتخب حکومت کو گھر بھیجا جاسکتا ہے۔

دوسری جانب سینئر صحافی انصار عباسی کا کہنا ہے کہ اگر پی ٹی آئی اور جے یو آئی مل کر احتجاج کرنے پر اتفاق کر لیتے ہیں تو اس کا اصل فائدہ پی ٹی آئی کو ہوگا، اس میں کوئی شک نہیں کہ پی ٹی آئی کے پاس اسمبلیوں میں نشستیں زیادہ اور جے یو آئی کے پاس کم ہیں لیکن احتجاجی مظاہروں کے حوالے سے جے یو آئی کا سیاسی وزن پی ٹی آئی سے زیادہ ہے جس کا وہ بھر پور استعمال کرے گی۔انصار عباسی کے مطابق اپوزیشن جماعتوں کا احتجاج حکومت کو کتنا ٹف ٹائم دے گا اس کا تعلق احتجاج سے نہیں ہوتا بلکہ اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ ہے، 2014ء کے دھرنے میں اسٹیبلشمنٹ عمران خان کے ساتھ تھی لیکن اب اسٹیبلشمنٹ حکومت کے پیچھے کھڑی ہے، اس لیے احتجاج کرنے والوں کا حکومت کو ٹف ٹائم دینا مشکل ہوگا، حکومت کو ٹف ٹائم اپوزیشن کا احتجاج نہیں بلکہ مشکل معاشی حالات ضرور دے سکتے ہیں۔

Back to top button