کیا نازیہ حسن کے شوہر پر زہر دینے کا الزام درست ہے؟

پاکستان کی پہلی پاپ سٹار نازیہ حسن کی موت کے 21 سال بعد ان کے بھائی زوہیب حسن نے یہ الزام عائد کیا ہے کہ نازیہ کی موت طبعی نہیں تھی بلکہ ان کے سابق شوہر مرزا اشتیاق بیگ نے انھیں زہر دے کر قتل کیا۔ تاہم مرزا اشتیاق بیگ نے اس الزام کو بے بنیاد اور جھوٹ کا پلندہ قرار دیا ہے۔
زوہیب حسن نے اپنے انٹرویو میں الزام لگایا کہ پاکستان کے معروف صنعتکار مرزا اشتیاق بیگ سے شادی کے بعد نازیہ حسن نے زندگی میں دکھ ہی دکھ دیکھے۔ انکا دعوی ہے کہ اپنی موت سے کچھ عرصہ قبل نازیہ نے انھیں بتایا کہ اشیاق نے مجھے اس قدر تنگ کیا ہے کہ میں مرنے والی ہوں۔ زوہیب کے مطابق مرزا اشتیاق بیگ کے غیر انسانی سلوک کی وجہ سے نازیہ حسن نے اپنی موت سے چند ماہ قبل طلاق لے لی تھی۔ زوہیب حسن نے دعوی کیا کہ اشتیاق بیگ نے ان کی بہن کو برطانیہ میں قیدی بنا کر رکھا۔ زوہیب نے افسوس کا اظہار کیا کہ انہوں نے اپنی بہن نازیہ کی اشتیاق بیگ سے شادی کروا کر بہت بڑی غلطی کی جس کا خمیازہ نازیہ کی عین جوانی میں موت کی صورت میں بھگتنا پڑا۔ زوہیب نے دعوی کیا کہ نازیہ حسن نے برطانوی پولس سکاٹ لینڈ یارڈ کو خود بتایا تھا کہ ان کے سابق شوہر اشتیاق بیگ نے انھیں زہر دیا ہے یعنی نازیہ کی موت کینسر کی وجہ سے نہیں بلکہ زہر کے باعث ہوئی۔ تاہم مرزا اشتیاق بیگ کے قریبی ذرائع کا کہنا ہے کہ ساری دنیا جانتی ہے نازیہ حسن کینسر کی مریضہ تھیں جسکا انہوں نے لندن میں ایک لمبا عرصہ علاج کروایا لیکن اسی بیماری کے ہاتھوں انکی جان بھی گئی۔
یاد رہے کہ معصوم چہرے والی نازیہ حسن نے صرف دس برس کی عمر میں گلوکاری کے میدان میں قدم رکھا۔ 1979 میں پی ٹی وی پر بچوں کے لئے ترتیب دیئے گئے موسیقی کے پروگرام کلیوں کی مالا میں نازیہ نے اپنا پہلا گانا گایا اور ایسی شاندار پرفامنس دی کہ سب ششدر رہ گئے۔ پھر یہ لڑکی اپنے چچا کے ساتھ برطانیہ کے علاقے مانچسٹر چلی گئی۔ نازیہ اپنی بھائی زوہیب حسن کے ساتھ انگلینڈ میں مختلف محفلوں اور تقاریب میں گٹار کے ساتھ نغمے گاتی رہیں۔ اسی دوران 80 کی دہائی میں ماضی کے معروف بھارتی اداکار اور ہدائیتکار فیروز خان برطانیہ گئے۔ انہیں اپنی نئی فلم قربانی کے لئے ایسا گانا چاہیئے تھا جو فلم کو چارچاند لگادے۔ کہا جاتا ہے کہ ایک محفل میں فیروز خان نے نازیہ کو گاتے سنا تو انہیں اپنی کی فلم میں بطور گلوکارہ چانس دینے کی آفر کی۔ نازیہ نے آفر قبول کی اور یہ مشہور گانا گا دیا ۔۔۔ آپ جیسا کوئی میری زندگی میں آئے ،تو بات بن جائے ۔پھر کیا تھا اسی گانے کی وجہ سے فلم قربانی ہٹ ہو گئی اور زینت امان بھارت کی نمبر ون ہیروئن بن گئی۔ پندرہ سال کی عمر میں نازیہ حسن کو فن فئیر ایوارڈ سے نواز گیا۔ نازیہ پاکستان کی پہلی لڑکی تھی جسے اس چھوٹی عمر میں موسیقی کے اتنے بڑے ایوارڈ سے نواز گیا۔ فلم قربانی کی ریلیز کے بعد نازیہ اور ان کے بھائی زہیب حسن کا میوزک البم ریلیز ہوا جس کا نام تھا ڈسکو دیوانے ۔اس میوزک البم نے ریکارڈ بریکنگ بزنس کیا، ایشیاء کے میوزک چارٹ پر یہ البم نمبر ون رہا۔ تاہم کیمرہ کیمرہ نازیہ کا آخری میوزک البم ثابت ہوا۔ اسی دوران انہیں کولمبیا یونیورسٹی کی طرف سے اسکالرشپ کی آفر دی گئی، لیکن اادوران یہ دلخراش خبر سامنے آئی کہ وہ کینسر کے موذی مرض کا شکار ہو چکی ہییں۔ یوں 13 اگست 1965 کو پیدا ہونے والی نازیہ 35 برس کی مختصر زندگی گزار کر 3 اپریل 2000 کو اس فانی دنیا سے رخصت ہو گئیں۔
نازیہ کی وفات کو دو دھائیاں بیت گیئں لیکن اس کے گائے گئے نغمے آج بھی ری مکس ہورہے ہیں اور فلموں میں سنائی دے رہے ہیں۔ یوں آج بھی نازیہ کی خوبصورت شخصیت اور سریلی آواز ہمیں سنائی اور دکھائی دے رہی ہے۔
